مخصوص سیٹیں نہ ملنے سے پی ٹی آئی کے غبارے سے ہوا نکلنے لگی

وکلاء کی زیر قیادت چلنے والی تحریک انصاف کو قانونی محاذ پر مسلسل کامیابیوں کے باوجود سیاسی محاذ پر مکمل ناکامی کا سامنا ہے۔ جہاں ایک طرف پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اکثریتی جماعت ہونے کی باوجود سینیٹ الیکشن نہ کروانے پر ایوان بالا کی نشستوں سے محروم ہے وہیں سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود تا حال پی ٹی آئی کو ایک بھی مخصوص سیٹ نہیں مل سکی جبکہ بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود تاحال تحریک انصاف ایک بار پھر قانون و آئین کے مطابق پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری سیاسی جماعتوں کی فہرست سے پی ٹی آئی کے پارٹی سربراہ کا نام تک غائب ہو گیا ہے۔ان حالات میں تحریک انصاف کا ابھی تک انتخابی نشان بلا بھی بحال نہیں ہوا اور ایوانوں میں بھی پارٹی پوزیشن بحال نہیں ہوسکی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف نے جو کام پارٹی سطح پر خود کرنے تھے وہ کیوں نہ ہو سکے؟ اور پی ٹی آئی کی سیاسی محاذ پر مسلسل ناکامی کی اصل وجہ کیا ہے؟
عمران اور فیض میں رابطے کا ذریعہ بننے والا موبائل فون پکڑا گیا
مبصرین کے خیال میں تحریک انصاف آئینی طور پر اپنا مقدمہ مضبوط کرنے کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی سامنے لانے میں یکسر ناکام رہی ہے شاید اسی لیے پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر قانونی معاملات کی سربراہی حامد خان کو ہٹا کر سلمان اکرم راجہ کے سپرد کر دی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق قانونی ٹیم کی سربراہی کی تبدیلی کی بجائے تحریک انصاف کو اپنی سیاسی حکمت عملی کی تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ پی ٹی آئی کی سیاست کو بند گلی سے نکالا جا سکے چونکہ اب زمینی حقائق کے مطابق حکومتی اتحادی جماعتیں تو کجا بڑی اپوزیشن جماعتیں بھی بخوشی تحریک انصاف کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں۔
تاہم سابق وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل امجد حسین شاہ کے بقول، ’الیکشن کمیشن میں ابھی تک تحریک انصاف اپنے پارٹی آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کرا کے رپورٹ جمع نہیں کرا سکی۔ عدالتوں سے ریلیف ملنے کے باوجود وہ مخصوص نشستیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئی۔ پارلیمنٹ سے الیکشن ترامیمی ایکٹ پاس ہونے کے بعد پی ٹی آئی کے لیے مزید مشکلات کھڑی ہوچکی ہیں۔‘
قانون دان امجد حسین شاہ کے بقول ہر سیاسی جماعت کا اپنا آئین ہے جس کے مطابق انہوں نے الیکشن کمیشن کی شرط پر مخصوص مدت کے اندر انٹرا پارٹی الیکشن کرا کے عہدیداروں کی فہرست جمع کرانی ہوتی ہے۔ باقی جماعتوں کے آئین میں ایگزیکٹو کونسل کے ذریعے انتخاب جبکہ پی ٹی آئی کا آئین جنرل کونسل کے زریعے عہدیداروں کے چناؤ کا پابند کرتا ہے۔‘’مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام یا جماعت اسلامی ایگزیکٹو کونسل کے تین سو اراکین کو جمع کر کے آسانی سے پارٹی الیکشن کرا لیتے ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف دعویٰ کرتی ہے ان کے رجسٹرڈ اراکین کی تعداد کئی لاکھ ہے۔ تو انہیں اپنے آئین کے مطابق پارٹی الیکشن جنرل کونسل کے ذریعے کرانا دشوار ہوتے ہیں۔‘
امجد شاہ نے کہا کہ ’تحریک انصاف کے لیے اپنے آئین میں رہتے ہوئے انٹرا پارٹی الیکشن کرا کے الیکشن کمیشن میں اپنی حیثیت مکمل بحال کرانے میں موجودہ عہدیدار بھی سنجیدہ نہیں۔ انہوں نے تین بار پارٹی الیکشن کرائے لیکن پارٹی آئین کے مطابق انتخابات کے عدم انعقاد پر الیکشن کمیشن ان پارٹی الیکشن کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کی نظروں میں ابھی تک پی ٹی آئی ایک ہیڈلیس جماعت کے طور پر موجود ہے۔
قانون دان امجد حسین شاہ نے مزید بتایا کہ’اس کے علاوہ کے پی میں تحریک انصاف کی حکومت نے خود سینیٹ انتخاب نہیں ہونے دیے۔ وہاں ان کی اکثریت ہونے کے باوجود سینیٹ کی نشستیں ابھی تک نہیں مل سکیں۔ مخصوص نشستوں کے لیے کامیاب ہونے والے اپنے آزاد اراکین کو سنی اتحاد کونسل میں شامل کر دیا۔ اب سپریم کورٹ نے انہیں دوبارہ تحریک انصاف میں شامل کرنے کا جو فیصلہ دیا اسے روکنے کے لیے پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ میں ترامیم پاس کر لیں۔‘ جس کے بعد پی ٹی آئی کیلئے مخصوص نشستوں کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔امجد حسین شاہ کے مطابق ’پی ٹی آئی رہنما قانونی اعتراضات دور کر کے ہی اپنی پارٹی کے اندر اور باہر قانونی پوزیشن بحال کر سکتے ہیں۔ انہیں اپنا پارٹی آئین تبدیل کرنا ہوگا یا اسی آئین کے مطابق الیکشن کرانا ہوں گے۔‘’اس کے علاوہ نہ ان کا نشان بحال ہوسکتا ہے اور نہ ہی پارٹی سربراہ کا نام شامل ہوگا۔ جہاں تک بات ہے مخصوص نشستوں کی تو اس میں سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ نہ آنے اور اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیلوں کی وجہ بتا کر الیکشن کمیشن وضاحت پیش کرسکتا ہے۔‘
