احتجاج کی کال ناکام ہونے کے بعد PTI نے مفاہمتی رویہ اپنا لیا

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 8 فروری کو دی جانے والی ملک گیر شٹر ڈاؤن اور احتجاج کی کال مکمل طور پر ناکام ہونے کے بعد تحریک انصاف نے اپنی حکمتِ عملی میں واضح تبدیلی کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مفاہمت کی جانب قدم بڑھانا شروع کر دیے ہیں۔
احتجاجی سیاست میں ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت اب تصادم کے بجائے مذاکرات اور رابطوں کے راستے کو ترجیح دیتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے واضح اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت اسلام آباد پر کسی قسم کی یلغار کا کوئی منصوبہ نہیں بنا رہی جبکہ عمران خان کی جانب سے بھی ہدایت ہے کہ اب احتجاج کا راستہ اختیار نہ کیا جائے۔سیاسی حلقوں میں یہ پیش رفت ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ 8 فروری کے احتجاج سے قبل پی ٹی آئی کی جانب سے سخت بیانات، شٹر ڈاؤن اور بڑے عوامی ردعمل کے دعوے کیے جا رہے تھے، تاہم عملی طور پر یہ احتجاج نہ صرف غیر مؤثر ثابت ہوا بلکہ کئی بڑے شہروں میں معمولاتِ زندگی بھی متاثر نہ ہو سکے۔ اس ناکامی کے بعد پارٹی کے اندر یہ احساس مزید گہرا ہوا کہ مسلسل احتجاجی سیاست نہ تو عوامی حمایت حاصل کر پا رہی ہے اور نہ ہی سیاسی اہداف کے حصول میں کامیاب ہو رہی ہے۔
اسی تناظر میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان برف پگھلے گی یا نہیں؟ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے بیانات، رابطے اور پسِ پردہ سرگرمیاں اسی تاثر کو تقویت دیتی دکھائی دیتی ہیں کہ دونوں فریق ایک مرتبہ پھر بات چیت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان کے حالیہ بیان اور سینیئر صحافیوں کے تجزیوں کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان رابطوں اور اعتماد سازی کے عمل میں تیزی آ رہی ہے۔ ان کے بقول سیاسی ماحول میں واضح تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے اور فریقین تصادم کے بجائے مفاہمت کے راستے پر غور کر رہے ہیں۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے عمران خان سے ملاقات کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے اور امکان ہے کہ جمعرات تک پی ٹی آئی قیادت کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اجازت مل جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے اپنی جانب سے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے اور بات چیت کا عمل کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے نہایت دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب اسلام آباد کی جانب کسی مارچ کا کوئی منصوبہ نہیں اور نہ ہی بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے دارالحکومت پر دھاوا بولنے کی کوئی کال دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی کنٹینر اسلام آباد آنے کے لیے تیار نہیں اور پارٹی نے احتجاجی سیاست سے وقتی طور پر کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔
وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کے مطابق عمران خان اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے درمیان اڈیالہ جیل میں ملاقات بھی متوقع ہے، جو ممکنہ طور پر ایک یا دو ہفتوں کے اندر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات وزیر اعظم شہباز شریف اور محمود خان اچکزئی کی متوقع ملاقات سے بھی پہلے ہو سکتی ہے، جسے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ اختیار ولی خان نے واضح کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے اپنی شرائط پہلے ہی طے کر رکھی ہیں، جن میں کسی بھی غیر آئینی مطالبے کو مسترد کرنا شامل ہے۔ ان کے مطابق اگر بات چیت کا آغاز ہوتا بھی ہے تو نئے انتخابات کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جائے گا اور پی ٹی آئی سے مذاکرات صرف آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کیے جائیں گے۔
ادھر خیبر پختون خواہ کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے پشاور کے سینیئر صحافی لحاظ علی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اعتماد کی فضا بتدریج بحال ہو رہی ہے۔ انکے مطابق دونوں فریقین کے درمیان برف کافی حد تک پگھل چکی ہے اور قوی امکان ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اگلے ہفتے یا رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کریں گے۔ لحاظ علی کے مطابق اس اعتماد سازی میں دو اہم شخصیات نے کلیدی کردار ادا کیا، جن میں بیرسٹر محمد علی سیف اور صوبائی کابینہ کے ایک اہم وزیر شامل ہیں۔ ان روابط کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ صوبائی حکومت اور ادارے مل کر کام کریں گے، احتجاج پرامن ہوگا اور فوجی آپریشنز سے متعلق قانون سازی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
خیبر پختونخواہ PTI بحران کا شکار، جنید اکبر کیوں ناراض
ان کے بقول یہ بھی طے ہوا کہ وزیراعلیٰ اگرچہ بیانات میں سخت لہجہ اختیار کر سکتے ہیں، تاہم عملی طور پر کسی تصادم کی طرف نہیں جایا جائے گا۔ اسی پس منظر میں 8 فروری کے شٹر ڈاؤن احتجاج کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا منظرِ عام سے غائب رہنا بھی خاصی توجہ کا مرکز بنا۔ وزیراعلیٰ کی آفیشل میڈیا ٹیم یا پی ٹی آئی کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم پارٹی کے سوشل میڈیا سے وابستہ ایک رہنما نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعلیٰ نے احتجاج میں شرکت نہیں کی۔
سینیئر صحافی و تجزیہ کار عارف حیات کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی وفاقی حکومت اور اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں، جس کا اظہار وزیر اعظم سے ملاقات، اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت اور کور کمانڈر پشاور سے روابط سے ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کچھ معاملات پر مفاہمت ہو چکی ہے اور بعض طاقتور حلقوں نے بھی نرم مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ عارف حیات کے مطابق احتجاج میں عدم شرکت بھی اسی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں عمران خان اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملاقات عمل میں آتی ہے تو آنے والے دنوں میں ملکی سیاست میں ایک اور بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔
