تحریک انصاف کا ناراض اراکین سے دوبارہ رابطہ نہ کرنے کا فیصلہ

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت چھوڑنے کیلئے تیار ہوں مگر انہیں استعفیٰ نہیں دوں گا، ابھی تو لڑائی شروع ہوئی ہے۔ چوروں کا جتنا بھی پریشر ہو آخری بال تک لڑنے والا ہوں، حکومت گر گئی تو چپ نہیں بیٹھوں گا۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا ، جس میں وفاقی وزراء اسد عمر، پرویز خٹک، شیخ رشید اور فواد چوہدری نے شرکت کی ، اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال اور اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیاسی حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم کو اتحادیوں سے مذاکرات پر بریفنگ دی اور انہیں آگاہ کیا کہ اتحادی ہمارے ساتھ نہیں چلنا چاہتے۔اتحادی ہمارے اتحادی نہیں رہے۔ عمران خان کا کہنا تھا فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہو جاتے،سیاست کیلئے فوج کو بدنام نہ کیا جائے.شہباز شریف مجرم ہیں اس کے ساتھ کیوں بیٹھوں گا،استعفیٰ کسی صورت نہیں دوں گا.
پاکستان میں ہونیوالا او آئی سی اجلاس تاریخی اہمیت کا حامل کیوں؟
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ مافیا ملک میں ترقی نہیں چاہتا، ہم اپنا فیصلہ عوام کی عدالت میں چھوڑتے ہیں۔اجلاس میں ناراض اراکین سے بھی دوبارہ رابطہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ذرائع کاکہنا تھا کہ وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ عدالت کے ذریعے انہیں تاحیات نااہل کروانے پر زور دیا جائے۔
بعد ازاں حکومتی سیاسی ٹیم نے ایم کیو ایم کے وفد سے وزیراعظم ہائوس میں ملاقات کی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد میں خالد مقبول صدیقی، وسیم اختر، امین الحق، خواجہ اظہار الحسن اور جاوید حنیف شامل تھے۔حکومتی رہنماوں بشمول اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر پر مشتمل وفد نے ایم کیو ایم ارکان کو وزیراعظم کا پیغام پہنچایا۔
اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے اٹارنی جنرل سے کل سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کی سماعت پر تبادلہ خیال بھی کیا۔
