تحریک انصاف دوبارہ اقتدار کیلئے امریکہ کی منتیں کرنے لگی

اقتدارسے بے دخلی کا الزام امریکہ پر عائد کرنے والے عمران خان نے اب امریکہ سے معافی تلافی کیلئے لابیز فرم کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ تاہم پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے امریکہ میں ’’لابیز فرم‘‘ کی خدمات حاصل کرنے کا مقصد صرف واشنگٹن سے تعلقات کی بحالی کیلئے ماضی کے الزامات، طرزعمل پر معذرت اور آئندہ کیلئے یقین دھانیاں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے مقتدر اداروں اور فیصلہ سازوں کے بارے میں الزامات پر مبنی خودساختہ موقف سے آگاہ کرنا بھی ہے۔ تحریک انصاف لابیز فرم کوعالمی سطح پر الیکشن کرانے کیلئے حکومت بر دباؤ بڑھانے اور مریم نواز کے طرزعمل کو ’’متعصبانہ اور نسل پرستانہ‘‘ قراردینے کیلئے بھی استعمال کر رہی ہے، حکومتی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے شرانگیز بیانیےاور خود ساختہ الزامات سے بیرونی دنیا کو داخلی امور میں مداخلت کی دعوت دی جارہی ہے، حال ہی میں سابق امریکی سفیر زلمے خلیل زاد اور جن دو امریکی شخصیات نے پاکستان کی صورتحال پر تنقید کی تھی اور پاکستان کی داخلی صورتحال پر اپنے تبصروں میں تنقید اور تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی سینیٹرز پاکستان کی صورتحال پر دلچسپی کیوں ظاہر کرنے لگے ہیں؟
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے تھوڑا سے ماضی میں جانا ہوگا۔ اگست 2022 میں پاکستان تحریک انصاف نے ’فینٹن آر لوک‘ نامی فرم کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔معاہدے کے مطابق چھ ماہ کے لیے پی ٹی آئی کمپنی کو ماہانہ 25 ہزار ڈالرز ادا کرے گی جس کے عوض کمپنی پارٹی کو امریکا میں پی آر سروسز فراہم کرے گی۔معاہدے کے مطابق کمپنی آرٹیکلز چھپوانے اور پی ٹی آئی نمائندوں اور ان کی جماعت کی حمایت کرنے والوں کے ٹی وی انٹرویوز کا اہتمام کرے گی۔اس معاہدے سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے مؤقف اپنایا تھا کہ ’یہ لابی فرم نہیں ہے بلکہ میڈیا ریلیشن شپ کی فرم ہے، جو پی ٹی آئی یو ایس اے نے میڈیا میں اپنے نقطۂ نظر اجاگر کرنے کے لیے انگیج کی ہے، ان کمپنیز کا کام ہوتا ہے کہ وہ میڈیا اور پارٹی میں تعلق کار بنائیں۔
سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی کے مطابق ’لابنگ فرمز بنیادی طور پر ان قانون دان اور بااثر شخصیات کا ایک گروپ ہوتا ہے جو امریکی عوامی نمائندگان پر کافی زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے، یہ لابنگ فرمز قانون سازی میں سینیٹرز کی مدد کرتی ہیں اور امریکا میں بیشتر قوانین بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں‘۔انہوں نے بتایا کہ ’لابنگ فرمز میں زیادہ تر قانون دان شامل ہوتے ہیں جو کہ قان سازی سے متعلق رائے عامہ اور سینیٹرز کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ امریکا میں یہ لابنگ فرمز انتخابی مہم بھی چلاتی ہیں اور اس سلسلے میں ہزاروں ڈالز سینیٹرز سے وصول کیے جاتے ہیں‘۔اشرف جہانگیر قاضی کے مطابق ’امریکہ میں بلینئرز اور کارپوریٹ سیکٹر حکومتوں پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور اسی لیے امریکی جمہوریت کو ’رول آف منی‘ بھی کہا جاتا ہے، اور اس قسم کی لابنگ فرمز ایک بہت بڑا کاروبار ہے۔
ایک سابق سفیر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’طاقتور امریکی سینیٹرز کے عمران خان کے حق میں بیانات دینا انہیں لابنگ فرمز کو ہائر کرنے کا نتیجہ ہے کیونکہ امریکا میں کانگریس پر ان فرمز کا اثر و رسوخ موجود رہتا ہے جو کسی بھی معاملے پر امریکی کانگریس مین کی رائے بنانے میں کردار ادا کرتا ہے‘۔سابق سفیر کے مطابق ’زلمے خلیل زاد کی بھی اچانک پاکستان کی صورتحال سے متعلق سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی رائے بھی اسی کا نتیجہ ہے، گو کہ وہ اس وقت کسی حکومت کا حصہ نہیں ہیں لیکن وہ ابھی بھی کسی نہ کسی طریقہ سے اثر و رسوخ رکھتے ہیں‘۔انہوں نے بتایا کہ ’امریکا میں تھینک ٹینکس اہم کردار ادا کرتے ہیں اور زلمے خلیل زاد تھینک ٹینکس کا اب بھی حصہ ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف عالمی سطح پر مختلف اداروں کو خطوط لکھ کر ڈائریکٹ رابطے بھی کر رہی ہے،چند روز قبل تحریک انصاف کے رہنما شیری مزاری نے اقوام متحدہ کے مندوب کو لکھے گئے خط میں یہ تحریر کیا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور خواتین اور بچوں پر بھی تشدد کیا جاتا ہے۔ قبل ازیں شیری مزاری نے عمران خان کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات سے متعلق اقوام متحدہ سے رجوع کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ حکومت توہین مذہب کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے مرکزی راہنما جن میں فواد چوہدری نمایاں طور پر شامل ہیں تواتر کے ساتھ وفاقی دارالحکومت میں مختلف ممالک کے سفارتکاروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور رواں ہفتے بھی انہوں نے ان ملاقاتوں میں بعض سفارتکاروں کو اپنی جماعت کے موقف سے آگاہ کیا تھا، اس سے قبل وہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے بھی ایک سے زیادہ مرتبہ ملاقاتیں کر چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے راہنمائوں کی ان تمام سرگرمیوں کو حکومتی حلقے تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس طرزعمل کو اپوزیشن کی جانب سے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کی دعوت کے مترادف قرار دیتے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اپنی حکومت کے دوران اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کے راہنمائوں کی غیرملکی سفیروں اور قانون سازوں سے ملاقاتوں پر شدید تنقید کرتے تھے اور یہ الزام بھی عائد کرتے تھے کہ وہ ان غیر ملکی سفیروں سے مل کر ان کی حکومت گرانے کی سازش میں ملوث تھے۔ اب حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے امریکی ایوان نمائندگان، ہاؤس آف لارڈز، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں سے عمران خان، اراکین پارلیمنٹ اور کارکنوں پر تشدد کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
