پی ٹی آئی کا دھلائی اور ٹھکائی سے بچنے کیلئے نیا بھگوڑا احتجاج

 

 

 

ماضی میں دھرنوں، ریلیوں اور لانگ مارچز کے ذریعے حکومت کو ٹف ٹائم دینے والی پی ٹی آئی نے اب پولیس کے ہاتھوں دھلائی اور ٹھکائی سے بچنے کیلئے بھگوڑے احتجاج کا ایک نیا اور متنازع طریقۂ احتجاج اختیار کر لیا ہے۔ اس طریقہ واردات کے تحت چند نقاب پوش عمرانڈو مختلف شہروں کی اہم شاہراہوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کرتے ہیں اور پولیس کی آمد سے پہلے ہی منتشر ہو جاتے ہیں، تاکہ شناخت اور قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔ پی ٹی آئی کی شرانگیزی کی اس حکمتِ عملی کو سوشل میڈیا پر کچھ حلقے“تیز اور مؤثر مزاحمت” قرار دے رہے ہیں، تاہم ناقدین کے نزدیک یہ طرزِ عمل شہری زندگی کو مفلوج کرنے اور قانون کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی شاہراؤں کو بند کرکے ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنا سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہےحکومت نے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے اس شرپسندی میں ملوث عناصر کی شناخت شروع کر دی ہے۔ اس جرم میں ملوث یوتھیے جلد پولیس کی گرفت میں ہونگے اور انھیں نشان عبرت بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کسی کو اس طرح کی حرکت کرنے کی جرات نہ ہو۔

 

 

مبصرین کے مطابق سیاسی جماعتوں کیلئے عوامی احتجاج ہمیشہ سے طاقت کے اظہار کا ذریعہ رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں احتجاج اور انتشار کے درمیان لکیر دھندلی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ماضی میں دھرنوں، ریلیوں اور لانگ مارچز کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈالنے والی پاکستان تحریک انصاف نے اب گرفتاری اور تصادم سے بچنے کے لیے مبینہ طور پر ایک نیا طریقۂ احتجاج اختیار کر لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حکمتِ عملی میں چند نوجوان موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر کسی مخصوص مقام کا انتخاب کرتے ہیں۔ بڑے چوراہوں یا اہم شاہراہوں پر پہلے سے لائے گئے ٹائر رکھے جاتے ہیں، ان پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جاتی ہے جس سے ٹریفک رک جاتی ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق گرفتاری سے بچنے کیلئے بھگوڑا احتجاج کرنے والے عمرانڈو مرکزی مقام سے کچھ فاصلے پر اپنے ساتھی تعینات کرتے ہیں جو پولیس کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔ جیسے ہی انھیں اطلاع ملتی ہے کہ پولیس قریب پہنچ رہی ہے، مظاہرین فوری طور پر منتشر ہو جاتے ہیں۔ یوں چند منٹوں میں سڑک بند، احتجاج ریکارڈ اور شرکاء غائب ہو جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی حلقوں میں اس متنازع احتجاجی عمل کو ایک مختصر مگر اثر انگیز کارروائی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اسلام آباد ریجن کے صدر عامر مغل کی جانب سے کارکنوں کو اس طریقے پر عمل کی ترغیب دینے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس کے بعد دارالحکومت اور گردونواح میں اس طرز کے واقعات میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ گزشتہ رات طلبہ تنظیم آئی ایس ایف کے رہنماؤں کی جانب سے ایکسپریس ہائی وے اسلام آباد پر اسی طرز کا احتجاج کیا گیا، جہاں ٹائر جلائے گئے، جھنڈے لہرائے گئے اور پولیس کی آمد سے قبل کارکن منتشر ہو گئے۔ پی ٹی آئی حلقے سوشل میڈیا پر اس حکمتِ عملی کو “کم لاگت اور پر اثر” حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا بریگیڈ یہ تاثر دیتی نظر آ رہی ہے کہ اگر اس احتجاجی حکمت عملی کو ملک گیر سطح پر پھیلایا جائے تو حکومت کے لیے انتظامی چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم شاہراہوں کو بند کرکے ٹریفک کی روانی میں خلل ڈالنا سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے ملوث افراد کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی بھی فرد اس طرح کی شر انگیزی کی جرات نہ کرے

