PTI کا رہائی فورس منصوبہ ختم کرنے کا فیصلہ ڈرامہ نکلا

پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان رہائی فورس منصوبہ ختم کرنے کا فیصلہ ایک ڈرامہ نکلا،“عمران خان رہائی فورس” کے نام پر نجی ملیشیا تشکیل دینے پر سخت اندرونی و بیرونی ردعمل سامنے آنے کے بعد پارٹی قیادت نے فوری طور پر یوٹرن لیتے ہوئے اس کا نام تبدیل کر کے “رہائی ممبر سازی مہم” رکھ دیا ہے۔ پی ٹی آئی نے بظاہر عمران خان کی رہائی کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی اختیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، مگر حقیقت میں یہ “نئی” حکمتِ عملی دراصل پرانی سوچ کا ہی تسلسل ہے۔ یعنی پی ٹی آئی لیڈر شپ نے پرانی اور ممنوعہ شراب کو نئی بوتل میں انڈھلینا شروع کر دیا ہے تاکہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے ساتھ ساتھ مقتدر حلقوں کو رام کیا جا سکے تاہم ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی اب بھی ایک “نجی ملیشیا” تشکیل دینے جا رہی ہے تاہم اسے قانونی اور آئینی دائرہ کار میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے ممبر سازی مہم کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے، تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف نام بدلنے سے حقیقت بھی بدل جاتی ہے؟ مبصرین کے مطابق نام کی تبدیلی سے حقائق نہیں بدلتے، نام بدلنے سے وقتی دباؤ تو کم ہو سکتا ہے، مگر اصل امتحان اس مہم کے عملی خدوخال اور اس کے نتائج ہوں گےکہ آیا پی ٹی آئی کی یہ نئی ممبر سازی مہم جمہوری حدود میں رہتی ہے یا ایک بار پھر تصادم کی سیاست کو جنم دیتی ہے۔اس مہم کے عملی نتائج اور پارٹی کے اقدامات ہی طے کریں گے کہ یہ تبدیلی محض دکھاوا ہے یا واقعی پی ٹی آئی کی مزاحمتی سیاست مفاہمت کا روپ دھارنے جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے باقاعدہ ممبر سازی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جو پارٹی کی رہائی تحریک میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ اس نئی رہائی ممبرسازی مہم کے تحت ملک بھر میں نئے ممبران کو شامل کر کے عمران خان کی رہائی کے لیے منظم جدوجہد کی جائے گی۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ابتداء میں یہ منصوبہ “عمران خان رہائی فورس” کے نام سے شروع کیا گیا تھا، تاہم پارٹی کے اندرونی اور بیرونی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آںےکے بعد پی ٹی آئی قیادت نے یوٹرن لیتے ہوئے اس کا نام بدل کر “عمران خان رہائی ممبر سازی مہم” رکھ دیا گیا۔ پی ٹی آئی کے مطابق اس اقدام کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر منظم سٹریٹ مہم چلانے کیلئے فورس کی تشکیل ہے، مگر ناقدین اسے پرانی سوچ کا تسلسل اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق اس مہم کے تحت نوجوانوں کو آگے لائیں گے جو پارٹی کی احتجاجی سرگرمیوں اور مظاہروں میں فرنٹ لائن پر ہوں گے، گلی محلوں سے لوگوں کو باہر نکالنے اور ممکنہ رکاوٹیں دور کرنے میں کردار ادا کریں گے۔
تاہم مبصرین پی ٹی آئی کی اس نئی عمران خان رہائی ممبر سازی مہم کی بھی مخالفت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی جماعتوں کی جانب سے خصوصی فورس بنانا آئین و قانون کے دائرہ کار سے باہر ہے اور نوجوانوں کو ممکنہ تصادم میں دھکیل سکتا ہے۔ دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں پرامن جدوجہد کرتی ہیں، اور ڈنڈے یا اسلحہ اٹھا کر احتجاج کرنا یا تصادم کی راہ اپنانا قانونی قرار نہیں دیا جاتا ایسے میں پی ٹی آئی کا ممبر سازی مہم کے نام پر اپنی نجی ملیشیا بنانے کا اقدام کیسے جموری، آئینی اور قانونی ہو سکتا ہے۔
دنیا کی نظر میں پاکستان کا تعارف اور تعریف کیوں بدل گئی؟
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پی ٹی آئی نے کسی خصوصی فورس کا قیام کیا ہو۔ کرونا کے دوران قائم کی گئی “ٹائیگر فورس” عوامی آگاہی اور راشن کی تقسیم کے لیے بنائی گئی تھی، مگر اس کی کارکردگی پر تنقید بھی سامنے آئی تھی۔ ناقدین کے مطابق اب پی ٹی آئی ایک بار پھر خصوصی فورس کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ مہم صرف آگاہی اور اسٹریٹ مہم تک محدود رہے گی، یا پی ٹی آئی ان جذباتی نوجوان کو اپنے مظاہروں اور احتجاج میں دنگا فساد کیلئے استعمال کرے گی مبصرین کے مطابق اگر یہی نوجوان ڈنڈے یا اسلحہ اٹھا کر مظاہروں میں نکل آئے تو صورتحال نہ صرف سنگین ہو سکتی ہے، اصل سوال یہ ہو گا کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی۔ ناقدین کے مطابق ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کی جانب سے ممبر سازی مہم کے نام پر ایسی نجی فورس کے قیام کا اعلان آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ سیاسی جماعتوں کو نوجوانوں کو تصادم کی طرف دھکیلنے کی بجائے پرامن سیاسی جدوجہد کرنی چاہیے۔ ناقدین کے مطابق یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر صرف آگاہی مہم چلانی ہے تو پارٹی کی موجودہ تنظیم کو فعال کیوں نہیں کیا جاتا۔ پی ٹی آئی کی نئی ممبر سازی مہم میں صرف نوجوانوں پر فوکس اس مہم کو مشکوک بناتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اپنی حکومت ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں تو پی ٹی آئی کی عمران خان رہائی ممبر سازی مہم کسی حد تک کامیاب ہو سکتی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں اس کا پھیلاؤ مشکل ہو سکتا ہے۔
