"رہائی فورس” کی تشکیل کے اعلان پر PTIتقسیم کا شکار

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ "رہائی فورس” کی تشکیل کے اعلان نے پاکستان تحریک انصاف کے اندر اختلافِ رائے اور دھڑے بندی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پارٹی کے بعض رہنما اس فیصلے کو پارٹی کی سٹریٹ موومنٹ کو منظم کرنے کا مؤثر ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر حلقے اس اعلان کو ٹرک کی نئی بتی سے تعبیر کرتے ہوئے بے وقت کی راگنی اور پارٹی کارکنوں کو خود ہی گرفتار کرانے کا نیا جال قرار دے رہے ہیں، مبصرین کے مطابق رہائی فورس کے قیام کا اعلان نہ صرف تحریک انصاف کی آئندہ حکمتِ عملی بلکہ اس کی داخلی ہم آہنگی کے لیے بھی ایک اہم امتحان بن چکی ہے۔
ایک طرف معاون خصوصی اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان دوٹوک اعلان کر رہے ہیں کہ اگر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فورس بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اسے کسی توثیق کی ضرورت نہیں، تو دوسری جانب پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم واضح کر رہے ہیں کہ سیاسی کمیٹی اور سیکرٹری جنرل آفس کی منظوری کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ انھوں نے واضح کیا کہ سیاسی کمیٹی اور سیکرٹری جنرل آفس کی منظوری کے بغیر ایسی کسی تجویز پر عملدرآمد ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر پہلے ہی مختلف تنظیمی ونگز موجود ہیں، اس لیے نئی فورس کے قیام سے پہلے باقاعدہ مشاورت ناگزیر ہے۔ یوں رہائی فورس کا معاملہ صرف ایک تنظیمی فیصلہ نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اندر اختیار اور حکمتِ عملی کے توازن کا امتحان بن گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پارٹی کے اندر موجود ونگز کے ہوتے ہوئے ایک نئی فورس بنانے کی تجویز کیا داخلی نظم و ضبط کو چیلنج کرے گی؟کیا "رہائی فورس” پی ٹی آئی کو نئی طاقت دے گی یا اندرونی تقسیم کو مزید گہرا کرے گی؟ یہ سوال اب صرف پارٹی کا نہیں، ملکی سیاست کا اہم موضوع بنتا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے اپنے ہی کارکنوں اور مقامی عہدے داروں کی ایک بڑی تعداد نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی اعلان کردہ ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ کو مسترد کردیا ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا بند کرنے سے متعلق حالیہ ناکام ترین احتجاج نے انتشار کا شکار پی ٹی آئی کو مزید منتشر کردیا ہے۔ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے ضلعی عہدیداران’ آئی ایس ایف اور یوتھ ونگ کے متحارب دھڑے اس ناکامی کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔ نا صرف ایک دوسرے کو آستین کا سانپ اور غدار قرار دیا جارہا ہے بلکہ پارٹی میں موجود مخالف ناراض دھڑا سہیل آفریدی اور ان کے ہمنواؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی دھمکیاں تک دے رہا ہے۔ غرض یہ کہ یہ اندرونی لڑائی اب بند کمروں سے نکل کر سوشل میڈیا پر آچکی ہے۔ چوراہوں پر اپنے گندے کپڑے اس شدت سے دھوئے جارہے ہیں کہ اس کے چھینٹوں نے پارٹی کا چہرہ مزید آلودہ کردیا ہے۔
یہ خیال عام ہے کہ خیبرپختونخوا کے سپر فلاپ شو نے عمران خان کی رہائی کیلئے لئے آخری احتجاجی آپشن کے تابوت میں بھی آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ ناقدین کے مطابق پارلیمنٹ کے ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے سب کچھ داؤ پر لگانے والے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کی عزت سادات بھی جاتی دکھائی دے رہی ہے کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے ناراض دھڑے کی جانب سے ان دونوں کی زبردست ٹرولنگ جاری ہے۔ پی ٹی آئی کے اپنے لوگوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ پارلیمنٹ اور کے پی ہائوس کے پرسکون ماحول میں پکنک نما احتجاج کرکے کارکنوں کو دھوکا دیا جارہا ہے۔
حکومتی وزراء ڈیل کی باتیں کرکے ہیرو بننے کی کوشش کررہے ہیں : شیخ وقاص اکرم
اب صورتحال یہ ہے کہ دھرنوں کی ناکامی پر خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی، آئی ایس ایف اور یوتھ ونگ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہیں۔ ایک دھڑا علی امین گنڈاپور کے حامیوں کا ہے، دوسرا دھڑا سہیل آفریدی کے سپورٹرز پر مشتمل ہے اور تیسرا گروپ وہ ہے جو ان دونوں کو ناکام احتجاج کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ تینوں کے مابین آن لائن اور آف لائن گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اس حوالے سے بڑھتے دباؤ کو کنٹرول کرنے کیلئے عمران خان کی رہائی کے نام پر نئی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے تاہم یہ فیصلہ بھی سہیل آفریدی کے گلے پڑتا دکھائی دیتا ہے، اس اقدام بارے پی ٹی آئی میں شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان نے احتجاج کی ذمہ داری علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کودی ہے تو پھر وزیراعلیٰ ہاؤس سے ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ کا اعلان کیوں کیا گیا‘‘۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ پر پارٹی کے اپنے لوگوں کی جانب سے شدید تنقید میں اس شک کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ اس فورس کے لئے لاکھوں نوجوان کارکنوں کا ڈیٹا جمع کرکے ایک کمپیوٹر فائل بنائی جائے گی، تاکہ انہیں گرفتار کرانے کے لئے یہ فہرست قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کردی جائے۔ ناراض پی ٹی آئی کارکنان کے مطابق26 نومبر کے احتجاج کے بعد بیانیہ دیا گیا کہ ہمارے تین سو ستّر بندے مارے گئے ہیں اور اب حالیہ دھرنوں کی ناکامی کے بعد کہا جارہا ہے کہ ’’ہم نے عمران خان کی رہائی کے لئے فورس بنادی ہے۔ یہ سب ڈرامے کارکنوں کو بے وقوف بنانے کے لئے کئے جارہے ہیں۔
