الیکشن کمیشن تحریک انصاف پر پابندی کیوں نہیں لگا سکتا؟

حکومتی جماعت تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ بارے سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد عمومی تاثر یہی ہے کہ اگر غیر قانونی فنڈنگ کے الزامات ثابت ہو جائیں تو الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو کالعدم قرار دے سکتا ہے جس کے نتیجے میں حکومت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو غیر قانونی فنڈنگ کے جرم میں کالعدم قرار دینے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے پاس ہے۔ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی تاریخ میں آج دن تک کوئی ایسی مثال موجود نہیں کہ کسی سیاسی جماعت کو مالی بے ضابطگی کے الزام میں کالعدم قرار دیا گیا ہو یا کوئی اسکے خلاف کوئی اور سخت کارروائی عمل میں لائی گئی ہو۔

سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں اکبر ایس بابر کی جانب سے تحریک انصاف پر لگائے جانے والے غیر قانونی فارن فنڈنگ کے الزامات بظاہر درست ثابت ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتیں الیکشن کمیشن سے حکمران جماعت کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ لیکن قانونی ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس کسی بھی سیاسی جماعت کے خلاف کوئی سخت کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے خفیہ رکھنے کی درخواست کے باوجود سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آچکی ہے جس میں حکمران جماعت پر ممنوعہ فنڈنگ کے 53 اکاؤنٹس چھپائے جانے کا بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو تحریک انصاف کی جانب سے صرف 12 اکاؤنٹس کا بتایا گیا تھا جبکہ 53 اکاؤنٹس کو چھپایا گیا۔

الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی رپورٹ جاری ہونے کے بعد پاکستانی سیاست میں ایک مرتبہ پھر سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جارہاہے۔ تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں اس رپورٹ پر بھر پور سیاست کر رہی ہیں اور حکمران جماعت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاجارہاہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن کے ضوابط میں یہ اتنا بڑا معاملہ نہیں کہ کسی سیاسی جماعت کو اس بنیاد پر کالعدم قرار دے دیا جائے یا اس پر پابندی عائد کر دی جائے۔

یہ بھی یاد رہے کہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں اس سے پہلے کوئی ایسی مثال بھی موجود نہیں جس میں کسی سیاسی جماعت کو مالی بے ضابطگی کے الزام میں کالعدم قرار دیا گیا ہو۔ حکمران پارٹی تحریک انصاف کے رہنماؤں نے رپورٹ میں لگائے گئے الزامات مسترد کرتے ہوئے معمولی لاپرواہی کی وجہ سے چند اکاؤنٹ ظاہر نہ کرنے کو تو تسلیم کیا لیکن ممنوعہ فنڈنگ یا فنڈز چھپانے کا دفاع کیاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ فنڈز چھپانے پر کسی جماعت کے خلاف کیا کارروائی ہوسکتی ہے؟ اس بارے پی ٹی آئی کے سابق رہنما اور سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن حامد خان کا کہنا یے کہ الیکشن کمیشن میں جمع ہونے والی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پر ابھی بحث ہونا باقی ہے۔ حکومت اور درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکلاء اس پر دلائل دیں گے۔

حامد خان کے بقول اس رپورٹ میں کی گئی تحقیق کو درست ثابت کرنا لازمی ہوگا، اگر یہ ثابت ہو بھی جائے کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ لی اور کئی اکاؤنٹس بھی ظاہر نہیں کیے تو بھی انکے وکیل اسے تکنیکی غلطی تسلیم کر کے درست کرنے کی استدعا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کیا کہ ’پاکستان میں آج تک کوئی روایت ایسی موجود نہیں جس میں کسی سیاسی جماعت کو اس بنیاد پر نااہل یا بین کیا گیا ہو کہ پارٹی مالی بے ضابطگیوں یا اثاثے چھپانے میں ملوث ہے۔ انکا۔کہنا یے کہ یہ الزام الیکشن کمیشن کے قوانین میں زیادہ سنجیدہ نہیں لیا گیا اور نہ اس بارے میں کوئی سخت سزا رکھی گئی ہے۔

حامد خان ایڈووکیٹ نے بتایا کہ کہ ابھی تک پاکستان میں صرف دو سیاسی جماعتوں بلوچستان نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کو کالعدم قرار دے کر ان پر پابندی لگائی گئی یے، لیکن ان جماعتوں پر ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے جیسے سنگین الزمات تھے۔ لیکن وہ الزامات بھی غلط ثابت ہونے کے بعد دونوں جماعتیں اب سیاست میں موجود ہیں۔ لیکن اب تک ہمارے ہاں کوئی ایسی مثال موجود نہیں جس میں صرف مالی معاملات چھپانے کے باعث کسی سیاسی جماعت کو کالعدم قرار دیاگیا ہو۔

