ریاستی اداروں کی کوشش ہے عمران خان جیل سے باہر نہ آئیں: ترجمان پی ٹی آئی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن کا کہنا ہے کہ سائفر اور عدت کا کیس ختم ہو چکا لیکن ریاستی اداروں کی کوشش ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان جیل سے باہر نہ آئیں۔ ابھی انہیں اور وقت جیل میں گزارنا پڑے گا۔عنقریب بانی پی ٹی آئی عمران خان پر مزیدمقدمات بنائے جائیں گے ۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رؤف حسن نے کہا کہ طاقتور لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ عمران خان کیخلاف بنائے گئے  کیسز میں جو ختم ہوچکے ہیں اور جج صاحبان نے جن کا فیصلہ سنانا ہے ان کو لمبے عرصے تک مؤخر کیا جاسکے ، تاکہ خان صاحب اس وقت تک قید میں رہیں جب تک ان کے خلاف کوئی اور بھونڈا مقدمہ نہیں بنایا جائے۔ اس وقت بانی پی ٹی آئی عمران خان  کو جیل سے باہر آجانا چاہیے تھا۔

رؤف حسن کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ریاستی اداروں پر  پریشر بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان  اداروں کی کوشش ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر نہیں آئیں۔ اسی سلسلے میں توشہ خانہ میں ایک اور  مقدمہ بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ قانون ی طور پر ایک معاملے میں ایک  ہی کیس بنایا جاسکتا ہے لیکن ان کی کوشش ہے کہ چوتھا مقدمہ بنا کر اس میں خان صاحب کو پہلے سزا دلوائی جائے۔ تاکہ پرانے ختم ہوچکے مقدموں کے فیصلے بعد میں سنائے جائیں۔

شہریوں کیلئے خوشخبری،100یونٹ تک صارفین کو مفت بجلی ملے گی

انہوں نے مزید کہا کہ عدت میں نکاح کیس اور سائفر کیس مکمل طور پر ختم ہوچکے ہیں۔ توشہ خانہ میں بھی بانی پی ٹی آئی کی سزا معطل ہوچکی ہے۔ انہیں اب تک جیل سے باہر آجانا چاہئے۔ لیکن ان کے خلاف مزید مقدمے بنائے جارہے ہیں۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اس کے نتیجے میں  عمران خان  کو جیل میں مزید وقت گزارنا پڑے گا۔ جیسا کہ  شاہ محمود قریشی کے ساتھ سائفر کیس میں رہائی متوقع ہونے کی صورت میں کیا گیا۔ ان کے خلاف ایک ساتھ 8 مقدمات بنادیئے گئے۔

رؤف حسن کا کہنا تھا کہ ہم ریاست کو کمزور ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں، ہر گزرتے دن کے ساتھ ریاست پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے، عمران خان کو جیل میں رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ گزشتہ 76 سال سے اسٹیبلشمنٹ کا رول دیکھ رہے ہیں۔ وزیراعظم کو گرانا اور نیا وزیراعظم لانا دیکھ رہا ہوں۔ جب 1971 میں بگلہ دیش بنا تھا تب بھی  عوام  کے فیصلے کو مسترد کیا گیا تھا۔ آج بھی طاقتور لوگوں کی جانب سے  اقتدار کو طول دینے کیلئے ریاست کو داؤ پر لگایا جارہا ہے۔

Back to top button