عمران کو سیاست سے مائنس کرنے کی سازش میں PTI  لیڈرز ملوث

عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے ترجمان نیاز اللہ خان نیازی نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف کے بانی کو سیاست سے مائنس کرنے کی سازش پارٹی کی اندر سے ہی تیار کی جا رہی ہے لیکن باہر موجود پارٹی قیادت خاموش رہ کر اس سازش میں حصہ ڈال رہی ہے۔

معروف انگریزی روزنامہ ڈان کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں عمران خان کے کزن اور ان کے ترجمان نے تسلیم کیا ہے کہ حالیہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں مخصوص نشستوں سے محروم ہونے کے بعد پی ٹی آئی ہچکولے کھارہی ہے اور بے یقینی کا شکار ہے۔ انکا کہنا تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سازشیں اپنی جگہ لیکن پارٹی کی موجودہ ابتر صورتحال کی اصل وجہ تحریک انصاف کے اندرونی الیکشن بنے، جن کا اصل مقصد عمران خان کو سیاست سے ’مائنس‘ کرنا تھا۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی کے الیکشن خود نیاز اللہ نیازی نے کروائے تھے جو تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر تھے۔

اپنے انٹرویو میں نیاز اللہ خان نیازی نے دعویٰ کیا کہ عمران کو سیاسی میدان سے باہر کرنے کے لیے ایک جامع اور سوچا سمجھا منصوبہ نافذ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی انجینئرنگ کرتے ہوئے پارٹی میں اندرونی غداروں کے ذریعے ایک سازش ترتیب دی گئی، جسے جیل سے باہر موجود ہماری پارٹی قیادت کی خاموشی اور بے عملی نے اسے ممکن بنایا۔ نیاز اللہ خان نیازی نے کہا کہ یہ سازشیں محض بیرونی دباؤ یا عدالتی حدود سے تجاوز کا نتیجہ نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے اپنے حلقوں کے اندر سے ہونے والی غداری کا نتیجہ ہیں۔ نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ ’سیاسی انجینئرنگ پر مبنی ایک مربوط آپریشن‘ کیا گیا، جس میں پی ٹی آئی کی قیادت، عدالتی فیصلے اور الیکشن کمیشن کی کارروائیاں شامل تھیں تاکہ پارٹی کے بانی کو سیاست سے نکالا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی بانی تمام تر مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے ہیں، لیکن مرکزی قائدین اب بھی اسٹیبلشمنٹ-عدلیہ کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرنے اور اپنے قید رہنما کو ریلیف دلانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کے بجائے، خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے اندرونی انتخابات کو خود پر لگایا گیا زخم قرار دیا، اور مخصوص نشستوں کے عدالتی فیصلے کو اندرونی غلطیوں اور عدالتی عمل کی انجینئرنگ کا نتیجہ قرار دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نیاز اللہ نیازی (جو پی ٹی آئی کے فیڈرل چیف الیکشن کمشنر کے طور پر اندرونی انتخابات کی نگرانی کر رہے تھے) نے پارٹی کی قیادت کے ایک گروپ پر ان غلطیوں کا الزام لگایا، جن کے باعث پارلیمان میں پارٹی کی عددی طاقت ٹوٹ گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کی جانب سے نصف درجن سے زائد امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا الیکشن کمیشن کو نتائج کو کالعدم قرار دینے کے لیے قانونی جواز فراہم کر گیا، اور آخرکار سپریم کورٹ نے پارٹی کا انتخابی نشان واپس لے لیا۔ ان افراد میں اکبر ایس بابر، محمود خان، نرین فاروق، بلال اظہر رانا، محمد مزمل سندھو، احمد حسن، محمد یوسف، اور اسد اللہ خان شامل تھے۔

لیکن اکبر ایس بابر (جنہوں نے پارٹی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کا کیس بھی دائر کیا تھا) کے سوا دیگر امیدوار سیاسی طور پر نمایاں شخصیات نہیں تھے۔ پی ٹی آئی اور اکبر ایس بابر کے درمیان تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے، اور وہ جب سے پارٹی سے نکالے گئے، ہر قانونی راستہ آزما چکے ہیں تاکہ پارٹی پر اپنا دعویٰ قائم کر سکیں۔ لیکن نیاز اللہ نیازی نے دعویٰ کیا کہ ان امیدواروں کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکنے کا فیصلہ ان سے مشورہ کیے بغیر کیا گیا تھا۔ انہوں نے اسے اندرونی تخریب کاری کی کارروائی قرار دیا، کیوں کہ یہی افراد بعد میں سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوئے، ان کی گواہی ان وجوہات میں شامل تھی جن کی بنیاد پر تب کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ دیا۔

نواز شریف کی جیل جا کر عمران سے ملاقات کی خواہش کس کی ہے؟

پی ٹی آئی کے اپنے انتخابی فریم ورک کے مطابق، امیدواروں کو پینل کی صورت میں الیکشن لڑنا ہوتا ہے، نیاز اللہ نیازی کے مطابق اگر ان افراد کو الیکشن میں حصہ لینے دیا جاتا، تو ان کے کاغذات نامزدگی جانچ پڑتال میں مسترد ہو جاتے، اور یوں انتخابی عمل کی قانونی حیثیت محفوظ رہتی۔ نیازی نے بتایا کہ وہ 2009 اور 2012 میں بھی کامیابی سے پارٹی کے اندرونی انتخابات کروا چکے ہیں، تب وہ پی ٹی آئی اسلام آباد کے ریجنل ہیڈ تھے، اور ان انتخابات کو الیکشن کمیشن نے تسلیم بھی کیا تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے پہلے یہ مسئلہ کیوں نہیں اٹھایا، تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں ان 8 انتخابی امیدواروں کے الیکشن میں حصہ لینے کا علم ہی پولنگ کے دن ہوا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مجھے نااہلیوں کا علم پولنگ کے دن ہی ہوا، اس بات کو مجھ سے چھپایا گیا، اور یہ ایک سوچا سمجھا عمل تھا، بعد میں انہوں نے یہ معاملہ پارٹی قیادت کے سامنے اٹھایا، لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اب جا کر یہ بات کیوں کی، تو ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔

Back to top button