اس معاملے پر سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا یے کہ ’الیکشن کمیشن کے پاس مالی معاملات چھپانے پر کسی بھی جماعت کے خلاف سخت کارروائی کا اختیار نہیں۔ اس الزام پر سیاست ضرور کی جاسکتی ہے مگر عملی طور پر سخت کارروائی ممکن نہیں کیونکہ کارروائی کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے۔
انیوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں الزام ثابت ہوبھی جائے تو وہ صرف غیر قانونی فنڈز ضبط کرسکتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ پارٹی کا انتخابی نشان بین کر سکتے ہیں۔ ہاں اگر اس معاملے کو الیکشن کمیشن کے فیصلے پر اپوزیشن یا کوئی اور شہری سپریم کورٹ لے جائے تو وہاں اس کی سماعت ممکن ہے اور سپریم کورٹ کوئی بھی سخت فیصلہ لینے کا اختیار ضرور رکھتی ہے۔

کنور دلشاد نے کہا کہ یہ کیس کئی سال سے زیر سماعت ہے، ابھی سکروٹنی کمیٹی نے صرف اپنی رپورٹ جمع کرائی ہے، اب اس پر دلائل دیے جائیں گے لہذا ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تحریک انصاف کے خلاف الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کے خیال میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں اس لیے بھی کوئی سخت کارروائی ممکن نہیں کہ ایسے ہی کیس پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے خلاف بھی الیکشن کمیشن کے سامنے ہیں۔ ’لیہ صرف سیاسی معاملہ ہے اور اس پر سیاست ہوسکتی ہے جو بیان بازی کی حد تک جاری ہے۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی بینک اکاؤنٹس کی رپورٹ میں حکومتی جماعت پر 53 اکاؤنٹس ظاہر نہ کرنے اور 31 کروڑ روپے کے فنڈز چھپانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ رپورٹ کے سامنے آتے ہی حزب اختلاف حکمران جماعت کے خلاف صف آرا ہوگئی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا کہ ’پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی رپورٹ نہ صرف پارٹی کرپشن کےحوالے سے گھناؤنی فرد جرم ہے بلکہ اس سے منافقت کاپردہ بھی چاک ہواہے، اسی طرح عمران خان کا ٹیکس ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ اقتدار کے بعد ان کی آمدنی میں 50 گنا سے زائد کا اضافہ ہوا، پاکستان غریب تر ہو گیا ہے مگر عمران امیر تر ہو گیا ہے۔

پالیسی سے زیادہ سنجیدگی ضروری ہے

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے اس معاملے پر کہا کہ انصاف کے نام پر پاکستان کو دھوکہ دینے والے عمران خان کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے۔ کون جانتا تھا ثاقب نثار کے صادق و امین کا چہرہ اتنا بھیانک نکلے گا، اس بھیانک چہرے پر پردہ ڈالے رکھنے پر الیکشن کمشن کے سابق عہدیدار بھی جوابدہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے نہ صرف چوری کی اور چھپائی بلکہ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا اور ان کی محنت اور خون پسینے کی کمائی پر عیش کیا۔ پے درپے انکشافات،لیکس اور ثبوتوں کےانبار عمران سمیت پوری پی ٹی آئی کو فارغ کرنے کے لیے کافی ہیں،اتنے سنگین فراڈ اور سکینڈل تاریخ میں کسی جماعت کے نہیں آئے۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ’میں الیکشن کمیشن کی جانب سے سمندر پار پاکستانیوں کےعطیات پرمشتمل پی ٹی آئی کی فنڈنگ کی پڑتال کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ ہمارےنظمِ مال کو جتنا کھنگالا جائے گا اتنی ہی صراحت سےحقائق واضح ہوں گےاور قوم سمجھ سکےگی کہ کیسے پی ٹی آئی ہی وہ واحدسیاسی جماعت ہےجس کا نظمِ مال پولیٹیکل فنڈ ریزنگ کےاس مربوط نظام پرمشتمل ہےجس کی بنیادیں باضابطہ ڈونرز پر استوارہیں۔ میں ای سی پی کی جانب سےدیگردو بڑی جماعتوں ن لیگ اورپی پی کے مالیات کی اسی قسم کی پڑتال کا منتظرہوں۔اس سے قوم کو باضابطہ پولیٹیکل فنڈ ریزنگ اور قوم کی قیمت پر نوازشات کے بدلے سرمایہ دار ،حواریوں اور مفاد پرست گروہوں سے مال اینٹھنے کے درمیان فرق سمجھنےمیں مدد ملےگی۔‘

واضح رہے کہ تحریک انصاف کے خلاف غیر ملکی ممنوعہ فنڈز جمع کرنے اور اس میں خردبرد سے متعلق الیکشن کمیشن میں درخواست پی ٹی آئی کے ناراض رہنما اکبر ایس بابر نے دائر کر رکھی ہے مگر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف فارن فنڈنگ کی درخواست پی ٹی آئی رہنما وزیر مملکت برائے اطلاعات فرخ حبیب نے دائر کی تھی۔

Back to top button