PTI نےبلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے اتحاد کر لیا؟

سانحہ 9 مئی کے بعد جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کارکنان کی سندھ بھر میں قومی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت گرفتاریاں شروع کی گئیں۔ وہیں پی ٹی آئی کے کچھ رہنما بآسانی بلوچستان فرار ہوگئے اور اب بھی وہاں مختلف مقامات پر روپوش ہیں۔ جنہیں بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں نے پناہ دے رکھی ہے۔
واضح رہے کہ 9 مئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے عمران خان گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑی تھے۔ کراچی میں بھی پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے اپنے کارکنان اور ہمدروں کو اکسایا گیا۔ جس کے نتیجے میں شارع فیصل پر پی ٹی آئی کے شرپسندوں نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے اربوں مالیت کی املاک کو نقصان پہنچایا۔ شارع فیصل پر شرپسندوں کو ہدایت دینے والوں میں پی ٹی آئی کے رہنما راجہ اظہر اورحلیم عادل شیخ تھے۔ جبکہ شاہنواز جدون، سعید اعوان، آفتاب صدیقی، خرم شیر زمان، عالمگیر خان، فہیم خان، فردوس شمیم نقوی، ارسلان گھمن اور عدیل احمد بھی اپنے کارکنان کو اشتعال دلارہے تھے۔
شرپسندوں نے ہنگامہ آرائی کے دوران سرکاری و عوامی املاک کو آگ لگانے کیلئے خاص کیمکل استعمال کیا۔ جو ماضی میں ایم کیو ایم لندن کے دہشت گرد استعمال کیا کرتے تھے۔ سائوتھ اور ایسٹ زون کے دو پولیس افسران نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ کراچی میں پر تشدد مظاہرے کیے گئے اور شرپسندوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تنصیبات سمیت عوامی اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچایا۔
احتجاج کی آڑ میں شرپسندوں نے ہنگامہ آرائی شروع کی اور راجہ اظہر سمیت دیگر رہنمائوں کے احکامات پر سرکاری و نجی املاک کو بھی نشانے پر رکھ لیا۔ مشتعل افراد نے شہر کی مرکزی شاہراہ پر نصب کمانڈ اینڈ کنٹرول کے سی سی ٹی وی کیمروں کے ساتھ گرین بیلٹ کو نقصان پہنچایا۔ اسی پر بس نہ ہوئی تو بلوائیوں کی گرفتاری کی غرض سے لائی گئی قیدیوں کی وین کو نذر آتش کر دیا گیا۔ سڑک سے گزرنے والی متعدد گاڑیوں، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی دو سکشن اینڈ جیٹنگ وہیکلز کے ساتھ بلوچ کالونی فلائی اوور کے نیچے قائم ٹریفک سیکشن اور پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی پر واقع قانون نافذ کرنے والے ادارے کی چوکی کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ جبکہ ٹریفک پولیس چوکی اور اطراف میں کھڑی شہریوں کی کئی موٹرسائیکلوں کو بھی آگ لگائی گئی۔
اس دوران پیپلز بس سروس کی جدید بسیں بھی شرپسندوں سے محفوظ نہ رہیں اور ان پر پتھرائو کرکے نقصان پہنچایا اور ایک بس کو آگ لگا دی۔ اسی روز ناگن چورنگی اور شاہ فیصل کالونی میں بھی دو پیپلز بسوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ 9 مئی کی شام شارع فیصل پر ہونے والی ہنگامہ آرائی اور پولیس اور شر پسندوں کے درمیان جھڑپیں رات گئے تک جاری رہیں۔
جبکہ دوسرے روز کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھنے میں آئی۔ جس کے بعد پولیس کی جانب سے سندھ حکومت کے احکامات پر صوبہ بھر میں آپریشن کا آغاز کیا گیا اور پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان میں تحریک انصاف کے کچھ رہنما بھی شامل تھے۔ مگر پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کے لیڈر راجہ اظہر، حلیم عادل شیخ، شاہنواز جدون، سعید اعوان، آفتاب صدیقی، خرم شیر زمان، عالمگیرخان، فہیم خان، اور ارسلان گھمن کو تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اور متعلقہ ادارے مذکورہ رہنمائوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہے ہیں اور لوکیٹر کے ذریعے بھی چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مگر تاحال اسے کوئی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ جب پولیس نے ان کے موبائل فون کی لوکیشن حاصل کرکے چھاپے مارے تو وہ موجود نہیں تھے، کہ انہوں نے نو مئی کے بعد سے اپنے موبائل فون استعمال کرنا چھوڑ دیئے تھے۔
پولیس کا دعوی ہے کہ فرار ہونے والے پی ٹی آئی رہنما کسی اور شہر میں روپوشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس وقت کراچی میں پی ٹی آئی کے تین سوسے زائد عہدیدار اور کارکنان گرفتار ہیں۔ جبکہ کراچی اور سندھ کی زیادہ تر قیادت روپوش ہے۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ پی ٹی آئی کے جو رہنما ابھی ہاتھ نہیں لگ سکے۔ وہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں روپوش ہوگئے ہیں اور ان میں سے کئی رہنمائوں کو بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی بھی مکمل مدد حاصل ہے۔ جنہوں نے ان رہنمائوں کو اس شرط پر پناہ دے رکھی ہے کہ اگر ان کی حکومت آتی ہے تو وہ اقتدار میں آکر بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے مفادات
انسانی اسمگلروں کی کارروائیاں بروقت کیوں نہیں روکیں؟وزیراعظم برہم
کی حفاظت کریں گے۔
