پی ٹی آئی کوبدامنی کاادراک ہونامثبت پیشرفت ہے،فضل الرحمان

جےیوآئی کے امیرمولانافضل الرحمان کاکہناہے کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ہٹانےکادرست فیصلہ کیاگیا۔ صوبے میں بدامنی کا ادراک خود پی ٹی آئی کو ہوگیا ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔

تفصیلات کے مطابق علی امین گنڈاپور کوعہدےسےہٹانےکی خبروں پرمولانافضل الرحمان کاردعمل بھی سامنے آگیا۔

مولانافضل الرحمان کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھا کہ خیبرپختونخواکی صورتحال پرگہری نظرہے۔ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے فیصلے کے بعد صورتحال کا بغور جائزہ لے کراسمبلی میں فیصلہ کیا جائے گا اگر صوبے میں بدامنی کا ادراک خود پی ٹی آئی کو ہوگیا ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔صوبے میں بدامنی اورکرپشن عروج پرتھی۔

انہوں نے کہا کہ میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ پی ٹی آئی کے دوست 26ویں آئینی ترمیم سے کیسے پیچھے ہٹ گئے؟ یہ ترمیم 27 صفحات پرمشتمل ہے اوراس پرسینٹ، قومی اسمبلی اور حکومت نے جے یو آئی کی تعریف کی تھی۔

جے یو آئی کے امیر کاکہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے ججوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی بات کر رہے ہیں لیکن وہ آئینی ترمیم کو مشکوک بنا رہے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی مذاکرات کی دعوت دے تو ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وفاق میں پی ٹی آئی، جبکہ کے پی اور بلوچستان میں جے یو آئی کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے، حکومت اس وقت اقلیت میں ہے اورپیپلز پارٹی درحقیقت حکومت کا حصہ نہیں۔

مولانافضل الرحمان نے مزید کہا کہ افغان یا پاکستانی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ اگر حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کوئی غلط فیصلہ کرتی ہے تو جے یو آئی اس کی نشاندہی کرتی رہے گی۔

 

Back to top button