پی ٹی آئی الیکشن کمیشن کو دھوکہ دیتے ہوئے پکڑی گئی

عمران خان کی زیر قیادت حکومتی جماعت تحریک انصاف فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دھوکا دیتے اور جھوٹ بولتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر غیر ملکی فنڈنگ کیس میں خفیہ رکھے گے 11 بینک اکاونٹس کے بارے میں الیکشن کمیشن کو گمراہ کیا اور غلط حقائق پیش کیے جن کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ یہ 11 بینک اکاؤنٹس تحریک انصاف کے اہم ترین رہنمائوں کے نام پر کھولے گے تھے جن میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، گورنر خیبرپختون خواہ محمود خان، اور گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے اہنے دعوے اسکی اپنی جمع کروائی گئی دستاویزات سے متصادم نکلے ہیں۔ دستاویزات سے تصدیق ہوتی ہے کہ پی ٹی آئی کے مرکزی فنانس ڈیپارٹمنٹ کو نہ صرف ان 11 بینک اکائونٹس کا علم تھا جنہیں الیکشن کمیشن سے خفیہ رکھا گیا بلکہ وہ ان کی ہینڈلنگ میں بھی شامل تھا۔ یاد رہے کہ یہ اکاؤنٹس سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف نے تحریری طور پر الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کو آگاہ کیا تھا کہ ان کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں اور یہ اکاونٹس پی ٹی آئی رہنماؤں نے انفرادی طور پر کھول رکھے تھے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن سے چھپائے گئے 11 بینک اکاؤنٹس تحریک انصاف کے نام پر کھولے گئے تھے جنہیں جان بوجھ ہر چھپایا گیا جو کہ جرم ہے اور اسکی سزا نا اہلی ہے۔
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2 دسمبر، 2012 کو پی ٹی آئی کے مرکزی فنانس بورڈ نے ایک اجلاس منعقد کیا جس میں چار افراد سلیم جان، خالد مسعود، ظفراللہ خان خٹک اور انجینئر حامد الحق کو پی ٹی آئی خیبر پختون خواہ برانچ کے بینک اکائونٹ کا دستخط کنندہ مقرر کیا گیا۔ یہ بینک اکاونٹ کے اے ایس بی یا کسب بینک لمیٹڈ، پشاور کینٹ میں تھا۔ اسی دن قرارداد بھی منظور کی گئی تھی کہ یہی چار افراد حبیب بینک ایل پشاور کے پارٹی بینک اکائونٹ کے دستخط کنندہ بھی ہوں گے۔
فنانس بورڈ کی قرارداد کے بعد نوٹیفکیشن جنرل مینیجر ایچ بی ایل پشاور کو بھیجا گیا اور انہیں آگاہ کیا گیا کہ اکائونٹس دستخط کنندگان میں 4 دسمبر، 2012 کو تبدیلی کی گئی ہے۔ ان کاغذات سے ثابت ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن سے چھپائے گئے تحریک انصاف کے 11 بینک اکاؤنٹس کا عمران خان سمیت مرکزی قیادت کو پوری طرح علم تھا۔ تاہم، الیکشن کمیشن کی جانب سے جب اس حوالے سے سوال کیا گیا تو تحریک انصاف نے غلط حقائق بیان کیے اور کہا کہ یہ اکائونٹس غیرمجاز تھے اور پی ٹی آئی فنانس ڈیپارٹمنٹ کے علم میں نہیں تھے۔ پی ٹی آئی فنانس ڈپارٹمنٹس کے دعوے کے برعکس دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ فنانس بورڈ نہ صرف ان اکائونٹس سے متعلق جانتا تھا بلکہ ان اکائونٹس کے دستخط کنندگان کی تقرری یا انہیں ہٹانے سے متعلق بھی آگاہ تھا۔
جب ان چار افراد سے رابطہ کیا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا وہ پارٹی قیادت کی اجازت سے ان اکائونٹس کو دیکھ رہے تھے، تو سلیم جان، خالد مسعود، ظفراللہ خان خٹک اور انجینئر حامد الحق نے تصدیق کی کہ انہیں دیگر تین ارکان کے ہمراہ بینک اکائونٹ کا دستخط کنندہ پی ٹی آئی سنٹرل فنانس بورڈ نے ہی مقرر کیا تھا اور ان کے پاس بورڈ قرارداد کی نقول کے علاوہ تقرر نامہ بھی موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ مرکزی فنانس ڈپارٹمنٹ نے کیوں اس بینک اکائونٹ اور اسکے دستخط کنندگان سے لاتعلقی کا اظہار کیا، جنکی تقرریاں اسنے خود کی تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی قیادت کی مرضی اور منظوری سے یہ بینک اکائونٹ کھولا تھا اور اس فیصلے میں تب کے پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل عارف علوی اور پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون بھی شامل تھے۔
جب کراچی سے تحریک انصاف کے بانی رکن قومی اسمبلی نجیب ہارون سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں اس بینک اکائونٹ کا دستخط کنندہ تھا اور ظاہر ہے یہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے علم میں تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پارٹی قیادت اس سے لا علم ہو؟ ان کا کہنا تھا کہ اس اکائونٹ کے تین دستخط کنندگان تھے لیکن وہ باقی دو کے نام بھول گئے ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ 15 مارچ، 2022 کو ای سی پی کے سامنے اپنے تحریری جواب میں پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال کمیٹی کو چیلنج کیا تھا کہ پی ٹی آئی نے 2009 سے 2013 تک کوئی بینک اکائونٹس نہیں چھپائے۔ پی ٹی آئی نے آسان راستہ یہ چنا کہ پکڑے جانے والے 11 بینک اکائونٹس سے اعلان لاتعلقی کر دیا حالانکہ ان کی الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹس کی تصدیق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کی تھی۔
پی ٹی آئی سیاست میں حرام کا پیسہ لگانےوالوں کیخلاف کھڑی
جانچ پڑتال کمیٹی کی رپورٹ کے صفحہ 92 کے مطابق، پی ٹی آئی نے صرف دو بینک اکائونٹس ظاہر کیے جو کہ سالانہ آڈٹ رپورٹس برائے سال 2008-12 اور چار 2013 کی تھیں۔ جب کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریکارڈ کے مطابق، پی ٹی آئی نے 2008 میں پانچ، 2009 میں سات ، 2010 میں 13، 2011 میں 14 اور 2012-13 میں 14 اکائونٹس چھپائے۔
جب کہ پی ٹی آئی نے 15 مارچ، 2022 کو ای سی پی کو اپنے تحریری جواب میں 11 بینک اکائونٹس سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ اکائونٹس ان کے علم میں اس وقت آئے جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2018 میں ان کا انکشاف کیا تھا۔ پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وہ سب جنہوں نے اکائونٹس کھولے، دیکھے اور عطیات وصول کیے وہ کدی اتھارٹی کے بغیر تھے۔
ٕ ٕPTI was caught cheating the Election Commission Urdu news ] video
