باجوڑ میں PTI فوج کی مخالفت میں دہشتگردوں کے ساتھ کھڑی ہو گئی

تحریک انصاف کی جانب سے باجوڑ میں دہشت گردوں کے خلاف شروع ہونے والے ٹارگٹڈ فوجی آپریشن کی مخالفت میں شدت آ گئی ہے اور عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی فوج کی نفرت میں کھل کر دہشت گردوں کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہے۔
مبصرین کے مطابق ایسے وقت میں جب ریاست پاکستان باجوڑ کے پہاڑوں میں دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ٹارگٹڈ آپریشن کر رہی ہے، تب تحریکِ انصاف نہ صرف عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں دشمن کی حمایت میں سرگرم ہو چکی ہے بلکہ فوج سے نفرت میں اندھی ہونے والی پی ٹی آئی قیادت نے سر عام سیکیورٹی فورسز کے اقدامات پر سوال بھی اٹھانے شروع کر دئیے ہیں،۔ ناقدین کے بقول جب دہشتگرد ریاستی اداروں پر حملے کر رہے ہیں، پی ٹی آئی انہی دہشتگردوں کے حق میں مظاہرے کر کے ان کے بیانیے کو جواز فراہم کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ طرز عمل کوئی سیاسی اختلاف نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے خلاف کھلی بغاوت کے مترادف ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ رویہ محض سیاست نہیں، بلکہ دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی نے ایک وقت میں امن، انصاف اور قانون کی حکمرانی کا نعرہ بلند کرتی نظر آتی تھی تاہم آج تحریک انصاف ان عناصر کے ساتھ کھڑی ہے جو پاکستان کے پرامن مستقبل کو بارود کے دھوئیں میں لپیٹنا چاہتے ہیں۔ تحریکِ انصاف سیاسی دشمنی میں اتنی اندھی ہو چکی ہے کہ فوج سے بغض میں وہ دہشتگردوں کے بیانیے کا دفاع کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف ملک دشمن عناصر ریاست کی عملداری کو چیلنج کر رہے ہیں، اور دوسری طرف پی ٹی آئی کے رہنما ان کے خلاف کارروائیوں کو "ظلم” قرار دے کر ریاستی اداروں کو متنازع بناتے نظرآتے ہیں۔ ناقدین کے بقول یہ طرزِ سیاست محض قومی سلامتی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے بیانیے کا حصہ محسوس ہوتا ہے، جس میں ریاستی اداروں کو نشانہ بنا کر دہشتگردوں کو بالواسطہ سہولت کاری فراہم کی جا رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند میں دہشتگردی کے خلاف جاری سیکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کی جانب سے جس انداز میں احتجاج کیا جا رہا ہے، اس نے قومی سلامتی، سیاسی ذمہ داری اور عسکریت پسندی کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایسے وقت میں جب شدت پسند عناصر دوبارہ منظم ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کی قیادت کا سکیورٹی فورسز کی بجائے مظاہرین کی صف میں کھڑے ہونا ایک خطرناک سیاسی بیانیے کی ترجمانی کرتا ہے۔
9 مئی کی سزاؤں کے بعد PTI اور اس کی تحریک بھی خطرے میں
تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے باجوڑ میں ٹارگٹڈ آپریشن کیوں شروع کیا گیا اور پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت اس کی مخالفت کیوں کر رہی ہے؟ سیکیورٹی حکام کے مطابق ضلع باجوڑ کی تحصیل ماموند کے 16 دیہاتوں میں تین روزہ نقل و حرکت پر پابندی کے بعد ٹارگٹڈ آپریشن اس لئے کیا جا رہا ہے کیونکہ خفیہ اطلاعات کے مطابق یہاں دہشتگردوں کی دوبارہ موجودگی اور سرگرمیوں میں تیزی آ چکی ہے۔ یہ علاقہ افغانستان کی سرحد سے متصل ہے، جہاں سے عسکریت پسند تنظیموں کے عناصر آمد و رفت کرتے رہے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دولتِ اسلامیہ (خراسان) کی موجودگی کی اطلاعات ماضی میں بھی آتی رہی ہیں، اور حالیہ مہینوں میں ان کی کارروائیاں ایک بار پھر زور پکڑ چکی ہیں۔رواں ماہ کے آغاز میں اس علاقے میں بم دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر فیصل اسماعیل، ایک تحصیلدار اور دو پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ کچھ روز قبل فرنٹیئر کانسٹیبلری کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا۔ ان واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ایک محدود اور مخصوص علاقے میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا، تاکہ مقامی آبادی کو شدت پسندوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
تاہم تحریک انصاف نے آپریشن شروع ہونے کے بعد احتجاجی طرز سیاست اپناتے ہوئے عسکریت پسندوں کی پشت پناہی شروع کر دی۔ بجائے اس کے کہ پی ٹی آئی عوام کو دہشتگردی کے خلاف ریاستی موقف پر متحد کرے، وہ تحصیل ماموند میں جاری آپریشن کے خلاف مظاہروں کی قیادت کر رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کا یہ احتجاج نہ صرف فورسز کے مورال کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ دہشتگرد عناصر کے لیے سیاسی کور بھی فراہم کرتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے کی حمایت کریں، نہ کہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنائیں۔ اس طرح کی حرکات سے وہ بالواسطہ طور پر دہشتگردوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ریاستی کارروائیاں عوامی حمایت سے محروم ہیں۔
مبصرین کے مطابق باجوڑ میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران تحریک انصاف اور دیگر سیاسی قوتوں کا حالیہ طرزعمل دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست کے بیانیے کو کمزور کر رہا ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں عسکریت پسندی کے خلاف یک زبان نہ ہوں، تو یہ دہشتگرد تنظیموں کے لیے نئی توانائی کا باعث بن سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پی ٹی آئی جیسی بڑے سیاسی جماعتیں قومی اداروں پر تنقید کی آڑ میں دہشتگردوں کے لیے سیاسی جواز پیدا کریں گی، تو یہ نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کرے گا بلکہ آنے والے وقت میں خود ان کے لیے بھی سیاسی نقصان کا سبب بنے گا کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ دہشتگردوں کی کوئی مذہبی یا سیاسی شناخت نہیں ہوتی۔
