PTI کے کوٹ لکھپت گروپ کی اڈیالہ گروپ کی پالیسیوں کیخلاف بغاوت

 

 

 

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے فوج اور ریاست مخالف پالیسی ترک کرنے سے واضح انکار کے بعد تحریکِ انصاف کے کوٹ لکھپت میں موجود مفاہمتی دھڑے نے ایک بار پھر پارٹی قیادت کو احتجاج کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز دے دی ہے۔ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کی سب سے بڑی لڑائی اڈیالہ جیل اور کوٹ لکھپت جیل کے مکینوں کے درمیان شروع ہو چکی ہے، پی ٹی آئی کے سینیئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور دیگر 4 رہنماوں پر مشتمل کوٹ لکھپت جیل کی قیادت نڈھال اور مایوس ہو کر حکومت کے نام ایک خط لکھ کر مذاکرات کی اپیل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اگر اب بھی پی ٹی آئی قیادت نے اسیر رہنماؤں کے مشورے پر عمل نہ کیا تو کوٹ لکھپت مفاہمتی گروپ کھل کر پارٹی پالیسیوں کے خلاف بغاوت کر سکتا ہے۔

 

یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمودالرشید نے پارٹی قیادت کے نام خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ مسائل کا واحد پائیدار حل مذاکرات ہی ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت شدید ترین بحرانوں سے گزر رہا ہے، اور ایسے حالات میں ہر محبِ وطن شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ذاتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک کے مفاد کو ترجیح دے اور پُرامن ذرائع سے اپنے مقاصد حاصل کرے۔ رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت اور تحریکِ انصاف نے اب بھی ضد اور محاذ آرائی کا رویہ ترک نہ کیا تو ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

خیال رہے کہ اس سے کچھ عرصہ قبل بھی شاہ محمود قریشی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور جیل سے باہر موجود پارٹی قیادت کو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذکرات کی تجویز دی تھی۔ جس پر پارٹی میں واضح تقسیم دکھائی دی تھی۔ تاہم پی ٹی آئی کے اینٹی مذاکرات اڈیالہ گروپ اور پرو مذاکرات کوٹ لکھپت گروپ کی جنگ میں تیزی آنے کے بعد عمران نے بالآخر اپنی ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کی حکومت سے مذاکرات کی تجویز سختی سے رد کر دی تھی اور حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذاکرات کی تجویز پر مبنی شاہ محمود قریشی کی جانب سے لکھے جانے والے خط پر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر چیمہ کے دستخط بھی موجود تھے جنہیں عمران خان کے کسی قسم کی مفاہمت سے صاف انکار کے بعد 9 مئی کے کیسز میں 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی تھی تاہم شاہ محمود قریشی کو ان کیسز سے بری کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح اس بار بھی خط سامنے آنے کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ نو مئی کلب چوک جی او آر کے گیٹ پر حملے کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، سرفراز چیمہ اور محمود الرشید کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے جبکہ اس کیس میں بھی شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا ہے۔

 

واضح رہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت نےاپنے وکیل کے ذریعے میڈیا کو لکھے گئے خط میں ایک بار پھر مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے قومی جماعتوں سے مشاورت پر زور دیا۔ خط کے متن میں کہا گیا کہ گزشتہ 3 سال 8 ماہ سے پاکستان شدید بحرانوں کا شکار ہے، ایسی صورت حال میں ہر محب وطن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کا سوچے اور باہمی مشاورت سے آگے بڑھنے کی راہ ہموار کرے۔

 

خط کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما سمجھتے ہیں کہ ہر سطح پر گفت و شنید ہی مسائل کا واحد حل ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ گفت و شنید ہی بالعموم پاکستان اور بالخصوص تحریک انصاف کو بحران سے نکال سکتی ہے۔خط میں پی ٹی آئی رہنماؤں کا مزید کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے قومی جماعتوں کی مشاورت سے حل نکالنے کی ذمہ داری تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کو دی ہے کیونکہ وسیع تر مشاورت سے ہی مذاکرات کا دروازہ کھل سکتا ہے۔ اس لئے وہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر سے توقع کرتے ہیں کہ وہ قوم کی رہنمائی کریں گے۔

گھڑی فروش عمران خان زیورات فروش بھی ثابت ہو گیا

واضح رہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنما اس سے قبل بھی مذاکرات کی حمایت کر چکے ہیں تاہم بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان ہمیشہ سیاستدانوں سے بات چیت سے انکاری رہے ہیں۔مبصرین کے مطابق کوٹ لکھپت جیل سے مسلسل مفاہمت اور مذاکراتی کی آوازیں بلند ہونے کے بعد اس وقت تحریک انصاف اڈیالہ گروپ اور کوٹ لکھپت گروپ میں تقسیم ہو چکی ہے۔ کوٹ لکھپت گروپ کے سرغنہ شاہ محمود قریشی کا یہ موقف ہے کہ پارٹی اپنے احتجاجی آپشن استعمال کر چکی ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ ناکامی کی صورت میں نکلا، احتجاجی اور مزاحمتی سیاست کی وجہ سے پی ٹی آئی بند گلی میں پہنچ چکی ہے لہذا اب عمران خان کو ڈائیلاگ کا راستہ اپنانا چاہیئے۔ انہوں نے اپنا یہ موقف حکومت اور میڈیا کے نام ایک خط میں بھی بیان کیا ہے۔ تاہم دوسری جانب اڈیالہ گروپ کسی صورت حکومت سے مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں، تاہم عمران خان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی گرتی ہوئی عوامی مقبولیت کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے مذاکرات تو کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنے ووٹرز کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ وہ کمزور پڑ چکے ہیں۔ اس لیے وہ کبھی تو مذاکرات کی اجازت دیتے ہیں اور کبھی تحریک چلانے کی بات کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عمران نے اپنی دوغلی پالیسی نہ چھوڑی اور دوبارہ اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کوشش کی تو پی ٹی آئی پر بالکل کراس لگا دیا جائے گا۔ اس لئے پی ٹی آئی قیادت کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے احتجاجی تحریک چلانے کی دھمکیاں چھوڑ کر مذاکرات کا آغاز کردینا چاہیئے تاکہ پی ٹی آئی کی بچی کھچی ساکھ کو بچایا جا سکے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ پارٹی ذمہ داران اور اراکین اسمبلی بھی بار بار کی احتجاجی کالز سے تھک چکے ہیں۔ اس مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے عمران خان کے پاس ڈائیلاگ ہی واحد راستہ ہے لیکن وہ بار بار احتجاج کی دھمکی دیکر اس آپشن کو بھی بند کرتے نظر آتے ہیں۔

Back to top button