پی ٹی آئی سے وابستہ اشتہاری صحافیوں کو 35 برس قید کی سزا

 

 

9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی سازش کے الزام میں پی ٹی آئی سے وابستہ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان کو سزائیں ملنے کے بعد اب پارٹی کے فوج مخالف سوشل میڈیا بریگیڈ سے وابستہ مفرور پاکستانی صحافیوں کو بھی ڈیجیٹل دہشت گردی کے جرم میں دو، دو بار عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں دائر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اشتہاری قرار دیے گئے 6 افراد بشمول معید پیرزادہ، وجاہت سعید خان، صابر شاکر، شاہین صہبائی، میجر عادل راجہ اور حیدر مہدی کو ڈیجیٹل دہشت گردی پر اکسانے کے الزام میں سزا سنائی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان افراد نے سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور آن لائن پروگراموں کے ذریعے افواجِ پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز مواد پھیلایا، جس کے نتیجے میں عوامی ردعمل شدت اختیار کر گیا اور ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ریاست مخالف مواد 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اور اس سے قبل شائع اور نشر کیا گیا۔ اس مواد نے مظاہرین کو فوجی تنصیبات پر حملوں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور ریاست کی رِٹ چیلنج کرنے پر اکسایا۔

انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے پانچوں اشتہاریوں کو مجموعی طور پر 35، 35 سال قید کی سزا سنائیں۔ اس کے علاوہ 15 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ پراسیکیوشن کی جانب سے 24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے پراسیکیوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا، پراسیکیوشن کی جانب سے راجہ نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے تھانہ آبپارہ میں درج مقدمے میں صابر شاکر اور معید پیرزادہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ تھانہ رمنا میں درج کیس میں شاہین صہبائی، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو سزا سنائی گئی۔ سماعت کے دوران عدالت میں ملزمان کی جانب سے گلفام اشرف گورائیہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، گلفام کو عدالت کی جانب سے ملزمان کا وکیل مقرر کیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی قوانین کے مطابق ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ڈیجیٹل ذرائع سے پھیلائی گئی یہ مہم انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں آتی ہے اور اسے آزادیِ اظہار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ سزا پانے والے صحافی اور دیگر دو اشخاص امریکہ اور برطانیہ میں مقیم ہیں اور پاکستانی حکام کو مطلوب ہیں۔ استغاثہ کے مطابق یہ لوگ اپنے خلاف کیسز درج ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہو گئے تھے اور عدالتی کارروائی کے دوران مسلسل اشتہاری اور مفرور رہے۔ عدالت نے ان کی غیر حاضری میں مقدمے کی سماعت مکمل کی اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔

عدالت سے سزا پانے والے دی نیوز اخبار کے سابقہ ایڈیٹر شاہین صہبائی 19 برس سے واشنگٹن میں مقیم ہیں۔ ان کے خلاف درج ایف ائی آر میں فوج مخالف پروپگنڈا پر اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ماضی میں دنیا ٹی وی سے وابستہ رہنے والے وی لاگر وجاہت سعید خان امریکا میں مقیم ہیں۔ ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے شر انگیز ویڈیوز اور تبصروں کے ذریعے عوام کو فوج مخالف احتجاج پر اکسایا۔

اے آر وائی سے وابستہ رہنے والے سابق اینکر صابر شاکر کے بارے میں استغاثہ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے بیرونِ ملک بیٹھ کر سوشل میڈیا پر ایسے پیغامات اور ویڈیوز نشر کیں جن میں براہِ راست فوجی قیادت اور تنصیبات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کی موجودہ رہائش کے بارے میں یورپ کا ذکر کیا گیا ہے لیکن بظاہر وہ لندن میں مقیم ہیں۔ ماضی میں جی این این نامی ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے وابستہ رہنے والے معید پیرزادہ بھی پاکستان چھوڑنے کے بعد پہلے برطانیہ میں مقیم رہے لیکن اب امریکہ منتقل ہو گئے ہیں، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے دوران پرتشدد بیانیے کو تقویت دی۔ حیدر مہدی پر بھی اسی طرح کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جو عدالت میں ثابت ہو گئے ہیں۔

دو مرتبہ عمر قید کی سزا پانے والے چھٹے شخص میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کو حال ہی میں برطانیہ کی ایک عدالت نے آئی ایس آئی سے کے برگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر پر جھوٹے الزامات لگانے کے جرم میں کروڑوں روپوں کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ان 5 مفرور اشخاص کے خلاف مقدمات جون 2023 میں درج کیے گئے تھے۔ انہیں کئی بار طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے، تاہم عدالت میں پیش نہ ہونے پر انہیں اشتہاری قرار دے دیا گیا تھا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے مقدمہ یک طرفہ طور پر نمٹاتے ہوئے ہر ملزم کو دو مختلف دفعات کے تحت عمر قید کی سزا سنائی۔

اس سے قبل بھی 9 مئی کے حملوں کے سلسلے میں سیاست دانوں اور کارکنان کو مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں، تاہم صحافیوں اور سوشل میڈیا سے وابستہ افراد کے خلاف یہ پہلا بڑا فیصلہ ہے جس میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کو دہشت گردی پر اکسانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق اور صحافتی تنظیموں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائیاں آزادیِ صحافت اور اظہارِ رائے کے لیے خطرناک مثال بن سکتی ہیں، جبکہ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاستی سلامتی اور قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ویسے بھی وجاہت سعید، معید بیرزادہ، شاہین صہبائی اور صابر شاکر صحافی نہیں ہیں بلکہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ سے بطور ٹرولز وابستہ ہیں اور ریاستی اداروں کو بدنام کر کے مال بنا رہے ہیں۔

Back to top button