پی ٹی آئی کے پی کاناراض رہنماؤں کیخلاف سینیٹ کاالیکشن لڑنےکافیصلہ

خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے تناظر میں تحریک انصاف نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس نہ لینے والے ناراض رہنماؤں کے خلاف ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ مل کر انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹ امیدوار طلحہ محمود کے مطابق حکومت اور اپوزیشن نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کے ناراض امیدوار اتوار تک دستبردار نہ ہوئے تو اتحادی جماعتیں مشترکہ طور پر انتخابات میں حصہ لیں گی۔

طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایک اہم اجلاس میں ہوا جس میں پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور بھی شریک تھے۔ اجلاس میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے نمائندے بھی موجود تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت اور اپوزیشن نے باہمی معاہدے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے تحت حکومت کو 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستیں دی جائیں گی۔ پی ٹی آئی اپنے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے امیدواروں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

اس حوالے سے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی کا متفقہ فیصلہ ہے کہ صرف وہی امیدوار سینیٹ الیکشن لڑیں گے جنہیں بانی چیئرمین نے نامزد کیا ہے، بصورت دیگر کاغذات واپس نہ لینے والے امیدواروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

دوسری جانب ناراض رہنماؤں نے کسی بھی صورت کاغذات نامزدگی واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے منحرف رہنما خرم ذیشان نے واضح کیا کہ ’’معاملہ اب صرف سینیٹ انتخابات تک محدود نہیں رہا۔ ایسی سیاسی جماعتوں سے اندرونی ساز باز ہمارے لیڈر کے نظریے سے متصادم ہے۔ میں نہ سینیٹ کی نشست واپس لوں گا، نہ جھکوں گا، نہ مصلحت اختیار کروں گا۔ سیاست اور عہدے جائیں بھاڑ میں، ہم اصولوں پر ڈٹے تھے، ہیں اور رہیں گے۔

Back to top button