پی ٹی آئی کا غلطی مان کر سٹینڈنگ کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ؟

تحریکِ انصاف کے اندرونی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ پارٹی قیادت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفے دینے کی غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے دوبارہ سے ان کمیٹیوں میں شامل ہونے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے تاکہ حکومت کو ٹف ٹائم دیا جا سکے، تاہم یہ فیصلہ عمران خان کی رضامندی پر منحصر ہے۔

پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سٹینڈنگ کمیٹیوں کی چیئرپرسن شپ دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، خاص طور پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی، تاکہ حکومت کے متنازعہ فیصلوں اور پالیسیوں کے خلاف مؤثر پارلیمانی حکمت عملی بنا کر مزاحمت کی جا سکے۔ پارٹی کے کئی رہنماؤں کا خیال ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹیوں سے علیحدہ ہونا ایک غلط فیصلہ تھا کیونکہ اس سے حکومت بغیر مؤثر پارلیمانی نگرانی کے من مرضی کے فیصلے کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ سال اگست میں عمران خان کی ہدایت پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کی تمام سٹینڈنگ کمیٹیوں سے دستبرداری اختیار کی تھی۔ اس وقت پارٹی کا موقف تھا کہ کمیٹیوں میں شرکت جاری رکھنے سے پارٹی کی احتجاجی تحریکوں اور سیاسی سرگرمیوں پر توجہ متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم اب زیادہ تر رہنما سمجھتے ہیں کہ یہ قدم پارٹی کے مفاد میں نہیں تھا اور حکومت کو اہم مواقع فراہم کیے۔ پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے آف دی ریکارڈ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے کئی اہم فیصلے زیر التوا ہیں اور یہ تمام فیصلے قیدی رہنما عمران خان اور پارٹی ارکان کے درمیان ملاقات سے مشروط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ عمران خان اور پارٹی ارکان کے درمیان ملاقات کا انتظام کرے تاکہ انہیں قائل کیا جا سکے کہ سٹینڈنگ کمیٹیوں میں واپسی ضروری ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرپرسن شپ چھوڑنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا کیونکہ پارٹی نے اس فورم کا استعمال حکومت کی مبینہ بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے کیا تھا۔ پارٹی کے سینئر رہنما کہتے ہیں کہ مالیات، قانون و انصاف، اور انسانی حقوق کی کمیٹیوں کو بھی خالی کرنا غلطی تھی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حال ہی میں پنجاب اسمبلی کے پی ٹی آئی کارکنان پولیس کے ہاتھوں بدسلوکی کا شکار ہوئے، جس پر استحقاق کمیٹی نے کارروائی کی، جبکہ پی ٹی آئی کے پارلیمانی ارکان کو اکثر ہراساں کیا جاتا ہے مگر وہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی پرائیویلیج کمیٹیوں میں یہ معاملہ لے کر نہیں جا سکتے کیونکہ وہ ان کمیٹیوں سے باہر ہو چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زیر التوا تمام پارٹی فیصلے قیدی رہنما عمران خان اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقات سے منسلک ہیں۔ پارٹی کے قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس معاملے پر کہا کہ سٹینڈنگ کمیٹیوں میں دوبارہ شامل ہونے کا فیصلہ پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کرے گی، مگر حتمی اختیار صرف عمران خان کے پاس ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، پی ٹی آئی کا سٹینڈنگ کمیٹیوں سے نکلنے کا فیصلہ 2022 میں اس وقت کے اقدام کی عکاسی کرتا ہے جب عمران خان نے عدم اعتماد کے ووٹ کے بعد پارلیمنٹ چھوڑ دی تھی۔ اس کے باوجود، کمیٹیوں سے دستبرداری کے بعد بھی حکومت کی کارروائی متاثر نہیں ہوئی کیونکہ کورم برقرار رہتا ہے اور خزانے کی نشستوں کے ارکان نے پی ٹی آئی کی غیر موجودگی میں اپنی نمائندگی کی۔ نتیجتاً، اس فیصلے سے عملی طور پر صرف پی ٹی آئی نقصان میں رہی۔

ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے نمائندوں کی غیر موجودگی پارلیمانی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہے اور پی ٹی آئی کے لیے کمیٹیوں میں واپسی ضروری ہے تاکہ جمہوری تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

تیراہ وادی سے 70 ہزار افراد کی ہجرت کا ذمہ دار وفاق یا PTI

اس حوالے سے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کہ سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ پی ٹی آئی رہنما کمیٹیوں میں واپسی کے حق میں ہیں، لیکن عمران خان کی مخالفت کرنے کی ہمت اکثر کسی میں نہیں ہے، کیونکہ وہ ان کے اعتماد میں رہنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول عمران خان پہلے پی ٹی آئی کے 8 فروری کے ملک گیر احتجاج کے نتائج دیکھیں گے اور پھر سٹینڈنگ کمیٹیوں کے معاملے پر فیصلہ کریں گے۔ قومی اسمبلی کے ذرائع کے مطابق سپیکر ایاز صادق نے کئی بار پی ٹی آئی سے کہا ہے کہ وہ کمیٹیوں میں واپس آئے اور کسی بھی واپسی کا اقدام خوش آئند ہوگا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی کی غیر موجودگی نے حکومت کو پارلیمانی کارروائی میں فائدہ دیا اور پارٹی نے خود اہم موقع کھو دیا۔ اب پی ٹی آئی کی کوشش ہے کہ کمیٹیوں میں واپسی سے پارلیمانی مزاحمت کو مستحکم کیا جائے اور حکومت کے متنازعہ فیصلوں پر مؤثر نگرانی کی جا سکے۔

Back to top button