صلح کے بعد وفاق کا KP حکومت کو 1200 ارب روپے دینے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کی تبدیلی سرکار خیبر پختونخوا حکومت نے 25 مئی کو آئندہ مالی سال کے لیے ایک کھرب 17 ارب روپے کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا، جس میں 1200 ارب روپے کے وفاقی محصولات بھی شامل ہیں، جبکہ صوبے کی براہ راست آمدن کا حجم 93 ارب روپے سے زیادہ دکھایا گیا ہے۔خیبر پختونخوا کے مجموعی طور پر 1700 ارب روپے کے بجٹ میں سے 70 فیصد سے زیادہ بجٹری فنڈز وفاقی حکومت سے ملنے کی توقع کی گئی ہے۔
جس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑی ہوئی ہے کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت باتیں تو بہت کرتی ہے لیکن بجٹ میں 70 فیصد حصہ وفاق سے ملنے والے فنڈز پر مشتمل ہے اور اسی پر صوبائی حکومت کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اسے وفاق سے محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاق صوبوں کو فنڈ کیوں دیتا ہے؟
پاکستان میں ہر ایک صوبہ جب بجٹ پیش کرتا ہے تو اس میں ایک بڑا حصہ وفاق سے ملتا ہے اور اسی پر صوبوں کے اخراجات پورے ہوتے ہیں لیکن شاید بہت کم لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ فنڈز وفاق اپنی ذاتی آمدنی سے نہیں دیتا۔ پاکستان میں صوبوں میں ٹیکسز جمع کرنے کا نظام وفاقی حکومت کے پاس ہے جب کہ صوبے بہت کم چیزوں پر خود ٹیکس لگا سکتے ہیں۔ ٹیکسز کی مد میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبوں کو ایک خاص حصہ دیا جاتا ہے اور یہ حصہ صوبوں کا وہ حصہ ہوتا ہے جو صوبے میں موجود ٹیکس دہندگان وفاقی حکومت کے پاس جمع کرتے ہیں، جس میں جنرل سیلز ٹیکس جیسے ٹیکسز بھی شامل ہیں۔
فالسہ جسم کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں معاون قرار
آئین کی شق 160 کے تحت نیشنل فنانس کمیشن یعنی این ایف سی کے ذریعے 2010 میں ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت صوبوں میں ٹیکس کی آمدن کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جسے فیڈرل ڈیویزبل پول کہا جاتا ہے، جو ایک قسم کا خزانہ ہے، جس میں صوبوں سے اکٹھے ہونےوالے ٹیکسوں کو جمع کیا جاتا اور ہر صوبے کو اس کا حصہ دیا جاتا ہے۔ اسی آرڈیننس کے آرٹیکل تین کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو سیلز ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، انکم ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی، سمیت جنرل سیلز ٹیکس صوبوں سے جمع کرے گا اور اپنے اخراجات منہا کر کے باقی ڈویزیبل پول میں ڈالے گا جو بعدازاں صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا۔
آئینی طور پر وفاقی حکومت صوبوں میں موجود تیل کے کنوؤں کی رائلٹی بھی صوبوں کو دینے کا پابند ہے۔ گیس اور تیل کی مد میں وفاقی حکومت ڈیویلپمنٹ سرچارج اور قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی بھی اکھٹا کرتی ہے جنہیں قانوناً وفاقی اکائیوں میں ہی تقسیم ہونا ہوتا ہے۔
نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کے علاوہ وفاقی حکومت بجلی پیدا کرنے والے صوبوں خالص منافع کی مد میں اے جی این قاضی فارمولے کے تحت فنڈز مہیا کرتی ہے۔ وفاقی حکومت اے جی این قاضی فارمولے کے تحت صوبے کو بجلی کی خالص منافع کی مد میں سالانہ منافع دینے کی بھی پابند ہے۔ ۔فارمولے کے تحت منافع سے بجلی کی سپلائی اور ٹرانسیمنش کا خرچہ نکال کر ایک خاص حصہ فی یونٹ کے حساب سے صوبے کو دیا جاتا ہے۔اسی فارمولے کے تحت 1991 میں فی یونٹ 0.21 روپے مقرر کی گئی تھی اور خیبر پختونخوا کو بجلی کے خالص منافع کی مد میں سالانہ چھ ارب روپے ملتے تھے لیکن بعد میں صوبائی حکومتوں کے مطابق وفاقی حکومت نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا تھا۔
مبصرین کے مطابق وفاقی حکومت صوبوں کو فنڈز دے کر صوبوں پر کوئی احسان نہیں کرتی بلکہ یہ صوبوں کے اپنے پیسے ہوتے ہیں جو وفاقی ادارے اکھٹے کرتے ہیں۔ یہ وہی پیسے ہیں جو صوبوں کے عوام وفاق کو ٹیکسز کی مد میں ادا کرتے ہیں اور پھر وفاقی حکومت یہ پیسے صوبوں کوواپس دیتی ہے۔‘ اس لئے اس پر صوبوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کا جواز نہیں۔
