PTI کا صدر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا بائیکاٹ

تحریک انصاف کے ارکان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر عارف علوی کے خطاب کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کر دیا۔

ایوان صدر ملکت عارف علوی کے خطاب کے دوران تقریباً خالی رہا اور442 ارکان کے ایوان میں صرف 14اراکین موجود تھے جو کہ صدرکے خطاب سے عدم دلچسپی ظاہر کرتے رہے، اسپیکرکی جانب سے اراکین کو نشستوں پر جانے کی ہدایت بھی کی جاتی رہی،صدرمملکت نے اراکین کی عدم توجہ کے باوجود اپنا خطاب جاری رکھا۔

صدر کے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کا کوئی بھی ایم این اے یا سینیٹر موجود نہیں تھا تاہم پی ٹی آئی کے چند منحرف اراکین ایوان میں موجود تھے۔

تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلی کو نہیں مانتے اس لیے بائیکاٹ کیا، مشترکہ اجلاس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی کر رہےہیں،انہیں بھی نہیں مانتے۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اورجمعیت علماء اسلام ن بھی صدر مملکت کے خطاب کا غیر اعلانیہ بائیکاٹ کیا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ پولرائزیشن ختم کرنے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان میں صاف و شفاف انتخابات کی مانگ رہتی ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہر الیکشن کو چیلنج کرنے سے پاکستان میں استحکام کیسے آئے گا؟ سیاسی جماعتوں کو بیٹھ کر بات چیت کرکے ایک دوسرے کو مطمین کریں، ضد کو چھوڑے بغیر پولرائزیشن ختم نہیں ہوتی۔

انکا کہناتھا میں سمجھتا ہوں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدہ مناسب ہے لیکن پاکستان میں مستقل سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام بہت ضروری ہے، ملک میں مہنگائی کو کم کرنے کے لیے حکومت کو کوشش کرنی ہوگی، جیسے جیسے سولر انرجی کی طرف جائیں تو آئندہ چند برس میں یوٹیلیٹی بھی کم ہوجائے گی۔

صدر نے کہا سیلاب کے نقصان کو کم کرنے کے لیے ملک میں نئے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے، افواج پاکستان نے سیلاب میں لوگوں کی مدد کی، سیلاب میں افواج پاکستان کا کردار لائق تحسین ہے،سیلاب سے فصلوں کو نقصان پہنچا اور 1500 سے زائد لوگ جاں بحق ہوئے، حکومت فصلوں کی انشورنس متعارف کرائے۔

انہوں نے کہا کہ سائبر پاور میں چھوٹے چھوٹے ملک پاکستان سے آگے ہیں، دنیا کی جنگیں اب سائبر ورلڈ میں ہوں گی اس لیے دیکھنا ہوگا کہ اس میں ہماری تیاری کیا ہے۔

عارف علوی نے کہا کہ ملک میں آن لائن ایجوکیشن کے فروغ کے لیے کام کیا جانا چاہیے، ملک میں 2 کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، تعلیم کے فروغ کے لیے مساجد کا کردار اہم بنایا جا سکتا ہے،گلوبل وارمنگ کے اثرات پاکستان پر پڑ رہے ہیں، گلوبل وارمنگ میں پاکستان کا ایک فیصد بھی حصہ نہیں ہے، دنیا کو پاکستان کے سیلاب سے متعلق احساس ہے، این ڈی ایم اے، پاکستان ریڈ کراس، بوائر اینڈ گرلز اسکاؤٹس کو تیار ہونا چاہیے۔

انکا کہناتھامیڈیا کی آزادی جمہوریت کی آزادی کے لیے بہت ضروری ہے، سوشل میڈیا بند کرنے سے مالی نقصان ہوتا ہے، فیک نیوز سے دنیا پریشان ہے۔

Back to top button