PTI کی احتجاجی تحریک، آغاز سے پہلے ہی انجام کو پہنچ گئی

رمضان اور عید کے وقفے کے بعد پاکستان تحریک انصاف ایک بار پھر سیاسی میدان میں متحرک دکھائی دے رہی ہے،تاہم پارٹی کے اندر بڑھتے اختلافات، قیادت کے درمیان عدم اعتماد اور مختلف دھڑوں کی متضاد حکمت عملی کی وجہ سےپی ٹی آئی کے سڑکوں پر آنے سے پہلے ہی اس کی ممکنہ احتجاجی تحریک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ ایک طرف سہیل آفریدی مزاحمتی سیاست اور بھرپور سٹریٹ موومنٹ کے حامی نظر آتے ہیں، تو دوسری جانب بیرسٹر گوہر سمیت کچھ مرکزی رہنما قانونی اور مذاکراتی راستے کو ترجیح دیتے ہوئے مفاہمتی سیاست کو پروان چڑھاتے دکھائی دیتےہیں جبکہ پارٹی میں جاری اختیارات کی جنگ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق عمران خان کی رہائی کے لیے ممکنہ احتجاجی تحریک نے پارٹی کے اندر موجود دراڑوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جہاں مختلف دھڑے اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ سامنے آ گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق احتجاجی تحریک کے معاملے پر پارٹی قیادت میں پیدا ہونے والی پھوٹ کے بعد پی ٹی آئی کے لیے مستقبل قریب میں کسی بڑی تحریک کا آغاز کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

ایسے حالات میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا واقعی پی ٹی آئی ایک بڑی مزاحمتی تحریک کی جانب بڑھ رہی ہے یا یہ صرف سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہے؟ آیا پی ٹی آئی مستقبل قریب میں کوئی مؤثر اور متحد احتجاجی تحریک کی قیادت کر پائے گی یا اندرونی تقسیم ہی اس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے گی۔مبصرین کے مطابق کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے واضح حکمت عملی اور اندرونی یکجہتی کے بغیر مؤثر احتجاجی تحریک چلانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا موجودہ منظرنامہ اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، جہاں پارٹی کے اندر حکمت عملی کے حوالے سے نمایاں دراڑیں موجود ہیں۔ یہی اختلافات نہ صرف فیصلہ سازی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ ملک گیر سطح پر کسی بھی منظم اور کامیاب احتجاجی تحریک کے امکانات کو بھی کمزور بنا رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق پارٹی کے ایک مضبوط دھڑے کا خیال ہے کہ موجودہ سیاسی حالات فوری اور بھرپور احتجاجی تحریک کے متقاضی ہیں۔ اس سوچ کے حامل رہنما سمجھتے ہیں کہ اگر اس موقع پر دباؤ نہ بڑھایا گیا تو نہ صرف عمران خان کی رہائی کی کوششیں کمزور پڑ جائیں گی بلکہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی حکومت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس گروپ کی جانب سے قیادت پر مسلسل دباؤ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ سڑکوں پر آنے کا واضح اور جارحانہ لائحہ عمل اختیار کرے۔ دوسری جانب پارٹی کی موجودہ صوبائی قیادت نسبتاً محتاط حکمتِ عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتی ہے۔ سٹریٹ مہم کے آغاز کے باوجود اس میں تسلسل برقرار نہ رہ سکا، جس پر تنقید میں اضافہ ہوا۔ رمضان المبارک کے دوران سیاسی سرگرمیوں میں وقفے نے بھی اس تاثر کو مضبوط کیا کہ پارٹی کے اندر سمت کے تعین پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔پی ٹی آئی میں موجود ان اختلافات نے محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی سیاست پر بھی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں حکومتی معاملات سست روی کا شکار ہیں، کابینہ کی تشکیل تاحال مکمل نہیں ہو سکی، اور وزرا کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بیوروکریسی پر بڑھتا دباؤ اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاسی عدم استحکام انتظامی نظام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔

ناقدین کے مطابق اگرچہ عید کے بعد پی ٹی آئی قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے جاری تحریک کو تیز کرنے کا عندیہ دے رہی ہے، تاہم موجودہ اندرونی اختلافات اس تحریک کی سمت اور شدت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں جبکہ ملکی اور علاقائی حالات بھی ایسی کسی بڑی تحریک کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر پی ٹی آئی اس وقت ایک دوہری آزمائش سے گزر رہی ہے۔ایک طرف بیرونی سیاسی دباؤ کی وجہ سے پی ٹی آئی کیلئے سیاسی راہیں مسدود ہوچکی ہیں جبکہ دوسری جانب اندرونی تقسیم نے پارٹی کیلئے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا پارٹی اپنی صفوں میں اتحاد قائم کر کے ایک مؤثر سیاسی حکمتِ عملی اختیار کر پاتی ہے یا یہ اختلافات اس کی سیاسی قوت کو مزید کمزور کر دیتے ہیں اور عمران خان کی رہائی کیلئے چلائی جانے والی کوئی بھی نئی احتجاجی تحریک پی ٹی آئی کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتی ہے۔

پی ٹی آئی ارکان پارلیمنٹ کا سپریم کورٹ کے باہر احتجاج

پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاجی تحریک کے معاملے پر پارٹی قیادت یکسو نہیں ہے اور اس حوالے سے کھلی تقسیم اور اختلافات موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے اندر ایک گروپ مذاکرات کا حامی ہے، جبکہ دوسرا گروپ بھرپور عوامی احتجاجی تحریک کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ بعض اہم رہنما تصادم کے بجائے مذاکرات اور جمہوری راستہ اختیار کرنے کے حق میں ہیں، جبکہ عمران خان کی بہنیں سڑکوں پر مؤثر اور بھرپور احتجاج کی حامی سمجھی جاتی ہیں۔ذرائع کے مطابق علیمہ خان اور سہیل آفریدی پر مشتمل گروپ احتجاج کے حق میں ہے، جبکہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور ان کے ہم خیال رہنما مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

تاہم ناقدین کے مطابق عمران خان کی حالیہ احتجاجی تحریک کا انجام بھی ماضی سے مختلف نہیں ہو گا کیونکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی غیر سیاسی اور غیر سنجیدہ پالیسیوں کی وجہ سے تحریک انصاف پنجاب اور بلوچستان سے بالکل مائنس ہو چکی ہے تاہم سندھ میں اس کے چند نام لیوا موجود ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ماضی قریب میں خبیرپختونخوا کے علاوہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کارکنان کو متحرک کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے، ویسے بھی مسلسل مزاحمتی اور احتجاجی سیاست کی وجہ سے عوام پی ٹی آئی قیادت سے متنفر ہو چکے ہیں اسی لئے تحریک انصاف کی احتجاجی کالز پر سڑکوں پر آنے سے گریزاں ہیں، مبصرین کے مطابق موجودہ ملکی سیاسی حالات میں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے عوام کو سڑکوں پر نکالنے کے دعوے کرنا بہت آسان ہے، لیکن جب ایسا کرنے کیلئے میدان میں اترے گی تو اسے لگ پتا جائے گا کیونکہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحاریک کو کامیاب بنانے والی فیضی امداد کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران کے ریاست مخالف بیانیے نے نہ صرف ان کی رہائی کے تمام ممکنہ راستے مسدود کر دیے ہیں بلکہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور بھی بتدریج ختم کر دی ہے۔ کم ہوتی ہوئی عوامی حمایت کی وجہ سے تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کیلئے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے میں یکسر ناکام دکھائی دیتی ہے۔

Back to top button