پی ٹی آئی کی  سیاسی کمیٹی  کی  عمران خان کے خلاف بغاوت

تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ اڈیالہ جیل میں قید بانی چئیرمیں اور پارٹی قیادت کے درمیان فاصلے بڑھنے کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے عمران خان کے خلاف بغاوت کر دی۔ سیاسی کمیٹی نے ضمنی انتخابات اور پارلیمانی قیادت سے متعلق خان کے فیصلے ماننے سے انکار صاف انکار کر دیا اڈیالہ جیل سے آنے والے پیغامات کے برعکس پارٹی نے بائی الیکشن اور اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے معاملے پر آزادانہ حکمت عملی اختیارکرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مبصرین نے سیاسی کمیٹی کے فیصلے کو پی ٹی آئی کے اندر ایک بڑی بغاوت قرار دے دیا ہے جو مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ ناقدین کے بقول پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے فیصلے جہاں ایک طرف پارٹی کو انتخابی میدان میں زندہ رکھنے کی کوشش ہیں، وہیں یہ عمران خان کی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہیں۔تاہم آنے والے ضمنی انتخابات اور پارلیمانی سیاست اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا پارٹی واقعی عمران خان کے بغیر اپنا وزن برقرار رکھ پاتی ہے یا اندرونی بغاوت سے پارٹی مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران خان نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو قائدِ حزبِ اختلاف اور سینیٹ میں اعظم سواتی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی ہدایت دی تھی، مگر سیاسی کمیٹی نے ان فیصلوں کو مؤخر کرتے ہوئے نہ صرف موجودہ اپوزیشن لیڈرز شبلی فراز اور عمر ایوب کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ سینیٹ کی خالی نشستوں پر عمران خان کی تجویز کو بھی نظرانداز کر دیا ہے۔

عمران خان کے واضح احکامات کے برعکس پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلی کی خالی نشستوں پر تحریک انصاف اپنے امیدوار نامزد کرے گی اور ان انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔ اس مقصد کے لیے پی پی-87 سے منزہ فاطمہ اور این اے-66 سے عین احمد کو بطور امیدوار بھی فائنل کر لیا ہے، جبکہ باقی نشستوں پر جلد اعلان متوقع ہے۔ پارٹی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر عمران خان کے فیصلے پر عمل ہوتا تو یہ نشستیں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی آسانی سے آپس میں تقسیم کر لیتیں تاہم اب پی ٹی آئی کے میدان میں آنے کے بعد دونوں جماعتوں کو ضمنی الیکشن جیتنے کیلئے پورا زور لگانا پڑے گا۔

دوسری جانب پارٹی ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل سے عمران خان نے پارٹی قیادت کو واضح  پیغام دیا ہے کہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو ہر حال میں ہرایا جائے گا جس کے بعد سیاسی کمیٹی کے فیصلے سے پارٹی کے بیانیے کو نقصان پہنچے گا۔ عمران خان نے سیاسی کمیٹی سے اپنے فیصلے بارے مزید غور کرنے کا حکم دے دیا ہے بتایا جاتا ہے کہ عمران خان اس صورتحال پر خاصے مایوس ہیں اور انہوں نے قانونی جنگ پر مزید زور دینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

تاہم سیاسی مبصرین اس صورتحال کو پی ٹی آئی کی تاریخ کا اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان کے بغیر پارٹی پہلی بار بڑے فیصلوں میں آزادانہ مؤقف اختیار کر رہی ہے۔ اس فیصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان کے ’ون مین شو‘ کے خلاف پارٹی کے اندر بغاوت پیدا ہو چکی ہے۔ اگر یہ روش جاری رہی تو پی ٹی آئی پر نہ صرف عمران خان کی گرفت کمزور ہوگی بلکہ پارٹی کی شناخت بھی شدید متاثر ہو گی۔ مبصرین کے بقول “پی ٹی آئی کے اس فیصلے نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو قریب لا کھڑا کیا ہے۔ اب وہ ضمنی انتخابات میں مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گی جس سے آنے والے دنوں میں عمران خان کا بیانیہ مزید دباؤ کا شکار نظر آئے گا۔

Back to top button