بسنت کی وجہ سے PTIکا 8 فروری کا احتجاج تو وڑ گیا

لاہور میں تین روزہ بسنت کے جشن کی وجہ سے تحریک انصاف کا 8 فروری کو لاہور سمیت ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا پلان چوپٹ ہوتا دکھائی دیتا ہے، احتجاج کی بجائے بسنت کی تیاریوں میں مصروف عوام کی جانب سے ٹھینگا دکھائے جانے کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے احتجاج کی تاریخ کی تبدیلی پر غور شروع کردیا ہے۔ باہمی مشاورت کے بعد حتمی فیصلے کا اعلان جلد متوقع ہے

ذرائع کے مطابق بسنت کی وجہ سے پنجاب میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ بلوچستان میں پہلے ہی امن و امان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے جبکہ سندھ میں تحریک انصاف کو فری ہینڈ ملنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف اگر اپنے فیصلے پر بضد رہتی ہے تو احتجاج صرف پشاور اور صوبے کے دیگر شہروں تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ جس پر تحریک انصاف کی قیادت کو بھی تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن کی احتجاج کی کال حتمی ہے، پی ٹی آئی رہنماؤں نے احتجاج کو کامیاب بنانے کیلئے تاجر برادری سے رابطے شروع کر دیئے ہیں ۔ تاہم یہ بات حقیقت ہے کہ اس وقت لاہور میں جس انداز سے بسنت کی تیاری اور تشہیر کی جارہی ہے، تحریک انصاف کیلئے لا ہور کو بند کرناکسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ مبصرین کے مطابق، عوام کی بسنت میں دلچسپی اور تیاریاں اس بات کا مظہر ہیں کہ سیاسی احتجاج کی جگہ ثقافتی تہوار نے لے لی ہے۔دوسری جانب پشاور سمیت خیبرپختونخوا سے بھی بڑی تعداد میں عوام کا بسنت منانے کیلئے لاہور کا سلسلہ جاری ہے۔  جس کی وجہ سے تحریک انصاف کا احتجاج کا پلان دھرے کا دھرا رہ جائے۔ ناقدین کے مطابق تین روزہ بسنت کی رونقوں، بازاروں میں رش اور لوگوں کی چھتوں پر پتنگ بازی کے ممکنہ مناظر نے تحریک انصاف کے 8 فروری کے احتجاج کی کامیابی کو ناممکن بنا دیا ہے۔ اسی وجہ سے پی ٹی آئی قیادت نے ممکنہ ناکامی کے پیش نظر احتجاج کی تاریخ میں تبدیلی بارے مشاورت شروع کر دی ہے، تاکہ عوامی جوش و خروش کے خلاف سیاسی حکمت عملی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

مبصرین کے مطابق تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے تحریکِ انصاف کے دباؤ پر 8 فروری کو مبینہ الیکشن دھاندلی کے خلاف ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج کا اعلان تو کر دیا ہے، لیکن ماضی کی احتجاجی کالز کی طرح اس کال کے بھی ناکام ہونے کا امکان واضح طور پر نظر آتا ہے کیونکہ اس وقت ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال ایسی بری نہیں ہے کہ عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔ ویسے بھی تحریک تحفظِ آئین میں شامل سب سے بڑی جماعت یعنی تحریک انصاف کی اپنی سٹریٹ پاور تقریباً ختم ہو چکی ہے، اور عوام احتجاج کے لیے باہر نکلنے پر تیار نہیں ہے۔ ایسے میں 8 فروری کی کال طاقت کے مظاہرے سے زیادہ بیانیے کی بقا کی کوشش کے مترادف ہو سکتی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی احتجاجی کالز کا نتیجہ بتاتا ہے کہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر، گزشتہ دسمبر میں ہونے والی ملک گیر احتجاجی کال کے دوران بڑے شہروں میں صرف چند مقامات پر محدود احتجاج دیکھنے کو ملا، جبکہ پنجاب اور سندھ میں عام عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی۔ اسی طرح دیگر چھوٹے احتجاجی مظاہرے بھی زیادہ تر علامتی نوعیت کے رہے اور حقیقی طور پر کوئی ٹریفک جام، کاروباری بندش یا سڑکوں پر بڑے پیمانے پر دھرنے سامنے نہیں آئے۔ تاہم، اس مرتبہ سب سے بڑا چیلنج پی ٹی آئی کو درپیش ہے، کیونکہ پارٹی کی سٹریٹ لیول پر طاقت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہونے کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 8 فروری کو ہڑتال اور احتجاج کا فوکس وہیں پر ہوگا، پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں میں احتجاج کے لیے کارکنوں کا متحرک ہونا تحریک تحفظ آئین پاکستان اور تحریک انصاف کی قیادت کے لیے ابھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

سیاسی تجزیہ کار کے بقول موجودہ ملکی سیاسی حالات میں 8 فروری کی ہڑتال کی کال اپوزیشن کی جانب سے طاقت کے مظاہرے سے زیادہ بیانیے کی بقا کی کوشش نظر آتی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن کی احتجاج کی کال ملک گیر سطح پر کامیاب نہیں ہو سکتی، جبکہ پہیے جام جیسے بڑے احتجاج کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں پی ٹی آئی کی خیبر پختون خواہ جیسی سٹریٹ پاور دکھائی نہیں دیتی، جس کی وجہ سے ملک گیر شٹر ڈاؤن اور احتجاج کی کال کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ ویسے بھی بسنت کی وجہ سے پی ٹی آئی کی کال پر لوگوں کے سڑکوں پر نکل کر روڈ بند کرنے کے امکانات معدوم دکھائی دیتے ہیں، تاہم، اس کال کے ذریعے پی ٹی آئی یہ پیغام ضرور دے سکتی ہے کہ وہ ایک سیاسی قوت کے طور پر اب بھی موجود ہے اور اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔

Back to top button