پی ٹی آئی عمران کی فوج مخالف پالیسی سے پیچھے ہٹنے لگی

 

 

جیلوں کے باہر موجود پی ٹی آئی قیادت نے عمران خان کی تصادم اور ٹکراؤ پر مبنی جارحانہ سیاست سے پیچھے ہٹتے ہوئے مفاہمتی اور مذاکراتی پالیسی اپنانے پر غور شروع کر دیا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف سے سہیل آفریدی کی براہ راست ملاقات، پی ٹی آئی کے اندر مکالمے پر نرم پڑتا رویہ اور اتحادی سیاست کی طرف محتاط پیش قدمی اس امر کی غماز ہے کہ تحریک انصاف اپنی دیرینہ پالیسی پر نظرِ ثانی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، حالانکہ پی ٹی آئی طویل عرصے تک حکومت اور سیاسی جماعتوں سے بات چیت سے انکار کرتی رہی ہے،اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، مزاحمتی سیاست تحریک انصاف کی شناخت بن چکی تھی مگر اب منظرنامہ بدلتا دکھائی دیتا ہے اور پی ٹی آئی قیادت مزاحمت کی بجائے مفاہمت اور مکالمے کی طرف بڑھتی نظر آتی ہے۔ تاہم سوال یہ نہیں کہ تحریک انصاف کی پالیسی میں  تبدیلی آ رہی ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی کی حکمت عملی میں تبدیلی پارٹی کی وقتی سیاسی مجبوری ہے یا ایک مستقل سنجیدہ سیاسی رخ کی شروعات؟ ساتھ ہی یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا بانی پی ٹی آئی اس حکمتِ عملی کو قبول کریں گے یا طویل پابندی کے بعد ہونے والی کسی بھی ملاقات میں اسے یکسر مسترد کر دیں گے۔

 

مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کی سیاست طویل عرصے تک تصادم، ٹکراؤ اور سیاسی علیحدگی کی علامت رہی ہے۔ اقتدار میں ہو یا اپوزیشن میں، دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ مکالمے سے گریز پارٹی کی بنیادی حکمتِ عملی سمجھی جاتی رہی۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے یہ رویہ محض اقتدار سے محرومی کے بعد اختیار نہیں کیا گیا تھا، بلکہ اقتدار میں رہتے ہوئے بھی یہی طرزِ سیاست برقرار رہا۔ یہاں تک کہ اہم قومی معاملات پر ہونے والی بریفنگز میں بھی اپوزیشن کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے سے اجتناب کیا گیا، جس کے نتیجے میں سیاسی فاصلے بڑھے اور نظام میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا جبکہ اقتدار سے علیحدگی کے بعد بھی یہی مؤقف اپنایا گیا کہ وہ بات چیت اور مذاکرات حکومت یا سیاسی جماعتوں کی بجائے صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ سے ہی کرینگے۔ اسی موقف کے تحت وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی متعدد دعوتیں مسترد کی گئیں اور یہ مؤقف دہرایا جاتا رہا کہ حکومت کے پاس اصل اختیار ہی نہیں، اس لیے اس سے بات کا کوئی فائدہ نہیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسی سوچ کے تسلسل میں تحریک تحفظ آئین کے قیام کے بعد منعقد کی جانے والی قومی کانفرنس میں بھی بڑی سیاسی جماعتوں کو مدعو نہیں کیا گیا۔ ابتدا میں پیپلز پارٹی کو دعوت دینے کی بات کی گئی، مگر بعد ازاں اسے بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ اس طرزِ عمل نے تحریک انصاف کو بتدریج سیاسی تنہائی کی طرف دھکیل دیا۔ تاہم اب منظرنامہ بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ سہیل آفریدی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات محض ایک رسمی رابطہ نہیں بلکہ تحریک انصاف کی پالیسی میں عملی تبدیلی کا واضح اشارہ ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس پیش رفت پر وہ شدید ردِعمل سامنے نہیں آیا جو ماضی میں خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی حکومتی اجلاسوں میں شرکت پر دیکھا گیا تھا، جب انہیں پارٹی کے سوشل میڈیا اور ٹرولرز کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے سہیل آفریدی کی شہباز شریف سے ملاقات پر خاموشی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ تحریک انصاف کے اندر اور اس کے حامی حلقوں میں بھی یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ مکمل سیاسی بائیکاٹ ایک قابلِ عمل حکمتِ عملی نہیں رہی۔ ویسے بھی ریاستی نظام کے اندر رہتے ہوئے حکومت چلانے کے لیے مکالمہ ناگزیر ہوتا ہے، اور تحریک انصاف اب شاید اسی حقیقت کو تسلیم کرنے کے مرحلے میں ہے۔ اسی پس منظر میں قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی جانب سے وزیر اعظم کو لکھا گیا خط بھی ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وہی محمود خان اچکزئی جو ماضی میں حکومتی جماعتوں کو قومی کانفرنس میں مدعو کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھے، اب نہ صرف وزیر اعظم سے براہِ راست رابطہ کر رہے ہیں بلکہ پارلیمانی مکالمے کی اہمیت پر بھی زور دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق  یہ تبدیلی مجموعی طور پر اپوزیشن سیاست میں بدلتے ہوئے رویے کی عکاسی کرتی ہے۔

 

کئی دیگر مبصرین کے نزدیک تحریک انصاف اس وقت شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کے امکانات محدود ہو چکے ہیں، بانی تحریک انصاف سے ملاقاتوں پر پابندیاں برقرار ہیں، جبکہ سڑکوں پر کی جانے والی احتجاجی سیاست بھی خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔ ایسے میں ہی ٹی آئی لیڈر شپ کو مفاہمت اور مذاکرات شاید واحد راستہ دکھائی دے رہے ہیں جو سیاسی تنہائی سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم بعض تجزیہ کار ہی ٹی آئی کی اس پالیسی تبدیلی کو مستقل کے بجائے وقتی مجبوری قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اصل امتحان اس وقت ہوگا جب بانی تحریک انصاف سے دوبارہ ملاقاتیں شروع ہونگی اور یہ خدشہ اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ ماضی کی طرح اس بار بھی پارٹی کی مفاہمتی حکمتِ عملی کو مسترد کر دینگے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف اس  وقت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ ایک طرف مزاحمتی سیاست ہے جس نے پارٹی کو عوامی ہمدردی تو دی، مگر سیاسی تنہائی بھی اس کا مقدر بنی۔ دوسری طرف مفاہمت اور مکالمے کا راستہ ہے، جو بظاہر زیادہ حقیقت پسندانہ دکھائی دیتا ہے، مگر پارٹی کے روایتی بیانیے کے لیے ایک سنجیدہ امتحان بھی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کس طرز سیاست کو آگے بڑھاتی ہے۔

Back to top button