 

دوسری جانب سیاسی مبصرین پی ٹی آئی کے اس نئے طرزِ احتجاج پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ “گوریلا سٹائل بھگوڑا احتجاج” روایتی جلسوں اور لانگ مارچز کے مقابلے میں زیادہ غیر متوقع اور انتظامیہ کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے۔ تاہم دیگر مبصرین اسے جمہوری احتجاج کی روح کے منافی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق احتجاج کا حق آئینی ہے، مگر چہرہ چھپا کر کارروائی کرنا اور ذمہ داری قبول نہ کرنا جمہوری سیاست کی روایت نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے سب سے زیادہ متاثر عام شہری ہوتے ہیں۔ کچھ قانونی ماہرین کا مؤقف ہے کہ مرکزی شاہراہوں کی بندش اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا فوجداری قوانین کے تحت قابلِ گرفت جرم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج اور تخریب کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، ورنہ سیاسی مزاحمت کار اور قانون شکن عناصر ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئیں گے۔

 

تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہ نیا طرزِ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ سیاسی درجۂ حرارت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف تحریک انصاف احتجاج کے نام پر انتشار پر آمادہ نظر آتی ہے جبکہ دوسری جانب حکومت ریاستی رِٹ قائم رکھنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھاتی دکھائی دیتی ہے ہے۔ ایسے میں سڑکیں سیاسی کشمکش کا نیا میدان بنتی جا رہی ہیں۔ جس کا خمیازہ ٹریفک کی بندش کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہ مختصر مگر اچانک بھگوڑا احتجاج سیاسی دباؤ بڑھانے میں کامیاب ہوگا، یا اس کے نتیجے میں سخت قانونی کارروائیاں اور مزید محاذ آرائی جنم لے گی؟ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کی یہی حکمتِ عملی پارٹی کی احتجاجی سیاست کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

 

پاکستان کی سیاست میں احتجاج ہمیشہ سے طاقت کے اظہار کا ذریعہ رہا ہے، مگر اب احتجاج اور انتشار کے درمیان لکیر دھندلی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جلسوں، دھرنوں اور لانگ مارچ کے بعد اب پاکستان تحریک انصاف سے منسوب ایک ایسا طریقۂ احتجاج سامنے آیا ہے جس میں چند نقاب پوش افراد اہم شاہراہوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کرتے ہیں اور پولیس کی آمد سے پہلے غائب ہو جاتے ہیں۔ بظاہر یہ حکمتِ عملی مختصر اور کم خرچ سہی، مگر اس کے اثرات عام شہریوں، ایمبولینسوں، طلبہ اور روزگار کے لیے نکلنے والے افراد پر براہِ راست پڑتے ہیں۔

علیمہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے عمران کا فائدہ کر رہی ہیں یا نقصان؟

سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی جمہوری احتجاج ہے یا ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنے کی ایک منظم کوشش؟ اگر احتجاج کا مقصد اپنی آواز پہنچانا ہے تو چہرہ چھپا کر اور ذمہ داری قبول کیے بغیر کارروائی کرنا کس پیغام کی عکاسی کرتا ہے؟ ناقدین اسے شہری زندگی کو یرغمال بنانے کے مترادف قرار دے رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر کچھ حلقے اسے “مؤثر مزاحمت” کا نام دے رہے ہیں۔

 

منگل 17 فروری 2026 کی اس رپورٹ میں ہم جائزہ لیں گے کہ یہ نیا طرزِ احتجاج سیاسی حکمتِ عملی ہے یا قانون شکنی کا ایک خطرناک رجحان—اور اس کے نتائج کس کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

 

Back to top button