عمران کے انقلابی کامریڈز کی اسلام آباد میں عیاشیاں جاری

 

 

 

ایک طرف قیدی نمبر 804 عمران خان اڈیالہ جیل میں رہائی کے خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھا ہے اور اسے آس ہے کہ جلد اس کے انقلابی کامریڈز بھرپور عوامی مظاہرے کر کے اسے جیل سے باہر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے جبکہ اس کے برعکس عمران خان کی وقتی مقبولیت کو کیش کراکے ایوانوں میں پہنچنے والے اراکین اور پارٹی رہنما اسلام آباد میں احتجاجی آوازیں بلند کرنے کی بجائے عیاشیاں کرنے، سیر سپاٹے کرنے اور تکے پھاڑنے میں مصروف ہیں۔ اکثر شام کو یہ محفلیں وفاقی دارالحکومت کے پر فضا مقام اسلام آباد کلب پولو گراؤنڈ میں جمتی ہیں۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے قلب میں واقع اس سرسبز اور پھولوں سے لہلہاتے کلب میں دو بڑے پولو گراؤنڈز ہیں جہاں روز میچز ہوتے ہیں۔ لیکن یہ صرف پولو کھیلنے یا دیکھنے والوں کے لیے ہی ایک پرکشش مقام نہیں بلکہ شہر اور گرد و نواح کی تقریباً ساری ایلیٹ یہاں سیر کرنے، واک کرنے، خوش گپیاں لگانے، چائے پینے یا باربی کیو سے لطف اندوز ہونے بھی آتی ہے۔ کیونکہ یہاں ایک ٹک شاپ اور مارکی کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ بھی ہے۔ یہی ریسٹورنٹ آج کل زیادہ تر پی ٹی آئی رہنماؤں کا مسکن ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اسلام آباد کلب پولو گراؤنڈ میں ہی پی ٹی آئی کے کئی معروف بے فکرے چہرے خوش گپیاں کرتے اور سیر و تفریح کرتے دیکھے گئے ہیں ۔ جس روز نیلی ٹی شرٹ میں پی ٹی آئی کے ’’انقلابی رہنما‘‘ کی پژمردہ تصویر منظر عام پر آئی، اس شام بھی پی ٹی آئی کے کئی انقلابی کامریڈز  کے قہقہے کلب میں گونج رہے تھے۔ عمران خان کی گرفتاری کو ریڈ لائن قرار دینے والوں کی زیادہ تر بیٹھک مارکی ریسٹورنٹ میں ہوتی ہے۔ جہاں واک سے پہلے یا کبھی واک کے بعد یہ رہنما چکن تکہ، کباب، مٹن کڑھائی اور دوسرا پرتکلف کھانا تناول فرماتے نظر آتے ہیں۔

 

خیال رہے کہ گزشتہ برس اگست میں جیل جانے کے بعد سے عمران خان کو اوپر تلے مایوسیوں نے گھیرا ہوا ہے۔ پہلے ان کی پارٹی کے تقریباً تمام صف اول کے رہنما ساتھ چھوڑ گئے اور اب جو ساتھ ہیں اور ان کے نام پر ووٹ لے کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں، وہ اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ ان کی وفاداری اور خلوص کا واحد سبب عمران خان کی نام نہاد مظلومیت کو پڑنے والے ووٹ کا حصول تھا اور یہ مقصد وہ حاصل کرچکے ہیں۔ لہٰذا بظاہر وہ اب عمران خان کی قید سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔اسی طرح جو وکلا پہلے عمران خان پر جان نچھاور کرنے کے دعوے کیا کرتے تھے، انہوں نے پہلے بھاری فیس لے کر اپنی جیب بھری اور انتخابی ٹکٹ الگ حاصل کئے۔ ان میں سے کچھ جیت گئے اور بعض ہار گئے۔ اس کے ساتھ ہی ان کا جوش بھی ٹھنڈا پڑگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے جیل جانے کے بعد سے ان کی شدید خواہش کے باوجود پی ٹی آئی کوئی بڑا مظاہرہ نہیں کرسکی ہے۔ اس کا بنیادی سبب پارٹی قیادت کی عدم دلچسپی ہے۔ وہ بظاہر عمران خان کو رہائی دلانے کے لئے مسلسل بڑے عوامی مظاہروں کے دعوے تو کر رہے ہیں، لیکن عملی طور پر کارکنوں کو باہر نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ انہیں ایوان میں پہنچنا تھا، عہدے اور مراعات لینی تھیں، وہ انہیں مل چکی ہیں۔ اب ان کی بلا سے ’’انقلابی لیڈر‘‘ جیل میں ڈپریشن کی گولیاں کھاتا رہے یا جیل عملے پر چیختا چلاتا رہے انھیں کیا فرق پڑتا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹوں پر ایوانوں میں پہنچ کر مراعات حاصل کرنے والوں کی کارکردگی پر عمران خان سخت رنجیدہ ہیں۔ عمران خان کا خیال تھا کہ الیکشن کے بعد سنگل اکثریتی پارٹی بن جانے کے بعد ان کے نام پر ایوانوں میں پہنچنے والے ایک بھونچال لے آئیں گے۔ تاکہ ان کی رہائی کے لئے حکومت پر دبائو ڈالا جاسکے۔ لیکن تاحال ان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ہے۔

Back to top button