پی ٹی آئی نے عمران خان رہائی فورس بنانے کی منصوبہ بندی ترک کردی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے "عمران خان رہائی فورس” بنانے کی مجوزہ منصوبہ بندی اندرونی اعتراضات اور قانونی خدشات کے باعث ترک کر دی۔جس کو پارٹی کی ناکامی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک ٹی وی نے پی ٹی آئی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آئندہ احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم فیصلہ سازی کا اختیار اب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے بجائے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے پاس ہوگا، جو سڑکوں پر کسی بھی تحریک یا مارچ کے آغاز اور اس کے وقت کا تعین کریں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق نے نہ صرف اپنی صفوں میں بلکہ اتحادی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بھی تفصیلی مشاورت کی ہے، تاکہ ایک متفقہ اور محتاط حکمت عملی اپنائی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سینئر قیادت نے ماضی کے تلخ تجربات، خصوصاً 9 مئی واقعات اور 2024 کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران جھڑپوں، کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئندہ ایسے حالات سے بچا جائے۔
پارٹی رہنماؤں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل کی کسی بھی تحریک کو مکمل طور پر پُرامن رکھا جائے گا اور اسے آئینی دائرے میں چلایا جائے گا۔
دوسری جانب مبصرین کے مطابق جارحانہ طرزِ عمل سے ہٹ کر روایتی سیاسی جدوجہد کی طرف یہ تبدیلی پارٹی کے اندر ایک نئی سوچ کی عکاسی کرتی ہے، جہاں نسبتاً محتاط اور عملی مؤقف رکھنے والے رہنما اب زیادہ اثر انداز ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
عمران خان رہائی فورس کے نام پرPTIکی نجی ملیشیا کا قیام
یاد رہے کہ رمضان سے قبل وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک مخصوص فورس کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے لیے پارٹی کارکنوں کو منظم کرنا تھا۔
منصوبے میں رضاکاروں سے حلف لینے اور ارکان کی باقاعدہ رجسٹریشن کے بعد منظم مہم چلانے کی تجویز شامل تھی، لیکن یہ خیال جلد ہی پارٹی کے اندر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ گوہر خان نے اس تجویز کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی کسی فورس کی تشکیل عسکریت پسندی کے زمرے میں آ سکتی ہے اور پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے۔
