تحریک انصاف احتجاجی تحریک کوعلامتی احتجاج میں بدلنےپرمجبور

داخلی خلفشار،پارٹی اختلافات، قیادت کی دو عملی، اور کارکنوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ممکنہ سیاسی شرمندگی سے بچنے کیلئے پی ٹی آئی قیادت نے 5 اگست کی ملک گیر احتجاج کی کال کو اب ایک روزہ علامتی تحریک میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب 5 اگست کو احتجاج کے دوران ماضی کی طرح کوئی جلسے جلوس یا ریلیاں نہیں ہونگی بلکہ صرف ہومیو پیتھک احتجاج کیا جائے گا جو صرف فوٹو سیشنز تک محدود ہو گا۔ جس کے بعد پارٹی رہنما اور کارکنان گھروں کی راہ لیں گے حالانکہ پی ٹی آئی قیادت نے پہلے اعلان کیا تھا کہ عمران خان کی رہائی تک یہ احتجاج جا ری رہے گا۔
ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی میں جلسوں، ریلیوں اور لانگ مارچ کا جوش اب صرف پوسٹروں اور ٹوئٹس تک محدود ہو چکا ہے۔ باہمی اختلافات، ناقص حکمت عملی، اور عوامی جوش کی کمی نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر اپنے الفاظ واپس لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ 5 اگست کی جو "ملک گیر” احتجاجی کال دی گئی تھی، وہ اب صرف ایک روزہ "علامتی احتجاج” میں بدل دی گئی ہے ۔ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کا یہ فیصلہ حالیہ سیاسی بےسمتی اور تنظیمی ناکامی کا آئینہ دار ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف جو کبھی عوامی جلسوں، دھرنوں اور سڑکوں پر سیاسی دباؤ بنانے کی ماہر سمجھی جاتی تھی، اب داخلی خلفشار، کارکنان کے جوش میں کمی، اور قیادت کے تضادات کے باعث اپنی شناخت کھو رہی ہے۔ تازہ ترین مثال 5 اگست کو دی جانے والی "ملک گیر احتجاجی کال” ہے، جسے اب جماعت نے خاموشی سے صرف "ایک روزہ علامتی احتجاج” تک محدود کر دیا ہے۔ جو جماعت سڑکوں پر اپنا زور دکھاتی تھی، وہ اب سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز اور ویڈیوز تک محدود ہو چکی ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے 5 اگست کے "ملک گیر احتجاج” کو صرف ایک روزہ علامتی سرگرمی میں بدل دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی نہ صرف عوامی اعتماد کھو رہی ہے بلکہ اپنی اسٹریٹیجی اور بیانیے پر بھی گرفت کھو چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے بقول حقیقت یہ ہے کہ سیاسی تحریکیں دعووں سے نہیں، مستقل مزاجی اور عوامی طاقت سے زندہ رہتی ہیں تاہم فی الحال پی ٹی آئی ان دونوں سے محروم دکھائی دیتی ہے۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ ایک وقت تھا جب پی ٹی آئی کی احتجاجی کال پر پورا ملک سڑکوں پر آ جاتا تھا۔ اب وہی جماعت اپنی "ملک گیر” تحریک کو محض ایک روزہ علامتی احتجاج میں بدلنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ نہ جلسے، نہ جلوس، نہ قیادت کا جوش اور نہ عوام کا جذبہ۔ اب عمران خان کی رہائی تک جاری رہنے والے احتجاج کا نعرہ خود اس کی قیادت کے لیے بوجھ بن چکا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس علامتی احتجاج کا اصل مقصد حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم اب بھی "فعال” ہیں تاکہ مذاکرات کا دروازہ کھل سکے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ 5 اگست احتجاج کی کال سے قبل نومئی کے کیسز میں نامزد کئی رہنما خیبر پختونخواہ چلے گئے ہیں۔ جس کے بعد مختلف شہروں میں علامتی احتجاج کے امکانات بھی معدوم نظر آتے ہیں ۔تجزیہ کار وجاہت مسعود کے مطابق ماضی میں تحریک انصاف کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔ اس لیے ان کے احتجاج حکومت وقت کے لیے کافی پریشان کن ہوا کرتے تھے۔ لیکن جب سے ان کا اقتدار ختم ہوا اب وہ صورتحال نہیں رہی۔ لہذا جس طرح پہلے مسلم لیگ ق یا کئی اور اسٹیبلشمنٹ کے گملے سے اگنے والی جماعتیں عروج کے بعد زوال پذیر ہوئیں اس جماعت کے حالات بھی کچھ ایسے بنتے جا رہے ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کے احتجاج سے حکومت یا کسی ادارے کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
دوسری جانب تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ ’سیاسی جماعتیں سیاست کے ذریعے راستے نکالتی ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی نے لڑائی کو جو راستہ اختیار کیا ہے وہ انہیں اور ان کی پارٹی کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔ مذاکرات کی بجائے اب بھی وہ سٹریٹ پاور کے ذریعے دباو ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا یہ فارمولا پہلے کامیاب ہوا اور نہ ہی اب اس میں کوئی جان دکھائی دیتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جہاں تک عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد کا تعلق ہے حقیقت میں ان کی والدہ جمائما خان اور عمران خان بالکل نہیں چاہتے کہ وہ کسی سیاسی تحریک کا حصہ بنیں۔ یہ علیمہ خان کی خواہش ضرور ہوسکتی ہے مگر معلومات کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں وہ پاکستان اگر آئے تو کنٹینر پر نہیں چڑھیں گے بلکہ اپنے والد سے جیل میں ملاقات کے لیے آئیں گے۔‘
سلمان کے بقول، ’ عمران خان نے جب پانچ اگست کو احتجاج کی کال دی تھی تب نومئی کیسوں فیصلے نہیں آئے تھے۔ تاہم عدالتوں سے فیصلے آنے کے بعد اب احتجاجی تحریک میں جان پڑنے کی بجائے پارٹی کے اندر بھی کوئی جوش دکھائی نہیں دے رہا۔ سلمان غنی کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ فیصلوں کے بعد یہ وقت احتجاج کا نہیں بلکہ مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے کا ہے۔ کیونکہ ماضی میں جب بھی انہوں نے احتجاج کیا تو انھیں تھپکی حاصل ہوتی تھی اب وہ حالات نہیں رہے لہذا انہیں بھی پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔‘ مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کی پانچ اگست کی "ملک گیر” احتجاجی کال کا انجام ایک علامتی، وقتی، اور غیر مؤثر سرگرمی کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ یہ صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ ایک سیاسی بحران کا اظہار ہے۔ جس میں قیادت خوفزدہ، کارکن منتشر، اور بیانیہ کمزور ہو چکا ہے۔ اگر اب بھی پی ٹی آئی قیادت نے سیاسی مذاکرات کی بحالی کیلئے عملی اقدامات کرنے کی بجائے جارحانہ طرز عمل اختیار کئے رکھا تو پی ٹی آئی کی تحریک بھی ماضی کی کئی وقتی شورشوں کی طرح تاریخ کے حاشیے میں دفن ہو جائے گی۔
