کیا الیکشن سے پہلے پی ٹی آئی پر پابندی لگنے والی ہے؟

الیکشن میں 3 ماہ سے بھی کم عرصہ رہ جانے کے باوجود تحریک انصاف انتخابی مہم بارے مخمصے کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ 9 مئی کی شرپسندانہ کارروائیوں کے بعد جہاں عمرانڈو رہنماؤں اور امیدواروں کی اکثریت پی ٹی آئی سے تعلق توڑ چکی ہے وہیں تحریک انصاف میں بچے کھچے رہنماؤں کو الیکشن میں پارٹی پر پابندی کا خدشہ ہے۔ تاہم دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی نے سینئر سرکاری ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ 8؍ فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی شرکت پر پابندی عائد کرنے پر غور نہیں کیا جا رہا۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے بھی تصدیق کی کہ پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کا کوئی ایجنڈا ہے اور نہ ایسا کوئی معاملہ کسی بھی موقع پر زیر غور آیا ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ گزشتہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے بھی تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے اپنی سابقہ پیشگوئی تبدیل کر دی ہے کہ پی ٹی آئی رہے گی اور نہ بیلٹ پیپر پر اس کا انتخابی نشان بلا۔ اب راجہ ریاض کہتے ہیں کہ صورتحال تبدیل ہوگئی ہے اور پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے گی، لیکن ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا ہے کہ پی ٹی آئی کو الیکشن میں زیادہ ووٹ کیوں نہیں پڑیں گے۔  راجہ ریاض کے مطابق تین بڑی وجوہات  کی وجہ سے پی ٹی آئی کیلئے انتخابی مقابلہ بہت مشکل ثابت ہوگا: کیونکہ پی ٹی آئی کے پاس تجربہ نہیں، پیسہ نہیں اور وقت نہیں۔ سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کے بقول الیکشن میں پی ٹی آئی کی مقبولیت سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ 9؍ مئی کے بعد پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی اور ارکان صوبائی اسمبلی کی ایک بڑی تعداد پی ٹی آئی چھوڑ کر جا چکی ہے اور اب پارٹی کیلئے مناسب امیدواروں کو الیکشن میں لانا بہت مشکل ہوگا۔ جن لوگوں کو الیکشن کیلئے ٹکٹ دیا جائے گا ان کے پاس الیکشن کا تجربہ ہوگا اور نہ ان کے پاس الیکشن مہم چلانے اور ووٹروں تک پہنچنے کیلئے وقت۔ ماضی کے برعکس، پی ٹی آئی کو فنڈز کے مسائل کا سامنا بھی رہے گا۔ راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ الیکشن لڑنا اور الیکشن کے دن کی ڈائنامکس بہت ہی اہم ہیں جن کیلئے تجربہ، وقت اور پیسہ چاہئے اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کے پاس اس دفعہ یہ تینوں نہیں ہیں۔  حالانکہ چند ماہ قبل، راجہ ریاض نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی عائد کر دی جائے گی اور اس کا انتخابی نشان بلا الیکشن کمیشن آف پاکستان فہرست سے ہٹا دے گی جبکہ عمران خان جیل میں رہیں گے۔ اب وہ کہتے ہیں کہ صورتحال تبدیل ہو گئی ہے اور بیلٹ پیپر پر بلے کا نشان ہوگا۔

تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت کو بھرپور یقین ہے کہ الیکشن میں لیول پلیئنگ فیلڈ کے بغیر بھی اگر اسے الیکشن لڑنے کی اجازت ملی تو وہ بڑا سرپرائز دے گی۔ پی ٹی آئی والوں کی رائے ہے کہ بیلٹ پیپر پر انتخابی نشان بلا بھی بڑا سرپرائز ہوگا۔ صرف پارٹی چیئرمین عمران خان ہی ایسا نہیں سمجھتے بلکہ جمعرات کو پارٹی کے جیل میں قید رہنما پرویز الٰہی بھی یہی کہتے دکھائی دئیے ہیں کہ پی ٹی آئی کو امید سے زیادہ ووٹ پڑیں گے۔

دوسری جانب انٹیلی جنس کے ایک اہم ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے بڑی مقبولیت کے دعوے محض کہی سنی باتیں ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ زمینی حقائق عمومی تاثر سے بالکل مختلف ہیں۔ دوسری طرف دی نیوز کی جانب سے حال ہی میں کرائے گئے سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت پنجاب میں 41؍ فیصد ہے، نون لیگ 28؍ فیصد، پیپلز پارٹی 4؍ فیصد جبکہ ٹی ایل پی وغیرہ کی مقبولیت صرف 6؍ فیصد ہے۔ سندھ کے معاملے میں پی ٹی آئی کی مقبولیت 36؍ فیصد، پیپلز پارٹی 35؍ فیصد، نون لیگ تین فیصد، ایم کیو ایم وغیرہ دو فیصد ہے۔ خیبر پختونخوا کی بات کریں تو 69؍ فیصد ووٹ پی ٹی آئی کو جا سکتا ہے، نون لیگ 12؍ فیصد جبکہ پیپلز پارٹی کیلئے مقبولیت صرف 2؍ فیصد ہے۔ بلوچستان میں پی ٹی آئی کی مقبولیت 36؍ فیصد کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد پیپلزپارٹی 18؍ فیصد، اے این پی 11؍ فیصد جبکہ نون لیگ بھی 11؍ فیصد مقبول ہے۔

سروے میں جواب دینے والے ہر پانچ میں سے تقریباً دو لوگوں یعنی 37؍ فیصد کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان پارٹی کے سربراہ نہیں ہوں گے تو وہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے۔ پی ٹی آئی کے تقریباً آدھے ووٹرز کا کہنا ہے کہ عمران خان پارٹی کے سربراہ نہ ہوں گے تو وہ پھر بھی پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے۔ اگر پی ٹی آئی الیکشن میں حصہ نہیں لیتی تو چوتھائی ووٹرز اس

عمران خان نے مقبولیت کے لئے کون سے ممنوعہ سٹیرائیڈز استعمال کئے؟

صورت میں نون لیگ کو ووٹ دیں گے۔

Back to top button