پی ٹی آئی کا جسٹس اطہرمن اللہ کے اختلافی نوٹ کا خیرمقدم

تحریک انصاف کی جانب سے  براہ راست سماعت کے معاملے پر جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ کا خیرمقدم کیاگیا۔

بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی نیب ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست کی سپریم کورٹ میں سماعت کی براہِ راست نشریات کا معاملے پر جسٹس اطہر من اللہ نےاختلافی نوٹ تحریر کیاتھا ۔

ترجمان تحریک انصاف کاکہنا ہے کہ  قیام  پاکستان کے 77 برس بعد بھی ہمارا نظامِ عدل ماورائے دستور اور غیرجمہوری قوّتوں کے شکنجے سے آزادی کیلئے تڑپ رہا ہے،  غیر  جمہوری قوّتوں کے دستور پر پے در پے حملوں اور آگے پیچھے لگائے جانے والے مارشل لاز نے ہماری عدلیہ کے وجود میں نظریۂ ضرورت جیسی ناپاکی کو داخل اور پختہ کیا۔

ترجمان کے مطابق ہر دور کے غیرجمہوری آمر نے خوف، لالچ اور خفیہ و اعلانیہ مداخلتوں کے ذریعے کبھی براہِ راست پی سی او ججز کی شمولیت اور کبھی اپنے ٹاؤٹس کی بھرتیوں کے ذریعے عدلیہ کو اپنا دست نگر بناکر رکھنے کی روایت کو پختہ کیا،مشرقی پاکستان کے سقوط سے لیکر ملک و قوم اور دستور و جمہوریت پر ڈھائی جانے والی ہر قیامت کو ان آمروں کے اشاروں پر کمپرومائزڈ ججز کی سہولتکاری میسّر رہی۔

آئیں مل کر نفرت کو امید سے بدل دیں، نواز شریف کی مودی کو وزیر اعظم بننے پر مبارک باد

 

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ  آج بھی ملک میں دستور، قانون اور جمہوریت پر اترنے والے عذابوں کے پیچھے نظریۂ ضرورت کے ناپاک خمیر سے جنم پانے والی مجہول سوچ اور شخصی مفادات کے پھندے میں الجھی فکر کارفرما ہے،بڑے عہدوں پر حادثاتی طور پر براجمان حقیر اور ادنیٰ کردار ملک میں ننگی لاقانونیت، بے انصافی اور آئین و قانون سے کئے جانے والے کھلواڑ کے بےحمیّت سہولتکار بنے ہوئے ہیں ۔نیب ترامیم سے 24 کروڑ عوام کے مفادات اور ملک کا مستقبل وابستہ ہے جبکہ عمران خان دونوں کے امین ہیں۔۔

تحریک انصاف کے ترجمان کاکہنا تھاکہ فکری دیوالیہ پن اور نرگسیت کے ماحول میں چند ناتواں آوازیں عدلیہ کی درست سمت میں رہنمائی کی کوشش کرتی ہیں مگر تعصّب، بغض اور کج فکری کے کوہ ہمالیہ پر سوار اسٹیٹس کو اور اس کے دربانوں کے دل و دماغ کو جھنجھوڑنے میں بظاہر ناکام ہیں،قوم کے دلیر، بہادر اور صادق و امین قائد کی آواز دبا کر اور اسے بدترین ناانصافی اور امتیازی برتاؤ کا نشانہ بنا کر ریاستی چھچھورے نہ تو اسے دبا سکتے ہیں نہ قومی مفادات کی پاسبانی سے باز رکھ سکتے ہیں۔لاقانونیت اور دستور سے ننگے انحراف کو نظریۂ ضرورت کی آکسیجن دینے کی بجائے دستور و قانون کی منشاء واضح کرنے پر خصوصاً جسٹس اطہرمن اللہ کے مشکور ہیں۔

ترجمان کے مطابق ہر قسم کی ناانصافی، تکنیکی زیادتیوں اور ننگے جبر کے باوجود آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور قوم کی حقیقی آزادی کے نصب العین سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

Back to top button