فوجی ترجمان کے سخت موقف کے بعد PTI مفاہمت کے لیے کوشاں

تحریک انصاف کی قیادت نے عمران خان کے فوج مخالف بیانیے کے نتیجے میں مفاہمت کے تمام سیاسی راستے بند ہو جانے کے بعد مذاکرات کا کوئی راستہ نکالنے کی غرض سے 20 دسمبر کو ایک قومی مفاہمتی کانفرنس تو بلا لی ہے، تاہم یہ حربہ کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ حکومتی حلقوں اور فوجی ترجمان دونوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ کسی بھی قسم کے ڈائیلاگ میں بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔

پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق پارٹی میں یہ سوچ غالب آ چکی ہے کہ مسلسل احتجاج اور مزاحمت سے کوئی نتیجہ نہیں نکل پا رہا، اس لیے قومی مفاہمت کی کوشش ضروری ہے۔ اسی سوچ کے تحت تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی کو اگے لگا کر 20 دسمبر کو قومی مفاہمت کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا تاکہ کسی سیاسی ڈائیلاگ کا راستہ نکالا جا سکے۔
اسی سلسلے میں حکمران اتحاد کی دوسری بڑی جماعت، پیپلز پارٹی، سے رابطے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ اسے کانفرنس میں شریک کیا جا سکے۔ تاہم نون لیگ کے حکومتی حلقوں کی جانب سے تاثر دیا جا رہا ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شامل نہیں ہوں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے عمران خان کی جانب سے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف کی گئی تضحیک آمیز ٹویٹ کے بعد تحریک انصاف کے لیے ہر طرح کی رعایتیں ختم کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

پہلے مرحلے میں عمران خان کی جیل ملاقاتوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے چونکہ وہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا فوج مخالف بیانیہ مسلسل آگے بڑھا رہے تھے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں اب ویسے بھی پی ٹی آئی کے ساتھ کسی مفاہمت یا مذاکرات کی ضرورت نہیں رہی، کیونکہ عمران خان نے گزشتہ دو برسوں میں ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر لیے اور اب ان کی سٹریٹ پاور بھی ختم ہو چکی ہے، لہٰذا حکومت کو پی ٹی آئی کے کسی ہتھکنڈے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یاد رہے کہ چند ماہ پہلے تک حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات کی کوشش کرتی تھی، مگر تحریک انصاف کی قیادت عمران خان سے لائن لیتے ہوئے مسلسل اپنی پوزیشن بدلتی رہی جس سے معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ لیکن اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور راستے بند ہو جانے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت قومی مفاہمتی کانفرنس بلانے پر مجبور دکھائی دیتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی ایک بند گلی میں کھڑی نظر آتی ہے، جسکی وجہ پارٹی بانی کا جارحانہ طرزِ عمل اور ریاستی اداروں پر تنقید ہے۔ موجودہ مقدمات اور مشکلات کو بھی حکومتی حلقے پارٹی بانی کی فوج مخالف حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ اقتدار سے نکلنے کے بعد وہ یہ سمجھتے رہے کہ شدید احتجاج اور مزاحمت کے ذریعے ریاست و حکومت کو دباؤ میں لا کر دوبارہ اقتدار حاصل کر لیں گے، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ جن وجوہات کی بنا پر انہیں اقتدار سے نکالا گیا وہ ریاست کے لیے کسی طور قابل قبول نہیں تھیں اور خان اب بھی وہی پالیسیاں لے کر چل رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک پی ٹی آئی اپنی اندرونی کنفیوژن ختم کر کے ایک واضح حکمت عملی طے نہیں کرتی، مفاہمت کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔ خاص طور پر اس صورت میں جب پارٹی بانی مسلسل سکیورٹی فورسز اور ان کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق قومی مفاہمتی کانفرنس میں پیپلز پارٹی کو بلانے کی وجہ یہ ہے کہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری سیاسی مفاہمت کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت کا یہ بھی موقف ہے کہ سیاسی ڈائیلاگ تب ممکن ہے جب پی ٹی آئی اپنا طرز عمل بدلے اور اپنا فوج مخالف بیانیہ تبدیل کرے۔

دوسری جانب اگر مولانا فضل الرحمان کانفرنس میں شریک ہو جاتے ہیں تو یہ اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، کیونکہ انہیں بھی حکومت سے شدید تحفظات ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہونے یا ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ عام تاثر یہی ہے کہ پی ٹی آئی نے عسکری حلقوں کے ساتھ محاذ آرائی کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ان کے ساتھ کھڑا ہونے کو تیار نہیں۔ چنانچہ محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی ڈائیلاگ کے لیے بلائی کانفرنس کا بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو پائے گی، جس کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کی اپنی حکمت عملی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے تحفظات ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کو بالآخر وہیں جا کر معاملات طے کرنا ہوں گے جہاں سے تنازع شروع ہوا تھا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی کے بانی اپنی جماعت کے کسی بھی لیڈر پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔

Back to top button