PTI کیلئے خیبرپختونخواہ میں فوری حکومت بنانا ناممکن کیوں؟

آٹھ فروری کے انتخابات میں صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے کامیاب ہونے والے نو منتخب اراکین اسمبلی کے گروہ کے پاس حکومت بنانے کے لیے صوبائی اسمبلی میں مطلوبہ اراکین کی تعداد پوری ہونے کے باوجود حکومت سازی مین ان کے راستے میں کئی قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ ایک طرف عمران خان نے سانحہ 9 مئی کے مطلوب ملزم کو وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا امیدوار نامزد کر کے مقتدر قوتوں سے علی الاعلان مزاحمت کا عندیہ دے دیا ہے دوسری جانب تاحال خیبرپختونخوا میں کوئی بھی جماعت تحریک انصاف کے ساتھ ملکر حکومت بنانے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔ جس کی وجہ سے کے پی کے میں حکومت سازی کا عمل کھٹائی میں پڑا نظر آتا ہے۔

خیال رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے شق 92 چھ کے مطابق قومی یا صوبائی اسمبلی کے لیے جیتنے والے آزاد نو منتخب اراکین کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے حتمی نیتجہ جاری ہونے کے بعد تین دن میں کسی سیاسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا ضروری ہے۔یہی بات آئین پاکستان کے آرٹیکل 51 اور آرٹیکل 106 میں بھی درج ہے کہ آزاد حیثیت سے جیتنے والے نو منتخب اراکین کسی رجسٹرڈ سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔آزاد اراکین کی کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کی صورت میں اس پارٹی کو اسمبلی کی مخصوص نشستیں میں الاٹ ہو جاتی ہیں اور پی ٹی آئی بھی وفاق میں مجلس وحدت المسلمین سے اتحاد کر کے یہی فائدہ اٹھانا چاہ رہی ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں مجلس وحدت المسلمین اور خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔تاہم خیبر پختونخوا اسمبلی میں جماعت اسلامی کے اتحاد سے انکار کر دیا ہے۔ ایسی صورت میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اب خیبرپختونخواہ میں حکومت بنانے کے لیے کون سی قانونی آپشنز موجود ہو سکتی ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق پی ٹی آئی کو حکومت بنانے کے لیے ایک راستہ تو یہی ہے کہ ان کے آزاد اراکین کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرکے وفاق یا صوبے میں حکومت بنائیں۔تاہم ان کے خیال میں پی ٹی آئی کی حمایت سے کامیاب ہونے والے آزاد امیدوار ان کی آزاد حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی حکومت سازی کر سکتے اور اپنا وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ منتخب کر سکتے ہیں۔تاہم آزاد اراکین اسمبلی میں گروپ بندی کے رجحانات زیادہ پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے حکومت میں استحکام نہیں آئے گا کیونکہ ایسی صورت میں ہر وقت وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کے امکانات موجود ہونگے کیونکہ ’آزاد اراکین کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت کسی سیاسی جماعت کا رکن ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ وہ سیاسی جماعت کے ڈسپلن کے پابند ہوتے ہیں۔‘۔’قانونی ماہرین کے مطابق آزاد اراکین اسمبلی حکومت سازی کے بعد بھی کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں تاہم’کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے یا آزاد حیثیت میں حکومت بنانے کے علاوہ قانون میں آزاد امیدواروں کے لیے تیسرا کوئی آپشن موجود نہیں ہے۔‘

مبصرین کے مطابق اس وقت اسمبلیوں میں ایک منفرد صورت حال کا سامنا ہے کیونکہ آزاد اراکین کی حکومت اور ان کا منتخب کردہ وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ دراصل عوامی وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم ہی ہو گا کیونکہ پارلیمانی نظام میں کسی اسمبلی کا منتخب وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم کسی سیاسی جماعت یا ایوان کا نہیں بلکہ عوامی ہونا چاہیے اور اگر وہ عوامی امنگوں پر پورا نہیں اترتا تو اراکین ان کو عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔مبصرین کے مطابق پہلے یہی ہوتا تھا کہ ایوان میں صدر کسی وزیر اعظم منتخب کرنے کے لیے ایوان سے ووٹ مانگتے تھے اور زیادہ ووٹ لینے والا منتخب ہوتا تھا لیکن اب قانون میں تبدیلی کے بعد دو وزیر اعظم کے امیدواران کھڑے کیے جاتے ہیں۔‘دو میں سے ایک زیادہ ووٹ لینے کے بعد وزیر اعظم یا وزیر اعلی بنا جاتا کے۔ دونوں کے اگر ووٹ برابر آتے ہے، تو دوسری بار ووٹنگ کی جاتی ہے

Back to top button