پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کی مذاکرات سے قبل عمران خان سے مشاورت

حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کرنے سے پہلے پی ٹی آئی وفد نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے مشاورت کی۔

اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کےخلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت ہوئی،سماعت کے موقع پر عمران خان سے پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن سلمان اکرم راجا نے ملاقات کی۔

اس موقع پر بیرسٹر علی ظفر بھی موجود تھے،ملاقات میں حکومت سے مذاکرات سےقبل ممکنہ حتمی مشاورت کی گئی۔

ملاقات کےبعد سلمان اکرم راجا اور بیرسٹر علی ظفر اڈیالہ جیل سے واپس اسلام آباد روانہ ہوگئے۔

اڈیالہ جیل کےباہر صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں سلمان اکرم راجا کاکہنا تھاکہ ہم اپنے مؤقف پر کھڑےہیں،مذاکرات کی کامیابی کےلیے پرامید ہیں۔

قبل ازیں عمران خان اور بشریٰ بی بی کےخلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی جیل میں سماعت ہوئی،کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی۔

دوران سماعت بشریٰ بی بی کےوکیل ارشد تبریز بیماری کے باعث عدالت پیش نہ ہوسکے،وکیل صفائی کی عدم دستیابی کے باعث استغاثہ کےگواہ بنیامین پر جرح مکمل نہ ہوسکی۔

اسپیشل پبلک پراسکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے عمران خان کےوکیل قوسین مفتی کو گواہ پر جرح کرنےکی استدعا کی جس پر انہوں نےموقف اپنایاکہ پہلے بشریٰ بی بی کے وکیل گواہ پر جرح مکمل کریں پھر ہم کریں گے۔

عدالت نےکہاکہ ائندہ سماعت پر جرح کا عمل مکمل نہ کیاگیا تو تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائےگی۔

عدالت نے وکلا کو ائندہ سماعت پر جرح مکمل کرنےکی ہدایت کرتےہوئے سماعت پیر 6 جنوری تک ملتوی کردی۔

عمران خان کو بنی گالہ منتقلی کی پیشکش کی گئی، فیصل چوہدری کا دعویٰ

واضح رہےکہ 23 دسمبر کو پی ٹی آئی اور حکومتی کمیٹیوں کےدرمیان اسپیکر ہاؤس میں ہونے والی پہلی ملاقات میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوا تھا جب کہ وزیراعظم نے ملک کے وسیع تر مفاد کےلیے مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی امید کا اظہار کیاتھا۔

حکومتی کمیٹی میں وزیر خارجہ اسحٰق ڈار،سینیٹر عرفان صدیقی،رانا ثنااللہ، نوید قمر،راجا پرویز اشرف اور فاروق ستار، جب کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اسد قیصر،اعجاز چوہدری،حامد رضا اور علامہ راجا ناصر عباس شامل تھے۔

Back to top button