رہائی فورس کے قیام کے اعلان پر پی ٹی آئی میں پھوٹ پڑ گئی

عمران خان کے قریبی ساتھی مراد سعید کی خواہش پر ’’رہائی فورس‘‘ کے قیام کے اعلان پر پی ٹی آئی میں گروپنگ اور اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں جہاں ایک طرف وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان رہائی فورس کے قیام پر ڈٹ گئے ہیں وہیں دوسری جانب پی ٹی آئی چئیرمین گوہر خان نے کسی بھی مسلح فورس یا ملیشیا کی تشکیل کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قراردیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندر گروپ بندی کو نمایاں کر رہی ہے بلکہ اس پیشرفت نے قیادت کے درمیان حکمتِ عملی کے اختلاف کو بھی واضح کر دیا ہے، آنے والے دنوں میں اس حوالے سے اختلافات مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان رہائی فورس کی تشکیل بارے اختلافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی دن رات رہائی فورس کی تشکیل کے حوالے سے میٹنگز کرتے دکھائی دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ عمران خان رہائی فورس لاکھوں افراد پر مشتمل ہوگی جس میں تمام ونگز شامل ہونگے،ہم نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے جا رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں جب عمران خان کی کال آئے تو تمام نوجوان تیار ہوں۔ تاہم پارٹی چئیرمین بیرسٹر گوہر خان نے ان کی منطق کو ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے ایسے کسی بھی فیصلے کی سخت مخالفت کا اعلان کر دیا ہے، بیرسٹر گوہر کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کسی مسلح کارروائی یا ملیشیا رکھنے کی بجائے صرف سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، مسلح کارروائی یا ملیشیا رکھنے پر نہیں۔بیرسٹر گوہر کے بقول کسی بھی ایسے گروہ کا قیام جسے ’’فورس‘‘ کا نام دیا جائے اور جس کے ارکان کسی سیاسی مقصد کے لیے حلف اٹھائیں، اسے غیر آئینی اور غیر قانونی تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس نوعیت کا اقدام پارٹی کو نہ صرف قانونی پیچیدگیوں بلکہ محاذ آرائی اور ممکنہ عسکریت پسندی کے الزامات کی زد میں بھی لا سکتا ہے۔ اس لئے وہ عمران خان رہائی فورس کے قیام کی ہر سطح پر ڈٹ کر مخالفت کرینگے، ان کا مزید کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر پہلے ہی مختلف تنظیمی ونگز موجود ہیں، اس لیے نئی فورس کے قیام سے پہلے باقاعدہ مشاورت ناگزیر ہے۔ یوں رہائی فورس کا معاملہ صرف ایک تنظیمی فیصلہ نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اندر اختیار اور حکمتِ عملی کے توازن کا نیا امتحان بن گیا ہے
آفریدی حکومت نے PTI میں بڑی بغاوت کی بنیاد کیسے رکھی؟
مبصرین کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے مجوزہ "رہائی فورس” کی تشکیل کے اعلان نے پاکستان تحریک انصاف کے اندر اختلافِ رائے اور دھڑے بندی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ پارٹی کے بعض رہنما اس فیصلے کو پارٹی کی سٹریٹ موومنٹ کو منظم کرنے کا مؤثر ذریعہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر حلقے اس اعلان کو ٹرک کی نئی بتی سے تعبیر کرتے ہوئے بے وقت کی راگنی اور پارٹی کارکنوں کو خود ہی گرفتار کرانے کا نیا جال قرار دے رہے ہیں، مبصرین کےبقول رہائی فورس کے قیام کا اعلان نہ صرف تحریک انصاف کی آئندہ حکمتِ عملی بلکہ اس کی داخلی ہم آہنگی کے لیے بھی ایک اہم امتحان بن چکی ہے۔ مبصرین کے بقول تحریک انصاف کے اپنے ہی کارکنوں اور مقامی عہدے داروں کی ایک بڑی تعداد نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی اعلان کردہ ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ کو مسترد کردیا ہے۔
ناقدین کے مطابق مسلسل احتجاجی حکمت عملی کی ناکامی کے بعد خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی، آئی ایس ایف اور یوتھ ونگ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوچکی ہیں۔ ایک دھڑا علی امین گنڈاپور کے حامیوں کا ہے، دوسرا دھڑا سہیل آفریدی کے سپورٹرز پر مشتمل ہے اورتیسرا گروپ وہ ہے جو ان دونوں کو ناکام احتجاج کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔ تینوں کے مابین آن لائن اور آف لائن گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اس حوالے سے بڑھتے دباؤ کو کنٹرول کرنے کیلئے عمران خان کی رہائی کے نام پر نئی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے تاہم یہ فیصلہ بھی سہیل آفریدی کے گلے پڑتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس اقدام بارے پی ٹی آئی میں شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان نے احتجاج کی ذمہ داری علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کودی ہے تو پھر وزیراعلیٰ ہاؤس سے ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ کا اعلان کیوں کیا گیا‘‘۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے ’’عمران خان رہائی فورس‘‘ پر پارٹی کے اپنے لوگوں کی جانب سے شدید تنقید میں اس شک کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ اس فورس کے لئے لاکھوں نوجوان کارکنوں کا ڈیٹا جمع کرکے ایک کمپیوٹر فائل بنائی جائے گی، تاکہ انہیں گرفتار کرانے کے لئے یہ فہرست قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کردی جائے۔ ناراض پی ٹی آئی کارکنان کے مطابق26 نومبر کے احتجاج کے بعد بیانیہ دیا گیا کہ ہمارے تین سو ستّر بندے مارے گئے ہیں اور اب حالیہ دھرنوں کی ناکامی کے بعد کہا جارہا ہے کہ ’’ہم نے عمران خان کی رہائی کے لئے فورس بنادی ہے۔ یہ سب ڈرامے کارکنوں کو بے وقوف بنانے کے لئے کئے جارہے ہیں۔
