مذاکرات کی تجویز دینے والے پی ٹی آئی رہنما کس خوف کا شکار ہیں ؟

سپریم کورٹ کی جانب سے 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر ہوئے حملوں میں ملوث گرفتار ملزمان کو سزائیں سنانے کی ڈیڈ لائن قریب آتے ہی تحریک انصاف کے 5 مرکزی رہنماؤں بشمول وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے جیل سے خط لکھ کر حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے جس کا بنیادی مقصد ممکنہ سزاؤں سے بچنا ہے۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ان رہنماؤں کا سزاؤں سے بچنا ممکن نہیں ہے کیونکہ اصل فیصلہ ساز فوجی تنصیبات پر حملوں کے ملزمان کو نشان عبرت بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ خط پی ٹی آئی کے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا۔ لاہور میں قید پی ٹی آئی کے جن رہنماؤں نے حکومت کو خط لکھ کر مذاکرات کی تجویز دی ہے ان میں شاہ محمود قریشی کے علاوہ سابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید، سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری اور کچھ ہفتوں کے لیے گورنر پنجاب بننے والے عمر سرفراز چیمہ شامل ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اپنے خط میں حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ مذاکرات کے لیے عمران خان کو پارٹی لیڈرز کے ساتھ ملاقاتوں کی اجازت دی جائے۔ اسیر رہنماؤں نے اپنے مشترکہ خط میں لکھا ہے کہ ’ملک اس وقت بدترین سیاسی و معاشی بحران کا شکار ہے جس سے نکلنے کا واحد راستہ جامع اور سنجیدہ مذاکرات ہیں۔‘

خط میں کہا گیا ہے کہ ’مذاکرات ہر سطح پر ہونا ضروری ہیں، چاہے وہ سیاسی سطح پر ہوں یا فوج کے ساتھ۔‘

پی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ’ملک کو موجودہ بند گلی سے نکالنے کے لیے سیاسی سطح پر فوری مذاکرات کا آغاز ناگزیر ہے۔‘

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ لاہور میں قید پارٹی رہنماؤں کو بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے اور مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل کے لیے چیئرمین عمران خان تک رسائی ممکن بنائی جائے تاکہ پارٹی وسیع مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کر سکے۔ جیل میں قید تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق ’عمران خان سے ملاقات کا یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہنا چاہیے تاکہ بدلتی ہوئی صورت حال کے مطابق حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔‘

تاہم سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ خط لکھ کر 9 مئی کے منصوبہ ساز نہ تو سزاؤں سے بچ پائیں گے اور نہ ہی حکومت تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کرے گی چونکہ پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں 9 مئی 2023 کے حملوں میں ملوث کئی ملزمان بالآخر اپنے انجام کو پہنچنا شروع ہو چکے ہیں جن میں تحریک انصاف کے وہ اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی بھی شامل ہیں جو 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے میں شریک تھے۔ اگر ان منتخب اسمبلی اراکین کو سزائیں ہوتی ہیں تو قومی و صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی عددی طاقت مزید کم ہو جائے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق 9 مئی کے کیسز کے حوالے سے سپریم کورٹ کی دی گئی ڈیڈ لائن قریب آنے کی وجہ سے پی ٹی آئی کی قیادت کو شدید قانونی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہےکیونکہ ان کیسز میں پی ٹی آئی کے کارکنان کے علاوہ 52 اراکین قومی اسمبلی بھی نامزد ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ اراکین اسمبلی کو ان کیسز میں ممکنہ سزاؤں اور نااہلی کے خدشات نے نہ صرف پی ٹی آئی کی پارلیمانی پوزیشن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ اس کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔  اس سیاسی اور عدالتی کشمکش نے ملک میں ایک نئی سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے، لیکن مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے تازہ عدالتی فیصلوں سے یوتھیوں کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ گئی ہیں اور عمران خان کی سیاست کا دھڑن تختہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل امجد حسین شاہ کا کہنا ہے کہ ’9 مئی کے مقدمات میں جن پی ٹی آئی ایم این ایز کو سزائیں سنا دی گئی ہیں یا سنائی جانے والی ہیں انہیں الیکشن کمیشن نااہل قرار دینے کا پابند ہے اور یہ نااہلی پانچ سال کے لیے ہو گی۔ تاہم سزا کی صورت میں ملزمان کو 30 دن میں اوپر والی عدالت میں اپیل کا حق ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن قریب آتے ہی شاہ محمود قریشی اور ان کے چار ساتھیوں کی جانب سے حکومت کو مذاکرات کے لیے لکھے گے خط کا مقصد صرف سزاؤں سے بچنا ہے، لیکن ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا چونکہ مخصوص نشستوں کے کیس کے فیصلے کے بعد حکومت کو کوئی اور بڑا چیلنج درپیش نہیں رہا اور وہ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ‘ انسداد دہشت گردی کی عدالت اسلام آباد نو مئی تھانہ رمنا حملے کے مقدمے میں 30 مئی کو تحریک انصاف کے ایم این اے عبد الطیف سمیت 11 ملزمان کو مجموعی طور پر 15 سال چار ماہ قید اور جرمانے کی سزا سنا چکی ہے۔ اسی طرح لاہور سمیت کئی شہروں میں بھی 9 مئی کے کیسز کی سماعت حتمی مراحل میں ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق 9 مئی کے کیسز میں تحریک انصاف کی کی مرکزی قیادت سمیت اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور پارٹی عہدیداران نامزد ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستیں بحال کر دیں

ان کیسز کے عدالتی فیصلوں کی صورت میں کئی ایم این ایز کو بھی نااہل قرار دیے جانے کا امکان ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے خلاف اسلام آباد اور لاہور میں 9 مئی کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔ اسی طرح سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی مردان میں 9 مئی کے کیس میں نامزد ہیں۔ زرتاج گل ڈیرہ غازی خان، عامر ڈوگر ملتان اور زین حسین قریشی لاہور میں 9 مئی کے مقدمات میں نامزد ہیں۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے خیبر پختونخواہ اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے اکثر ممبران قومی اسمبلی دہشتگردی جیسے کیسز میں نامزد ہیں۔

Back to top button