ملک ریاض کو عمران کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش ناکام

پاکستان کے سب سے بڑے رئیل سٹیٹ ٹائیکوں اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے سے صاف انکار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر سارا کھیل کھول کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے اوپر تلے موجودہ ایکس اور سابقہ ٹوئیٹر پر اپنے دو مختلف پیغامات میں واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ کسی قسم کا سیاسی دباؤ قبول نہیں کریں گے اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہیں بنیں گے۔

واضح رہے کہ ملک ریاض حسین القادر ٹرسٹ کیس میں پہلے ہی مطلوب قرار دیے جا چکے ییں۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک ریاض پر لمبے عرصے سے مسلسل دباؤ ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں۔ ایسا کرنے پر انہیں ریلیف کی آفر بھی کی گئی ہے لیکن وہ ڈیل کرنے سے انکاری ہیں۔ یاد ریے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف رہنما عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انھوں نے بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے سینکڑوں کنال پر محیط اراضی اُس 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض حاصل کی، جس کی شناخت برطانیہ کے حکام نے کی تھی اور یہ رقم پاکستان کو واپس کر دی تھی۔ اس کیس میں عمران خان، بشری بی بی، ملک ریاض، علی ریاض اور دیگر کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔ تاہم عمران خان اور ملک ریاض دونوں نے ان الزامات کو سختی سے رد کیا ہے۔ جنوری 2024 میں احتساب عدالت نے ملک ریاض اور اُن کے بیٹے سمیت کیس کے پانچ دیگر شریک ملزمان کو کیس کی تفتیش میں شامل نہ ہونے پر مطلوب قرار دیتے ہوئے ان کی پاکستان میں موجود جائیدادیں منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

”ہیرا منڈی “میں اردو کا ”جنازہ“نکالنے پر مداح برہم

ملک ریاض سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے ساتھ ساتھ سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تاہم انھوں نے پہلی مرتبہ اپنی دھہمی طبیعت کے برعکس کھل کر ان لوگوں کو بے نقاب کرنا شروع کر دیا ہے جو ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ نیب حکام نے ان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن راولپنڈی کے دفاتر پر چھاپہ مارا ہے اور یہ سب کچھ ان پر ’دباؤ ڈالنے‘ اور ’وعدہ معاف گواہ‘ نہ بننے کے نتیجے میں کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’ملک ریاض وعدہ معاف گواہ نہیں بنے گا۔ راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کے دفاتر پر سرکاری مشینری نے بغیر کسی قانونی اختیار کے چھاپے مارے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ کسی بھی سیاسی اقتدار کی جدوجہد میں فریق نہ بننے کے اپنے عوامی اعلان کے بعد، مجھے کھلی توڑ پھوڑ اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

ملک ریاض نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’یہ چھاپے گھنٹوں تک جاری رہے، دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور دفاتر میں تعینات سکیورٹی اور عملے کو ہراساں کیا گیا۔ چھاپہ مار ٹیم پانچ ہزار سے زائد اہم پراجیکٹ فائلیں، دفتری ریکارڈ، 23کمپیوٹر، نیٹ ورک ڈیٹا، محکمانہ نقدی وغیرہ اور نو گاڑیاں اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔‘ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ چھاپے ریاستی اداروں کی جانب سے ’سیاسی ایجنڈے کے تحت بحریہ ٹاؤن پر دباؤ ڈالنے کے لیے مارے جا رہے ہیں۔‘ انھوں نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ’کٹھ پتلی نہیں بنیں گے‘ اور وزیر اعظم، وزیراعلیٰ پنجاب، وزارت داخلہ، نیب اور ایف آئی اے کے سربراہان سے بحریہ ٹاؤن کے عملے کو فوری طور پر رہا کرنے اور بحریہ ٹاؤن کے دفاتر سے تمام دستاویزات اور ضبط شدہ سامان واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ اپنی 28 مئی کی ٹوئیٹ سے قبل 26 مئی کو ایک ذومعنی ٹویٹ کرتے ہوئے ملک ریاض نے لکھا تھا کہ انھیں ’سیاسی مقاصد کے لیے دباؤ‘ کا سامنا ہے وہ کسی صورت نہیں جھکیں گے۔‘ ملک ریاض پاکستان میں موجود نہیں ہیں اور ملک سے باہر ہیں۔ ملک ریاض نے ٹویٹر پر اپنے پہلے پیغام میں لکھا تھا کہ ’میری ساری زندگی، اللہ نے ہمیشہ میری رہنمائی کی ہے کہ میں اپنے اصول پر قائم رہوں، میں کسی بھی معاملے میں سیاسی فریق نہ بنوں، اب ایک سال سے زیادہ عرصے سے مجھ پر سمجھوتا کرنے کے لیے بہت دباؤ ہے، لیکن میں کبھی کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ مجھے سیاسی مقاصد کے لیے پیادے کے طور پر استعمال کرے۔‘

انھوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’پاکستان میں جدید ترین پراجیکٹس متعارف کروانے پر مجھے اور میرے کاروبار کو ہمیشہ نشانہ بنایا گیا۔ 1996 سے آج تک ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی سزا بھگت رہا ہوں، میں نے ماضی میں اس طرح کے دباؤ کا پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ سامنا کیا ہے، آج بھی، ذاتی حیثیت میں، میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ’اوور مائی ڈیڈ باڈی۔‘

ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ’اپنی بیمار حالت اور پریشانی کے باوجود، میں اللہ کی مدد سے اس مصیبت کا سامنا کرنے کے لیے ثابت قدم ہوں، روزانہ مالیاتی کاروباری نقصان برداشت کر رہا ہوں اور پوری طرح دیوار سے دھکیلا دیا جا رہا ہوں، لیکن کسی دباؤ کے ہتھکنڈوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالوں گا، اللہ عزت کے ساتھ اس مشکل دور میں میری رہنمائی اور مدد کرے گا۔‘

ملک ریاض نے اپنے پیغام میں یہ واضح نہیں کیا کہ کون اُن پر دباؤ ڈال رہا ہے اور کس سمجھوتے کے لیے انھیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم بی بی سی اردو کے مطابق جب ملک ریاض کے بیان پر پی ٹی آئی کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو ترجمان پی ٹی آئی رؤف حسن کا کہنا تھا کہ ’دو سال قبل حکومت کی تبدیلی کے ذریعے عمران خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے بعد سے ملک ایک آدمی کی بدترین آمریت کے دور کا سامنا کر رہا ہے۔‘ انھوں نے القادر ٹرسٹ کیس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسی جبر کے تحت پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کے خلاف القادر ٹرسٹ کیس سمیت تقریباً 203 جھوٹے، بوگس اور سیاسی مقاصد پر مبنی مقدمات قائم کیے گئے۔‘ رؤف حسن نے کہا کہ ملک ریاض کا جاری کردہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ ’عمران خان کے خلاف الزامات لگانے کے لیے نہ صرف سیاست دان بلکہ ججز، صحافی، وکلا، تاجر اور تاجر اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کمزور ہوتی ہوئی ہائبرڈ حکومت کو آکسیجن فراہم کرنے کے لیے یہ ایک معمول بن گیا ہے کہ ہر کسی کو دھونس اور جبر کے ذریعے ماننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ رؤف حسن نے کہا کہ دنیا میں جبر کا کوئی بھی نظام زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا، کیونکہ اس کا ٹوٹنا لازم ہے چاہے کوئی اس کو بچانے کی کتنی ہی کوشش کرے، حکومت کے اندر واضح دراڑیں اس کے آنے والے خاتمے کی علامت ہے۔

دوسری جانب 190 ملین پاؤنڈ یعنی القادر ٹرسٹ کیس سے متعلق قومی احتساب بیورو کی پراسیکوشن ٹیم کے مطابق اب تک اس مقدمے میں 30 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں جبکہ 21 گواہان پر جرح کا عمل بھی مکمل ہو چکا ہے۔ اس مقدمے میں پراسیکوشن کے گواہان کی تعداد 56 ہے تاہم پراسیکوشن کی ٹیم اس میں گواہان کی تعداد کم کرنے کے بارے میں سوچ بچار کر رہی ہے۔ نیب کی پراسیکوشن ٹیم کے مطابق ملک ریاض اور ان کے بیٹا علی ریاض، پی ٹی آئی رہنما شہزاد اکبر اور زلفی بخاری اس مقدمے میں اشتہاری ہیں جس کی وجہ سے ان کا معاملہ عمران خان والے کیس سے الگ کر دیا گیا ہے۔ پراسیکوشن ٹیم کے مطابق جب اشتہاری قرار دیے گئے ملزمان ملک واپس اگر خود کو عدالت کے سامنے پیش نہیں کرتے اور عدالت ان کا اشتہاری قرار دیے جانے کا سٹیٹس ختم نہیں کرتی اس وقت تک ان کے خلاف اس ریفرنس میں کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی۔ پراسیکوشن ٹیم کے مطابق ان ملزمان کے سرنڈر کرنے کے بعد ہی اس ریفرنس میں عدالتی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

Back to top button