آرمی چیف سے ملاقات پر PTI قیادت کی سوشل میڈیا پر دھلائی

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کی آرمی چیف سے ملاقات کے بعد خوشی کے شادیانے بجانے پر یوتھیے رہنماؤں کی سوشل میڈیا پر دھلائی جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد عسکری قیادت پر الزام تراشیاں کرتے ہوئے اسے میر جعفر اور میر صادق جیسے القابات سے نوازنے والے پی ٹی آئی رہنما آج ایک ملاقات پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے اگرچہ عسکری ذرائع نے بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کو غیر سیاسی قرار دے دیا ہے تاہم پی ٹی آئی قیادت اس پر ایسے واویلا مچا رہی ہے جیسے عسکری قیادت نے ایک بار پھر عمران خان کو گود لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ناقدین کے مطابق یوتھیے رہنماؤں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی سہولتکاری کے دن ختم ہو چکے ہیں۔ ان کی ماضی کی کارستانیوں، 9 مئی کے شرپسندانہ واقعات، جلاؤ گھیراؤ اور انتشاری سیاسی حکمت عملی کے بعد عسکری قیادت تو کجا کوئی بھی ذی شعور شخص ان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہے۔
خیال رہے کہ پشاور میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین گوہرخان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپورکی آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے براہ راست ملاقات ہوئی ہے جسے عمران خان نے بھی خوش آئند قرار دیا ہے تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس غیر سیاسی ملاقات پر بھی سیاست سیاست کھیلنے کی بھرپور کوشش کی تاہم عسکری حکام نے اس ملاقات بارے قائم بیانیے کی بروقت یہ کہہ کر ہوا نکال دی کہ آرمی چیف کی پی ٹی آئی رہنماؤں سے اجتماعی ملاقات خیبر پختونخوا میں سکیورٹی امور بارے ہوئی‘ تاہم سیکورٹی امور بارے بات چیت کو سیاسی رنگ دیا گیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا یہ طرز عمل افسوس ناک ہے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد جہاں پی ٹی آئی مخالف رہنما بیانات داغ رہے ہیں وہیں سوشل میڈیا پر بھی یوتھیے رہنما عوامی تنقید کی زد میں ہیں آرمی چیف سے حالیہ ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ صحافی سید طلعت حسین نے لکھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنی حکمت عملی بدل کر عمران کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ لگتا ہے اب جیسے انہیں جیل میں ڈالنا قومی مفاد میں تھا، ویسے ہی انہیں جیل سے نکالنا بھی قومی مفاد میں ہو گا۔
تحریک انصاف کا چارٹر آف ڈیمانڈNROپلس کیوں قرار پایا؟
صحر انورد نامی صارف نے لکھا کہ ڈکیتوں کے وفد نے آرمی چیف سے ملاقات کی ہے اور پاؤں میں گرکے معافی مانگی ہے اور اس کے بعد اسٹاک مارکیٹ گر گئی۔
شمع جونیجو نے کہا کہ اور برف ٹوٹ گئی، پی ٹی آئی پھر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹریک پر آگئی ہے۔ بیرسٹر گوہر کل ملاقات سے انکار کر رہے تھے اور آج اقرار کر لیا۔ سول سپریمیسی اورغلامی نا منظور کا نعرہ لگانے والوں کے چہرے سے پھوٹتی خوشی دیکھیں۔
سحرش مان لکھتی ہیں کہ سیکیورٹی ذرائع نے ملاقات کا ’اصل احوال‘ جاری کر دیا ہے۔ بیرسٹر گوہر اور علی امین گنڈاپور کی آرمی چیف سے ملاقات کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ آرمی چیف سے بات چیت کو سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے۔
اینکر غریدہ فاروقی نے پی ٹی آئی کی آرمی چیف سے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ رہی انقلاب کی کُل اوقات، آرمی چیف سے ملاقات کی بےتابی، بےچینی اور بعد از ملاقات جوش ولولہ، بہتری کی امیدیں اور اب معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے پوچھا جائے کہ آپ کا اسٹیبلشمنٹ کو غیرسیاسی کرنے کا مطالبہ اور اس نام نہاد جدوجہد ’جہاد‘ کا کیا ہوا؟ انہوں نے مزید لکھا کہ بس ایک ملاقات پر ڈھیر ہونے والے کاغذی شیر۔غریدہ فاروقی نے سوال کیا کہ سیاستدانوں کا آرمی چیف سے ملاقات کا کیا کام ہے؟ اور آرمی چیف کے سامنے تمام معاملات رکھنے کا کیا تعلق ہے؟ ان کا ’انقلاب‘ صرف اتنا ہے کہ ہمیں دوبارہ گود لے لیں اور یہ بارہا ثابت بھی ہوا ہے۔ان کا مزید کہانا تھا کہ ہمارا تو بطور صحافی فرض ہے ہر ایک سے بات کرنا خبر لینا اور ہمارے پیشہ ورانہ تعلق کی بنیاد پر ہمارے خلاف مہم چلانے، بائیکاٹ کرنے والے ان نام نہاد جعلی ’انقلابیوں‘ کو اب جواب دینا ہو گا کہ اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھنے کا جواب تو دیں۔
