گنڈاپور کی نامزدگی پر PTIمیں اختلافات کیوں؟

پی ٹی آئی کی جانب سے علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نامزد کرنے کے فیصلے پر پارٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئےہیں اور پارٹی رہنماؤں نے نجی محافل میں عمران خان کے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق علی امین گنڈاپور کی نامزدگی کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے سیز فائر کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں اور اس سے پی ٹی آئی کیخلاف انتقامی کارروائیوں میں مزید شدت آئے گی۔ پی ٹی آئی حلقوں کے مطابق عمران خان کے اس فیصلے سے صوبائی حکومت کے مسائل میں بھی اضافہ ہو گا۔

ذرائع کے مطابق علی امین کی نامزدگی کی بنیادی وجہ پی ٹی آئی کو گروپوں میں تقسیم کرنے سے بچانا تھا۔ کیونکہ گزشتہ پانچ دنوں میں 4 گروپ سامنے آئے تھے۔ تاہم پی ٹی آئی کے وہ رہنما جن کی علی امین گنڈاپور سے زیادہ قربانیاں ہیں، اس فیصلے سے مایوس ہیں۔جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی سوشل میڈیا اکائونٹس سے بھی علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ نامزد کرنے پر پر تنقید کی جارہی ہے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی طرف سے علی امین گنڈاپور کی نامزدگی کے ذریعے صوبے کی بیوروکریسی کو پیغام دیا گیا ہے کہ جن سرکاری افسران نے 9 مئی کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی ورکرز اور رہنمائوں کے خلاف کارروائی کی، ان کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ خیبرپختونخواہ میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور اگر صوبائی حکومت تعاون نہیں کرتی تو نتیجہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑے گا۔ تاہم ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی طرف سے حکومت سازی کے بعد کسی کو صوبے کے امن و امان سے کھیلنے کی اجازت دی جائے گی اور نہ ہی سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کو برداشت کیا جائے گا۔ اس حوالے سے قانون سازی کی جائے گی جس کے بعد شرپسندی کرنے والوں کیخلاف کریک ڈائون کا بھی خدشہ موجود ہے۔ اس حوالے سے اداروں نے پہلے ہی منصوبہ بندی کرلی تھی۔ انتخابات کی وجہ سے کریک ڈائون نہیں کیا گیا کہ اس کا بین الاقوامی سطح پر اچھا تاثر نہیں جاتا۔ تاہم اب انتخابات ہونے کے بعد اس حوالے سے تیاری کر لی گئی ہے۔

دوسری جانب صوبائی سیکریٹریٹ میں ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق بیوروکریسی نے گزشتہ پندرہ برسوں سے عمران خان کا ساتھ دیا۔ لیکن اب وہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی دھمکیوں سے پریشان ہیں کہ علی امین گنڈاپور اور دیگر کئی رہنما بیوروکریسی کے خلاف کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اور اگر ایسا کیا گیا تو اس کا نقصان بھی صوبے کو ہو گا کیونکہ ایسی صورت میں بیوروکریسی کام چھوڑ دے گی جس سے صوبے کی کارکردگی زیرو ہو جائے گی کیونکہ بیوروکریسی ہی حکومت کو کامیاب بناتی اور عوام کو ریلیف دیتی ہے۔

دوسری طرف سرکاری عہدیدار کے مطابق کئی افسران نے اچھی پوسٹوں کیلئے ابھی سے لابنگ شروع کر دی ہے۔ جبکہ وزارتیں حاصل کرنے کیلئے بھی لابنگ شروع ہو گئی ہے۔ گزشتہ حکومتوں میں شامل پی ٹی آئی کے ممبران بیوروکریٹس کے ساتھ مل کر کوشاں ہیں اور انہوں نے وزارت حاصل کرنے کی صورت میں اپنے حامی بیورو کریٹس کو اچھی پوسٹیں دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کو معاشی مشکلات سب سے زیادہ درپیش ہیں۔ کیونکہ پی ٹی آئی کے گزشتہ 2 ادوار میں صوبائی حکومتوں نے تقریباً 80 ارب روپے قرض لیا ہے اور اب مزید قرض لینا پڑے گا۔ جبکہ پی ٹی آئی ان معاشی مشکلات اور خالی خزانے کا الزام کسی اور پر لگا بھی نہیں سکتی۔ کیونکہ گزشتہ 2 ادوار میں مسلسل پی ٹی آئی کی حکومت رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے کے بعد جہاں کے پی پی ٹی آئی کے مطلوب ملزمان کی محفوظ پناہ گاہ ہو گی وہیں احتجاج کا مرکز بھی خیبرپختونخوا رہے گا کیونکہ نون لیگ اور وفاقی حکومت، پنجاب اور ملک کے دیگر صوبوں میں پی ٹی آئی کو احتجاج کرنے

مریم نواز نے پنجاب کا کنٹرول سنبھالنا شروع کر دیا؟

نہیں دے گی اور یوں اس صوبے کی ترقی میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔

Back to top button