سوشل میڈیا پر ریاست دشمنی سے PTI کی سیاسی کمیٹی بھی نالاں

تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے فوج اور اسکی قیادت کے خلاف پارٹی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ہونے والے مسلسل پروپگینڈے کا معاملہ اب عمران خان کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختون خواہ ہائوس اسلام آباد میں ہونے والی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں اس معاملے پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
سیاسی کمیٹی کے اکثریتی اراکین کا اس بات پر اتفاق تھا کہ ریاست دشمنی میں پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا اکائونٹس سے ایسا غیر ذمہ دارانہ مواد پھیلایا جا رہا ہے جس سے ملکی مفادات پر زد پڑتی ہے اور مخالفین کو تحریک انصاف پر ملک دشمنی کے الزامات لگانے کی سہولت مل جاتی ہے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پارٹی کے سینئر رہنما اڈیالہ جیل میں پارٹی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کریں گے تاکہ انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا غلط استعمال روکنے کیلئے نگرانی کا طریقہ کار وضع کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ جعفر ایکسپریس پر بلوچستان لبریشن آرمی کے دہشت گرد حملے کے بعد بھی پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے نہ صرف ریاست مخالف بلکہ فوج مخالف بے بنیاد پروپگینڈا بھی کیا گیا۔ پارٹی کے مصدقہ اکائونٹس کے ذریعے ٹرین ہائی جیکنگ میں ملوث عسکریت پسندوں کے بیانات سے ہم آہنگ پروپیگنڈا کیا گیا۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکائونٹس پر پارٹی کا کوئی کنٹرول نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور سیکریٹری اطلاعات وقاص اکرم شیخ کو بھی پارٹی اکاؤنٹس پر پوسٹ کیے جانے والے مواد بارے علم نہیں ہوتا اور نہ ہی ان سے کوئی کلئیرنس لی جاتی ہے۔
پارٹی رہنمائوں کو یہ شکایت بھی ہے کہ پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا اکائونٹس پر ان کے بیانات اور پریس کانفرنسز کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ بیرون ملک بیٹھے شہباز گل اور عمران ریاض خان جیسے یوٹیوبرز کی پوسٹس پر توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اور بیرون ملک موجود مخصوص گروپس کا دبائو ایسا ہے کہ پارٹی رہنما جھوٹے یا مبالغہ آرائی پر مبنی بیانات اور پروپیگنڈے کی تردید سے کتراتے ہیں۔ ایسے میں پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے اراکین کا خیال ہے کہ صرف عمران خان ہی پارٹی کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ضابطے میں لا سکتے ہیں۔ لیکن انہیں اس حوالے سے قائل کرنے کی سابقہ کوششیں ناکام رہی ہیں، کیونکہ وہ پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا اکائونٹس سے پھیلائے گئے مواد کی مسلسل تعریف و تائید کرتے رہے ہیں۔
انصار عباسی کے مطابق پارٹی کے اندرونی ذرائع کہتے ہیں کہ سیاسی کمیٹی کی جانب سے عمران خان کو مشورہ دیا جائے گا کہ وہ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنمائوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیں جو پارٹی کے آفیشل اکاؤنٹس بشمول ایکس اور فیس بک پر پوسٹ کیے جانے سے پہلے تمام مواد کی جانچ کرے تاکہ اسے فلٹر کیا جا سکے۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد بیرون ملک مقیم افراد کے اثر و رسوخ کو روکنا ہے جو یہ پارٹی اکائونٹس فوج مخالف مہمات کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ سیاسی کمیٹی کا یہ موقف ہے کہ بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے مسلسل فوج اور ریاست مخالف مہمات چلائی جا رہی ہیں جن سے نہ صرف ملکی مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ پارٹی کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے اور مخالفین کی جانب سے اس کے ملک دشمن ہونے کا بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے مابین امدادی کارڈز کی سیاست عروج پر
انصار عباسی کے مطابق اگرچہ عمران خان ماضی میں اپنی پارٹی کے سوشل میڈیا اکائونٹس کا دفاع کرتے رہے ہیں لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے اور پارٹی کی سیاسی کمیٹی میں بھی ان اکائونٹس کے غلط استعمال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ کئی سینئر پی ٹی آئی رہنما ماضی میں بھی ان اکائونٹس کے ذریعے پھیلائے جانے والے مواد پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سیاسی کمیٹی نے باضابطہ طور پر اس معاملے کو بانی کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماضی میں، انفرادی سطح پر پارٹی رہنمائوں نے عمران خان پر زور دیا تھا کہ وہ پارٹی کی سوشل میڈیا پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لیں، لیکن انہوں نے ان لوگوں کیخلاف کبھی کارروائی نہیں کی جن پر بیرون ملک بیٹھے کر ان پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کا الزام ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے تقریباً تمام سرکردہ رہنمائوں بشمول بیرسٹر گوہر خان، علی امین گنڈا پور، سلمان اکرم راجہ، شبلی فراز، جنید اکبر، رئوف حسن، عامر ڈوگر اور اسد قیصر نے کے پی کے ہائوس اسلام آباد اجلاس میں شرکت کے دوران اتفاق کیا کہ پی ٹی آئی کے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایڈیٹوریل کنٹرول ضروری ہو چکا ہے۔
