تحریک انصاف آج پی پی کیخلاف کراچی مارچ کریگی

پی ٹی آئی گھوٹکی تا کراچی حقوق سندھ مارچ کا آج سے آغاز کر رہی ہے، حکمران جماعت کے مرکزی اور صوبائی رہنما مارچ کے افتتاحی مقام سندھ-پنجاب سرحد کے قریب کامو شہید پہنچ چکے ہیں۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی نے گھوٹکی جاتے ہوئے سندھ یونیورسٹی ہاؤسنگ سوسائٹی حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو کی جہاں انہوں نے اپنے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ میں شرکت کی، کامو شہید کے ساتھ ساتھ کراچی جانے والے متعدد مقامات پر اجتماع کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سندھ کی تقدیر بدلنے کے لیے پُرعزم ہے، انہوں نے صوبے کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پی ٹی آئی کا ساتھ دیں، جیسے ہی یہ پی پی پی کا انتخابی نشان تیر ٹوٹے گا سندھ متحد ہو جائے گا، انہوں اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی 2023 کے عام انتخابات کے بعد سندھ میں آئندہ حکومت بنائے گی۔
وزیراعظم عمران خان کے خلاف مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے مجوزہ تحریک عدم اعتماد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ عمران خان نے برسوں پہلے ہی پیش گوئی کردی تھی کہ تمام چور احتساب سے بچنے کے لیے متحد ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ لاہور میں عدم اعتماد کی تحریک کی منصوبہ بندی کے لیے جمع ہوئے وہ خود کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے پیش گوئی کی کہ پی ٹی آئی حکومت کو ہٹانے کی ایک اور کوشش ناکام ہونے جا رہی ہے، 27 فروری بروز اتوار شروع ہونے والے پیپلز پارٹی کے کراچی تا اسلام آباد لانگ مارچ کے حوالے سے وفاقی وزیر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کا لانگ مارچ اوباڑو سے آگے نہیں جائے گا۔
صحافی اطہر متین کو قتل کرنیوالے مرکزی ملزم گرفتار
پی ٹی آئی رہنما نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ 15 سالوں میں صرف دولت لوٹی ہے، سندھ حکومت پرفارمنس دینے میں ناکام رہی۔انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں انفرااسٹرکچر تباہ ہو چکا جبکہ صوبے کے ہر محکمے اور ادارے میں کرپشن کا راج ہے، غریبوں کے بینک اکاؤنٹس میں اربوں روپے جمع کیے گئے، اومنی گروپ اور اس طرح کے دیگر اداروں کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
علی زیدی نے کہا کہ بلاول ہاؤس، سندھ میں تمام برائیوں کا ذمہ دار ہے، پیپلز پارٹی کو نہ صرف شکست ہوگی بلکہ لوٹی ہوئی دولت بھی اس سے برآمد کی جائے گی، انہوں نے الزام لگایا کہ زمینوں پر قبضہ گیروں کا قائد بلاول ہاؤس میں بیٹھا ڈان ہے۔وفاقی وزیر کا تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ہسپتالوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے اور لوگوں کو ہیلتھ کارڈ فراہم کیا جاسکتا ہے تو سندھ کو ان عظیم سہولیات سے کیوں محروم رکھا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت سندھ یہ کام کرنا ہی نہیں چاہتی۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ کا دورہ کیا لیکن نواب شاہ میں بھنڈ برادری کے پانچ مقتول افراد کے سوگوار خاندانوں کو نظر انداز کیا، پی پی پی چیئرمین انسانی حقوق کے چیمپیئن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ ام رباب، فہمیدہ سیال اور اس طرح کے دیگر متاثرہ افراد سے نہیں ملے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور ان کے والد کے دن گنے جا چکے ہیں۔صائمہ ندیم، عطا اللہ خان، علی پال اور دیگر بھی اس موقع پر علی زیدی کے ہمراہ موجود تھے۔بعد ازاں وفاقی وزیر علی زیدی نے عظیم صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری دینے کے لیے سہون شریف کا دورہ بھی کیا۔
