عمران کے بیٹوں کو سیاست میں لانے پر PTI دو دھڑوں میں تقسیم

عمران خان کی جانب سے اپنے بیٹوں کو مجوزہ احتجاجی تحریک کے لیے پاکستان بلانے کے فیصلے کے بعد انکی جماعت دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ ایک دھڑا اسے بہترین فیصلہ قرار دے رہا ہے جبکہ دوسرا دھڑا اسے موروثی سیاست کے مخالف عمران خان کے ایک اور یو ٹرن سے تشبیہہ دے رہا ہے۔

پارٹی میں موجود اس فیصلے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ مجوزہ احتجاجی تحریک کی قیادت عمران خان کے بچوں کو سونپنے سے یہ تاثر جائے گا کہ تحریک انصاف میں عمران خان کے علاوہ اور کوئی رہنما اس قابل نہیں ہے کہ کسی تحریک کی قیادت کر سکے۔ انکا۔موقف ہےکہ ایسے فیصلے سے پارٹی کا موروثی تشخص ابھرے گا جبکہ ماضی میں عمران خان موروثی سیاست کو ایک ناسور قرار دے چکے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف عمران خان کی خاندانی جماعت بن چکی ہے جس میں پہلے ان کی تیسری اہلیہ سرگرم عمل تھیں اور اب ان کی ہمشیرہ علیمہ خان پارٹی چلا رہی ہیں۔

یاد رہے کہ عمران خان کے تینوں بچے یعنی ٹیری وائٹ، سلیمان خان اور قاسم خان لندن میں اپنی والدہ جمائمہ خان کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان تینوں کو اردو زبان کی شدھ بدھ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ عمران کے تینوں بچے برطانوی شہری ہیں اور انکے پاس پاکستانی شہریت نہیں۔ چنانچہ انہیں پاکستان آنے کے لیے ویزا حاصل کرنا ہو گا۔ عمران خان کے بیٹے کئی برسوں سے پاکستان نہیں آئے کیونکہ بشری بی بی نے اپنے شوہر کو بتایا تھا کہ ایسا ان کے لیے منحوس ثابت ہوگا۔ اسی لیے عمران خان کے بیٹے ان کے دور حکومت میں کبھی پاکستان نہیں آ سکے تھے۔

ذرائع کے مطابق علیمہ خان نے پارٹی قیادت کو بتایا ہے کہ سلیمان خان اور قاسم خان 5 اگست کو پاکستان پہنچ سکتے ہیں لیکن ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ کیا وہ چارٹرڈ طیارے سے آئیں گے یا کہ کمرشل پرواز لیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہو گی لہازا علیمہ خان خود سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ اب کے بیٹوں کو پاکستان لانے کے لیے منتظم اعلیٰ کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ عمران کی مطلقہ سابق اہلیہ جمائما خان کو بھی پاکستان لانے کی خواہاں ہیں۔ انہیں توقع ہے کہ حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کیخلاف تحریک انصاف کی جدوجہد میں انخے بیٹوں اور سابقہ بیوی کی واپسی ایک انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔

تاہم عمران کے بچوں کو سیاست میں لانے کے مخالف پارٹی قائدین کا موقف ہے کہ لندن سے کمک کو طلب کرنا پارٹی کی مرکزی قیادت کی ناکامی کا اعتراف ہے جس کے پارٹی پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے۔ تاہم علیمہ خان اور ان کے حمایتیوں کا گروہ اس فیصلے کو ترپ کا پتہ قرار دے رہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ جس روز عمران خان کے بچے پاکستان پہنچ گئے، پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو ایک نئی امید ملے گی اور یہاں انقلاب آ جائے گا۔

Back to top button