PTI کے کتنے آزاد ممبران PMLN میں شامل ہوں گے؟

الیکشن کے بعد حکومت سازی ایک چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہے، موجودہ حالات میں کوئی بڑی جماعت وفاق میں حکومت بنانے کیلئے تیار نہیں، جس کی وجہ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کا بڑی تعداد میں فتح کیساتھ سامنے آنا ہے، انتخابات کے بعد آزاد امیدواران نے خیبر پختونخوا میں کلین سویپ اور پنجاب میں بڑی تعداد میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب ہوئے، اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) اِن آزاد امیدواروں کو اپنی پناہ میں لینے کی کوششیں کر رہی ہے۔جمعے کو بھی چار پنجاب اسمبلی جبکہ ایک قومی اسمبلی کے منتخب آزاد امیدوار پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے جاری کردہ بیان کے مطابق آج مزید قومی اسمبلی کی ایک جبکہ پنجاب اسمبلی کی 6 نشستیں مسلم لیگ ن کو مل گئی ہیں، جن میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 92 بھکر سے آزاد حیثیت میں انتخاب جیتنے والے رشید اکبر نوانی، پی پی 90 بھکر سے احمد نواز نوانی، پی پی 92 اور 93 بھکر سے کامیاب عامر عنایت شاہانی، پی پی 272 مظفر گڑھ سے جیتنے والے رانا عبدالمنان، پی پی 205 خانیوال سے اکبر حیات ہراج اور پی پی 212 خانیوال سے اصغر حیات ہراج مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے۔مجموعی طور پر اب تک 8 قومی اسمبلی کے منتخب اراکین نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی ہے جن میں ایک کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے منتخب 20 اراکین نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی ہے جن میں سے صرف چار کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے تھا۔ مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والے پی ٹی آئی کے پہلے آزاد منتخب رکن قومی اسمبلی وسیم قادر تھے۔ ان کے علاوہ رضا حیات ہراج قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 144 خانیوال سے، این اے 189 سے سردار شمشیر مزاری، این اے 48 سے آزاد امیدوار راجہ خرم نواز، این اے 54 سے آزاد امیدوار بیرسٹر عقیل ملک، این اے 146 سے منتخب ہونے والے پیر ظہور حسین قریشی، این اے 253 سے آزاد امیدوار بیرسٹر میاں خان بگٹی جبکہ آج این اے 92 سے منتخب ہونے والے آزاد امیدوار رشید اکبر نورانی پاکستان مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے ہیں۔مسلم لیگ ن میں شامل ہونے والے این اے 92 سے آزاد امیدوار رشید اکبر خان نے ایک لاکھ 42 ہزار 761 ووٹ لے کر کامیابی اپنے نام کی تھی، این اے 121 سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد آزاد امیدوار وسیم قادر 78 ہزار 703 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، این اے 189 سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد آزاد امیدوار احمد علی خان ناکام رہے۔این اے 48 سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد آزاد امیدوار علی بخاری ناکام رہے تاہم راجہ خرم شہزاد نواز 69 ہزار 699 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، این اے 54 سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد آزاد امیدوار عذرہ مسعود ناکام رہیں تاہم آزاد امیدوار عقیل ملک 85 ہزار 912 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ این اے 146 سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد آزاد امیدوار عمران شاہ ناکام رہے تاہم آزاد امیدوار ظہور حسین قریشی ایک لاکھ 12 ہزار 666 ووٹس کے ساتھ کامیاب رہے۔چار آزاد امیدور مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر اب تک 20 پنجاب اسمبلی کے آزاد منتخب اراکین نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی ہے جن میں 4 کا تعلق پی ٹی آئی سے تھا۔ ان کے علاوہ 16 آزاد منتخب ہونے والے اراکین کا تعلق براہ راست کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں تھا۔پی پی 90 سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد آزاد امیدوار عرفان اللہ خان نیازی نے 43957 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی، پی پی 48 سے آزاد امیدوار خرم خان ورک 47 ہزار 340 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔پی پی 49 سے ازاد امیدوار محمد فیاض 48 ہزار 219 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔پی پی 94 سے تیمور علی بطور آزاد امیدوار 47 ہزار 879 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔پی پی 96 سے آزاد امیدوار سید ذوالفقار علی شاہ 52 ہزار 721 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔ پی پی 283 سے پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار غلام اصغر خان نے 56 ہزار 985 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ پی پی 288 سے پی ٹی آئی کے ملک اقبال ثاقب ناکام رہے اور ان کے مقابلے میں محمد حنیف پتافی 41 ہزار 657 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، پی پی 289 سے پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار سردار احمد علی خان ناکام رہے جبکہ ان کے مقابلے میں آزاد امیدوار محمود قادر خان کامیاب ہوئے تھے۔
