PTI کے وکلاء گروپ کی چھٹی، بیرسٹر گوہر کی چیئرمینی خطرے میں

علیمہ خان کی جانب سے عمران خان کی صحت، علاج اور قانونی مقدمات کے حوالے سے پارٹی وکلاء رہنماؤں کو چارج شیٹ کرنے کے بعد پی ٹی آئی قیادت میں تبدیلی کی بازگشت میں تیزی آ گئی ہے، سیاسی حلقوں میں افواہیں گرم  ہیں کہ آنے والے دنوں میں وکلا گروپ کے موسمی پرندوں سے تنظیمی اختیارات اور قیادت واپس لے کر پارٹی کے دیرینہ اور نظریاتی کارکنوں کو آگے لایا جا سکتا ہے۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق علیمہ خان کے شدید تحفظات کے بعد چئیرمین بیرسٹرگوہر کی تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق علیمہ خان کی جانب سے پارٹی کے وکلا رہنماؤں پر عائد کیے گئے الزامات نے نہ صرف قیادت کی کارکردگی بلکہ اختیار کے مرکز پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ علیمہ خان کے بیانات کے بعد پارٹی کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ آیا پی ٹی آئی میں موجودہ سیٹ اپ برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق علیمہ خان کے تنقیدی بیانات اور تحفظات نے محض پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کو ہی بے نقاب نہیں کیا بلکہ یہ تنازع اب قیادت کے اختیارات، حکمتِ عملی اور فیصلوں کے مرکز تک جا پہنچا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول پی ٹی آئی میں 2024 کے انتخابات سے قبل بنائی گئی وکلا قیادت کو عارضی انتظام سمجھا جا رہا تھا، تاہم موجودہ صورتحال میں یہی بندوبست تنقید کی زد میں ہے۔ تاہم اب علیمہ خان کے دوٹوک مؤقف کے بعد یہ قیاس آرائیاں مزید مضبوط ہو گئی ہیں کہ مستقبل قریب میں تحریکِ انصاف کے تنظیمی ڈھانچے میں نمایاں اور ممکنہ طور پر بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

عمران خان کی ہسپتال منتقلی ممکن کیوں نہ ہو سکی؟ اندرونی کہانی منظر عام پرآگئی

یاد رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی کی باگ ڈور عارضی طور پر وکلا گروہ کے سپرد کی گئی تھی، خصوصاً 2024 کے انتخابات سے قبل جب کئی سینئر رہنما پارٹی چھوڑ چکے تھے۔ اسی تناظر میں بیرسٹر گوہر کو چیئرمین بنایا گیا تھا جبکہ مختلف قانونی ماہرین کو اہم تنظیمی ذمہ داریاں دی گئں تھیں۔ تاہم ناقدین کے مطابق یہ انتظام وقتی نوعیت کا تھا، اور اب جب عمران خان کی صحت اور رہائی کا معاملہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے تو قیادت کے ڈھانچے پر سوالات شدت اختیار کر رہے ہیں۔پارٹی کے اندر اس حوالے سے ایک رائے یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ وکلا گروہ کو دی گئی عارضی قیادت اب اپنی افادیت کھو چکی ہے، اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ان موسمی پرندوں سے جان چھڑا کر دیرینہ اور نظریاتی پارٹی کارکنوں کو دوبارہ آگے لایا جائے تاکہ پارٹی کی احتجاجی تحریک کو مضبوطی سے آگے چلایا جا سکے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا ’وکلا گروہ‘ ہی نشانے پر کیوں ہے؟

صحافی و تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق پی ٹی آئی میں سامنے آنے والے حالیہ اختلافات کی بنیادی وجہ واضح حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔ ان کے بقول پارٹی اور خاندان تاحال اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے کون سی سیاسی اور قانونی حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ یہی ابہام پارٹی میں اندرونی کشمکش کو جنم دے رہا ہے۔ ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں اکثر قیادت کے خلا کو پُر کرنے کے لیے خاندان کا کردار بڑھ جاتا ہے، اسی وجہ سے عملی طور پر پارٹی کے اندر کئی معاملات اب علیمہ خان کی طرف منتقل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، عملی طور پر پی ٹی آئی کی قیادت علیمہ خان کے ہاتھ میں آتی نظر آتی ہے۔  ماجد نظامی کے مطابق تحریک انصاف کے اندر اس وقت مختلف گروہ سرگرم ہیں۔ ایک گروہ سوشل میڈیا اور جارحانہ بیانیے پر انحصار کرتا ہے، جبکہ دوسرا قانونی اور پارلیمانی راستے کو ترجیح دیتا ہے۔ 2024 کے انتخابات سے قبل مشکل حالات کے پیشِ نظر وکلا کو قیادت سونپی گئی اور بیرسٹر گوہر علی خان کو پارٹی سربراہ بنایا گیا، تاہم جارحانہ سوچ رکھنے والے حلقوں کے نزدیک یہ حکمتِ عملی عارضی ہونی چاہیے تھی۔ ان کا مؤقف ہے کہ وکلا قیادت وقتی ضرورت تھی، جسے اب تبدیل کیا جانا چاہیے۔ چونکہ تاحال ایسی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اس لیے وکلا گروہ اندرونی تنقید کا ہدف بن رہا ہے۔

سہیل آفریدی کا رہائی فورس کے قیام کا اعلان ٹھس کیسے ہوا؟

تحریک انصاف کی اندرونی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار حبیب اکرم بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ وکلا قیادت ایک ’عارضی انتظام‘ تھا، جو اس وقت کیا گیا جب کئی سینئر رہنما پارٹی چھوڑ چکے تھے یا عملی سیاست سے باہر ہو گئے تھے۔ تاہم ان کے مطابق اس وقت اصل مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی وکلا قیادت نہ تو عمران خان کو مقدمات میں کسی قسم کا ریلیف دلانے میں سرخرو ہوئی ہے اور نہ ہی عوامی سطح پر مضبوط سیاسی رابطہ استوار کر سکی اور نہ ہی کارکنوں کو متحرک رکھنے میں مکمل کامیاب ہوئی ہے اسی وجہ سے اب ان پر سر عام سوال اٹھنے لگے ہیں۔ حبیب اکرم کے مطابق عمران خان کی صحت کے معاملے نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ان کے خیال میں موجودہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں تنظیمی سطح پر تبدیلی ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ منتخب ارکانِ اسمبلی اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے، تاہم غیر منتخب عہدیداروں کی تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ عمران خان سے کسی بھی آئندہ ملاقات کے بعد پارٹی قیادت میں بڑی تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں اور پی ٹی آئی میں عمران خان کی قیملی کے کردار کے حوالے سے ایک نیا باب بھی کھل سکتا ہے۔

Back to top button