پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی موقع ملتے ہی بھاگنے کو تیار

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد حکومت نے اپنے بچاؤ کے لئے بھاگ دوڑ شروع کر دی ہے اور اراکین اسمبلی کے رکے ہوئے فنڈز بھی جاری ہونا شروع ہو گئے ہیں، تاہم سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ حکومت کافی لیٹ ہو چکی کیونکہ اراکین اسمبلی کا اصل مسئلہ اب فنڈز حاصل کرنا نہیں رہا بلکہ اگلے الیکشن میں اپنی سیٹیں بچانا ہے جو کپتان حکومت کی ناکامی کی وجہ سے خطرے میں پڑ چکی ہیں۔ لہذا حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی کی ایک بڑی تعداد موقع ملنے پر بھاگنے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔
معروف صحافی فہد حسین اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ حکمران جماعت کے ناراض اراکین کو آج سے زیادہ اپنے کل کی فکر لاحق ہو چکی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنا سیاسی سرمایہ وہاں لگائیں جہاں سے انہیں انتخابی فوائد حاصل ہو سکیں۔ سیاسی مشکلات میں گھر جانے والی حکومت اب انہیں فنڈز دینے پر تو مجبور ہو گئی ہے لیکن اصک سوال یہنہے کہ کیا اب پی ٹی آئی کا ٹکٹ انہیں انتخابی فتح دلوا سکتا ہے؟ بقول فہد حسین، اعتماد کے ووٹ سے پہلے پراعتماد ہونے کی اداکاری کرنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ لیکن اس بار یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ کون سی جانب سے زیادہ اداکاری ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یا کم از کم وہ ہمیں یہی یقین دلانا چاہتے ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک کے اعلان کے بعد وہ ماسکو چلے گئے — ایک سیاسی اور عسکری طوفان کے بیچوں بیچ – اور وہ بھی اپوزیشن کی طرف سے جلد ہونے والے حملے کی پروا کیے بغیر۔ ان کے کابینہ کے ساتھی بھی گھبرانے کی بجائے دلیری کا تاثر دے رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات فواد چودھری مخالفین کا مذاق اڑا کر خوش ہو رہے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ مذاق اڑانے سے کچھ نہیں ملتا۔ کابینہ کے دیگر کئی وزرا بھی پراعتماد ہونے کی اداکاری کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ صحافیوں سے لڑ جھگڑ بھی رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ نمبرز کبھی جھوٹ نہیں بولتے، لیکن کبھی کبھی بول بھی دیتے ہیں۔
فہد حسین کہتے ہیں کہ 178 کا میجک نمبر جو PTI نے حال ہی میں کچھ مواقع پر حاصل قومی اسمبلی میں حاصل کر کے دکھایا تھا، اب 172 سے بھی نیچے گرنے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔ بڑا خطرہ پنجاب میں منڈلا رہا ہے جہاں وزیر اعلیٰ بزدار کو کہا گیا ہے کہ وہ ان تمام پارلیمنٹیرینز کی شکایتیں دور کریں جو ان نمبرز کو ہلا سکتے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سے لوگوں کو بہت زیادہ امیدیں نہیں ہیں۔ حکومت کے ان ناراض اراکین کو آج سے زیادہ مستقبل کی فکر ہے۔
وہ چاہتے ہیں کہ اپنا سیاسی سرمایہ وہاں لگائیں جہاں سے انہیں انتخابی فوائد حاصل ہو سکیں۔ جب تک کہ انہیں ٹھوس یقین دہانیاں نہ کروا دی جائیں کہ پی ٹی آئی اپنے رستے زخموں کو بھر سکتی ہے اور اپنے ووٹرز کو دوبارہ اپنی جانب راغب کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے پاس ممکن ہے ایک دو داؤ ابھی باقی ہوں۔ آخری صفوں میں موجود ان کے پارٹی اور اتحادی جماعتوں کے ارکان غور سے دیکھ رہے ہیں۔ بہت غور سے وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہوا کس طرف چل رہی ہے۔ گردن یا آنکھ کا ایک اشارہ، کوئی سرگوشی، کچھ بھی ایسا جو انہیں واضح طور پر بتا سکے کہ ان کا سیاسی مستقبل اب کہاں محفوظ ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن بھی پوری اداکاری کر رہی ہے۔
پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں کس معاملے پر ڈیڈ لاک ہے؟
لاہور میں لگی رونق میں مناظر بڑے اہم ہیں۔ ایک ملاقات یہاں، ایک عشائیہ وہاں – شہباز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ ان کے پاس نمبرز ہیں۔ یا وہ بہت ہی قریب ہیں۔ لیکن ریڈ زون ذرائع کے مطابق وہ بھی جانتے ہیں کہ ڈاج کرتے ہوئے ڈی میں داخل ہو جانے کا مطلب یہ نہیں کہ گول بھی ہو جائے گا، خاص طور پر جب گول پوسٹ مستقل تبدیل ہوتی رہتی ہو۔
اس منی سیریز میں اتنے مختلف پلاٹ ہیں کہ کبھی کبھی سکرپٹ کی باریکیوں کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالات میں ایک کنفیوژن کا تاثر ہے۔ کچھ تو جان بوجھ کر کنفیوژن پھیلائی گئی ہے یعنی انہیں مصروف رکھو اور اپنا کام رازداری سے دکھا دو۔
فہد حسین کہتے ہیں کہ کچھ اہم کھلاڑیوں نے واقعی ابھی تک فیصلہ نہیں کیا۔ ایک تیسرا محرک بھی ہے: وہ یہ کہ پلاٹ خود ہی بڑا پیچیدہ ہے۔ جس دن یہ سب ہوگا، اس سے اگلے دن کیا ہوگا؟ اور پھر اس سے اگلے دن کیا ہو گا؟ ایک دوسرے سے ٹکراتے ان مفادات کے بیچ میں سے اس ناؤ کو نکالنا خاصا مشکل ہو رہا ہے۔ اسلام آباد کی ریڈ زون میں اضطراب ہے۔ سب ایک دوسرے کو پڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ پڑھ نہیں پا رہے۔
ان تمام چیزوں کو ایک جگہ رکھ کر دیکھنے سے صورتحال کچھ واضح ہوتی ہے۔ کچھ اندرونی ذرائع سے بات کریں تو آپ کو ایک ایسا منظرنامہ دیکھنے کو ملے گا جو دیگر اندرونی ذرائع کے منظرنامے سے بالکل الٹ ہوگا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اب اپوزیشن کے حملے کو روکنے کے لئے ہونے والی کوششوں کو خود لیڈ کر رہے ہیں۔ ان کی حالیہ چالوں میں عملی سیاست کی سمجھ جھلکتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کس مسئلے کو پہلے حل کرنا ہے اور کیسے۔ کیا وہ یہ کر پائیں گے؟ یہیں تو مسئلہ ہے۔
بقول فہد حسین، پلان بی پر بھی کام جاری ہے۔ لیکن اس میں خطرات بہت ہیں۔ اسے بہت ہی خفیہ رکھا جا رہا ہے، لیکن ایک چیز میں کوئی شک نہیں: اگر پہلے سیزن کا اختتام تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی پر ہوا تو پھر اس سیریز کا ایک دوسرا سیزن بھی آئے گا۔ اس دوران سپیکر اسد قیصر بہت مصروف ہیں اور ان کا عملہ بھی۔ تحریک عدم اعتماد کے وقت قومی اسمبلی چلانے کے قوانین، اعر قواعد اور ضوابط بہت اہم کردار ادا کریں گے۔
اس سارے عمل کے دوران اپوزیشن کو ایک خدشہ یہ ہے کہ اگر ان کے ساتھ پھر سے دھوکہ ہو گیا تو کیا ہو گا؟ اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں عدم اعتماد لا کر ہارنے سے بہتر ہے کہ پیچھے ہٹ جایا جائے۔ لیکن مسئلہ یہ بھی یے کہ اس یو ٹرن کا جواز کیا دیا جائے گا؟ بہانہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ ادارے غیر جانبدار رہنے کا وعدہ پورا نہیں .کررہے تھے
فہد حسین کہتے ہیں کہ آگے کی صورتحال میں صرف یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ اگر یہ سیٹ اپ گرایا جاتا ہے تو اگلا سیٹ اپ کیا ہوگا بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ اس سیٹ اپ کو کتنے عرصے میں کیا کرنے کو کہا جائے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ الیکشن 2018 کو دیکھتے ہوئے اگلے انتخابات کیسے کروائے جائیں گے۔ اس کے لئے اداروں کے اندر ایک اتفاق رائے لازمی ہے اور پھر اس پر عملدرآمد کے لئے یقین دہانیاں بھی چاہیے ہوں گی۔
یہ بھی طے کرنا ہو گا کہ نکالے جانے کے بعد والے عمران خان سے کیسے نمٹا جانا ہے۔ اور ان سے کون نمٹے گا؟ یہ بڑے معاملات ہیں اور کافی پیچیدگیوں میں گندھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریڈ زون میں لوگ خود کو بھی بار بار یاد کرواتے رہتے ہیں کہ نمبرز جھوٹ نہیں بولتے، لیکن کبھی کبھی بول بھی دیتے ہیں۔
