این آر او مخالف عمران خان اب خود این آر او کیوں مانگنے لگے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ ماضی میں این آر او لینے والے سیاست دانوں کو ملعون اور مطعون کرنے والے عمران خان نے اب بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اپنے سابقہ موقف سے ایک بڑا یو ٹرن لیتے ہوئے موجودہ حکمرانوں سے ڈیل کر کے این ار او کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کی سیاست کی بنیاد ہی یوٹرن پر ہے۔ موصوف ماضی میں کہتے تھے نہ تو این ار او لوں گا اور نہ ہی این ار او دوں گا۔ اس کے بعد وہ یہ راگ الاپتے رہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خودکشی کو ترجیح دوں گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خان صاحب کی حکومت نے نہ صرف آئی ایم ایف سے قرضہ لیا بلکہ اب اپنی ذات کے لیے این آر او حاصل کرنے نکل کھڑے ہوئے ہیں تا کہ اڈیالہ جیل سے باہر آ سکیں۔ حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان کے یو ٹرنز کی ایک لمبی داستان ہے۔ موصوف پہلے فرماتے تھے کہ میری حکومت گرانا امریکی سازش تھی، پھر کہنے لگے کہ میری حکومت گرانا جنرل قمر باجوہ کی سازش تھی۔ ان کا دعوی تھا کہ امریکہ نے انہیں نکالنے کی خاطر سائفر لکھا تھا، لیکن پھر یہ موقف لیا کہ سائفر کے معاملے سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ اسی لیے موصوف سائفر کیس میں عدالت سے بھی بری ہو گئے۔ عمران خان سیاسی مشکلات کا شکار ہوئے اور انہیں مذاکرات کا مشورہ دیا گیا تو فرمانے لگے کہ میں تو چور اور ڈاکو سیاستدانوں کیساتھ نہیں بیٹھوں گا، لیکن اب اڈیالہ جیل کی اسیری سے تنگ آ کر موصوف فرماتے ہیں کہ میں پاکستان کیلئے سیاستدانوں کیساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں۔

بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش

 

حفیظ اللہ نیازی کے بقول عمران خان کی بدقسمتی ہے کہ اتنی بڑی اور مضبوط سیاسی جماعت کے قائد ہونے کے باوجود وہ عقل و فہم سے آری ہیں۔ انہیں بلا شبہ لڑائی میں مہارت اور دروغ گوئی نے سیاسی مقبولیت دے رکھی ہے۔ عمران خان کے کزن اور سابقہ بہنوئی حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ یہ بھی اپنی نوعیت کا ایک عجیب واقعہ ہے کہ بندہ 28 سال بھرپور سیاست کرے لیکن اس کا سیاسی نامہ اعمال حکمت عملی اور تدبر سے خالی ہو ۔ وہ بتاتے ہیں کہ بیتے دنوں میں انکی عمران خان سے مثالی قربت رہی۔ انہوں نے اس ضمن میں 2013 تک درجنوں بار ایک سیاسی ہم سفر ہونے کے ناطے خان سے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آپکی سیاست عقل، دانش، اور حکمت و تدبر سے خالی ہے، لہازا سیاست میں خواری آپکا مقدر بنی رہے گی۔ لیکن میرے توجہ دلانے پر موصوف جواب میں مجھے نواز شریف اور بینظیر بھٹو شہید کی نالائقیاں اور نااہلیاں گنواتے۔ یہیں سے خان میں سیاسی حکمت اور تدبر کی غیر موجودگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ وہ گِھسی پٹی بیان بازیوں پر مشتمل تکرار کیساتھ 28 سال سے سیاسی سفر پر گامزن ہیں۔ وہ آج تک کسی موقع پر بھی حکمت عملی اور تدبر و تدبیر کیساتھ سیاسی حریفوں کو نہیں پچھاڑ سکے ۔ وہ گالم گلوچ ، مبالغہ، اور غلط بیانی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا چکے ہیں۔ عمران اقتدار میں آئے توایک ہی رٹ لگائی کہ NRO نہیں دونگا، حکومت سے باہر ہوئے تو رٹ لگائی کہ NRO نہیں لوں گا ۔ ان کی سیاست میں تضاد اتنا ہے کہ نواز شریف کی جیل سے لندن روانگی ہو یا 2019 میں جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع،  عمران خان کی مہر تصدیق ثبت ہوتی رہی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عمران خان نے اقتدار لینے کیلئے ساری زندگی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے رالیں ٹپکائیں۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد خان نے پہلے مزے لوٹے اور پھر جب فوج سے لڑائی ہو گئی تو پہلے جنرل باجوہ پر حملے کیے اور پھر ان ہی سے این آر او لینے کے لیے منتیں کی۔ لیکن جب معافی نہ ملی تو دوبارہ سے باجوہ پر حملہ اور ہو گئے۔

حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ عمران خان نے اپنی سیاست کو پروان چڑھانے کیلئے اخلاق ، کردار ، ساکھ سب کچھ آگ میں جھونک ڈالا ۔ یہ انکی بدقسمتی ہے کہ 28 سالہ سیاسی زندگی میں موصعف نے اپنے ہر موقف سے یوٹرن لیا اور اپنے ہر فیصلے پر پچھتانا پڑا۔۔ انکا ایک عرصہ سے بیانیہ یہی رہا کہ میں تو جرنیلوں سے بات کروں گا، سیاستدانوں سے ہرگزنہیں۔ جواب میں فوجی ترجمان نے انہیں جھنڈی دکھاتے ہوئے صاف الفاظ میں بتا دیا کہ جب وہ تک نو مئی کے واقعات پر باقاعدہ معافی نہیں مانگیں گے تب تک بات چیت کا سوچیں بھی نہیں۔ فوج کی جانب سے فارغ کیے جانے کے بعد حسب سابق ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ کے ججز عمران کے ریسکیو کے لیے سامنے ائے اور انہیں حکومت سے مذاکرات کا مشورہ دیا جو موصوف نے بادل ناخواستہ اڈیالہ جیل کی اسیری سے نکلنے کے لیے قبول تو کر لیا ہے لیکن عملی طور پر ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔

Back to top button