عمران خان رہائی فورس کے نام پرPTIکی نجی ملیشیا کا قیام

پی ٹی آئی کے مزاحمتی، شدت پسند اورتخریب کاری گروپ نے عمران خان رہائی فورس کے نام پر بنائی جانے والی اپنی نجی ملیشیا سے ملک کی بجائے پارٹی وفاداری کا حلف لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے ’عمران خان رہائی فورس‘ کی تنظیم سازی، رجسٹریشن اور رضاکاروں سے باقاعدہ جماعتی وابستگی کاحلف لینے کے فیصلے نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے بلکہ اس تحریک انصاف کے اس غیر سیاسی اقدام کو ریاستی رٹ، جمہوری اقدار اور قانون کی بالادستی کے لیے بھی ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کی اس نوعیت کی سرگرمیاں سیاسی جدوجہد کو پرامن دائرے سے نکال کر ایک خطرناک رخ دے سکتی ہیں، جس سے نہ صرف پی ٹی آئی کی سیاست کا دھڑن تختہ ہو سکتا ہے بلکہ عمران خان کیلئے ممکنہ سیاسی یا قانونی ریلیف کی فراہمی کی رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ سکتی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں کارکنوں کے اعتماد کو بحال کرنا پی ٹی آئی قیادت کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے پی ٹی آئی کی جانب سے حلف برداری کا یہ عمل پارٹی کے اندر نظم و ضبط قائم کرنے اور کارکنوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا اس کے بعد باقاعدہ احتجاجی کال دی جائے گی یا نہیں، البتہ یہ واضح ہے کہ پارٹی قیادت پر کارکنوں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں پی ٹی آئی لیڈر شپ کسی بھی وقت ملک گیر احتجاج کی کال دے سکتی ہے۔ تاہم عوامی پذیرائی میں کمی کی وجہ سے تحریک انصاف کی جانب سے فوری اس طرح کا کوئی بھی اعلان سامنے آنے کے امکانات کم ہیں۔
دوسری جانب پارٹی کارکنوں نے اپنے ہی منتخب نمائندوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز، ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی سے بھی یہ مطالبہ کر دیا ہے کہ وہ احتجاج کے دوران میدان میں موجود رہنے کا باقاعدہ حلف دیں۔ کارکنان کا مؤقف ہے کہ ہر بار عملی جدوجہد میں ورکرز ہی آگے ہوتے ہیں جبکہ فیصلہ کن لمحات میں قیادت دم دبا کر بھاگ جاتی ہے۔کارکنوں کے مطابق اس بار روایت بدلنے کی ضرورت ہے، اور صرف کارکنوں سے نہیں بلکہ پارٹی لیڈرشپ سے بھی یہ یقین دہانی لی جانی چاہیے کہ وہ مشکل وقت میں ثابت قدم رہے گی اور کسی بھی دباؤ یا صورتحال میں پیچھے نہیں ہٹے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو کارکنوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہتی ہے نہ کہ انہیں تنہا چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے۔
خیال رہے کہ عمران خان کے قریبی ساتھی مراد سعید کی خواہش پر ’’رہائی فورس‘‘ کے قیام کے فیصلے پر پی ٹی آئی میں گروپنگ اور اختلافات موجود ہیں جہاں ایک طرف وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان رہائی فورس کے قیام پر ڈٹے ہوئے ہیں وہیں دوسری جانب پی ٹی آئی چئیرمین گوہر خان نے کسی بھی مسلح فورس یا ملیشیا کی تشکیل کے فیصلے کو غیر آئینی اور غیر قانونی قراردیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف پارٹی کے اندر گروپ بندی کو نمایاں کر رہی ہے بلکہ اس پیشرفت نے قیادت کے درمیان حکمتِ عملی کے اختلاف کو بھی واضح کر دیا ہے، آنے والے دنوں میں اس حوالے سے اختلافات مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عمران خان رہائی فورس کی تشکیل بارے اختلافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی دن رات رہائی فورس کی تشکیل کے حوالے سے میٹنگز کرتے دکھائی دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ عمران خان رہائی فورس لاکھوں افراد پر مشتمل ہوگی جس میں تمام ونگز شامل ہونگے،ہم نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے جا رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں جب عمران خان کی کال آئے تو تمام نوجوان تیار ہوں۔ تاہم پارٹی چئیرمین بیرسٹر گوہر خان نے ان کی منطق کو ماننے سے صاف انکار کرتے ہوئے ایسے کسی بھی فیصلے کی سخت مخالفت کا اعلان کر دیا ہے، بیرسٹر گوہر کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کسی مسلح کارروائی یا ملیشیا رکھنے کی بجائے صرف سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، مسلح کارروائی یا ملیشیا رکھنے پر نہیں۔بیرسٹر گوہر کے بقول کسی بھی ایسے گروہ کا قیام جسے ’’فورس‘‘ کا نام دیا جائے اور جس کے ارکان کسی سیاسی مقصد کے لیے حلف اٹھائیں، اسے غیر آئینی اور غیر قانونی تصور کیا جا سکتا ہے۔ اس نوعیت کا اقدام پارٹی کو نہ صرف قانونی پیچیدگیوں بلکہ محاذ آرائی اور ممکنہ عسکریت پسندی کے الزامات کی زد میں بھی لا سکتا ہے۔ اس لئے وہ عمران خان رہائی فورس کے قیام کی ہر سطح پر ڈٹ کر مخالفت کرینگے، ان کا مزید کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر پہلے ہی مختلف تنظیمی ونگز موجود ہیں، اس لیے نئی فورس کے قیام سے پہلے باقاعدہ مشاورت ناگزیر ہے۔ یوں رہائی فورس کا معاملہ صرف ایک تنظیمی فیصلہ نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اندر اختیار اور حکمتِ عملی کے توازن کا نیا امتحان بن گیا ہے۔
تاہم تمام تر مخالفت کے باوجودوزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عمران خان رہائی فورس کی رجسٹریشن اور حلف برداری کا عمل شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت نے کارکنوں کو نہ صرف ایک باقاعدہ رضاکار فورس تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے بلکہ اس میں شامل افراد سے جماعتی نظم و ضبط کے تحت حلف لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رہائی فورس کیلئے رضاکاروں کی رجسٹریش کا عمل جمعے سے پشاور میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی صدر جنید اکبر کی قیادت میں شروع ہوگا، جہاں رضاکاروں کی رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ ان سے حلف بھی لیا جائے گا۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق رہائی فورس کی رجسٹریشن میں پشاور کے کارکن نمایاں تعداد میں شامل ہوں گے جبکہ پارٹی حکمتِ عملی کے تحت ہر ویلیج کونسل کی سطح پر سینئر کارکنوں پر مشتمل رضاکار فورس تیار کی جا رہی ہے تاکہ احتجاج کو مؤثر بنایا جا سکے۔
