صحافیوں کو سزا کے بعد PTI کا سوشل میڈیا بریگیڈ خوف کا شکار

ڈیجیٹل دہشت گردی کے الزام میں تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ سے منسلک چار پاکستانی صحافیوں سمیت چھ افراد کو دو، دو مرتبہ سخت سزاؤں کے عدالتی فیصلوں کے بعد تحریکِ انصاف کے آن لائن کارکنان اور ٹرول نیٹ ورکس میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ پارٹی قیادت پر یہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ فوج مخالف بیانیے سے پیچھے ہٹا جائے۔ تاہم اس تجویز پر عمل درآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ تحریکِ انصاف کا وہ سوشل میڈیا بریگیڈ ہے جو اب عملاً پارٹی قیادت کے کنٹرول سے باہر ہو چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحریکِ انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ بنیادی طور پر امریکہ سے آپریٹ کرتا ہے اور اس کی نگرانی براہِ راست عمران خان کی شدت پسند ہمشیرہ علیمہ خان کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے پارٹی کے اندر موجود معتدل حلقوں کی کوششوں کے باوجود فوج مخالف اور ریاستی اداروں کے خلاف سخت بیانیہ ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ پیش رفت سامنے نہیں آ رہی۔ بیرونِ ملک بیٹھے اس سوشل میڈیا نیٹ ورک نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر خود کو ایک آزاد اور طاقتور پلیٹ فارم کی صورت دے دی ہے، جو نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ خود تحریکِ انصاف کی سیاسی حکمتِ عملی کے لیے بھی ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔
سونے پر سہاگہ یہ کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان پارٹی کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی نگران ہیں اور وہ بھی فوج مخالف بیانیے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ علیمہ خان اس وقت بھی حکومت اور عمران کے مابین مجوزہ مذاکراتی عمل کی کھل کر مخالفت کر رہی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت سے مذاکرات کرنے والا پارٹی کا ہر لیڈر غدار قرار دے دیا جائے گا۔ ناقدین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ تحریکِ انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ فوج مخالف اور انتہا پسندانہ بیانیے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، حالانکہ پارٹی کے اندر سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ یہ رویہ عمران خان کی رہائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی سازش کے الزام میں تحریکِ انصاف سے وابستہ رہنماؤں اور کارکنان کو سزائیں سنائے جانے کے بعد اب فوج مخالف سوشل میڈیا بریگیڈ سے منسلک مفرور پاکستانی صحافیوں کو بھی ڈیجیٹل دہشت گردی کے مقدمات میں دو، دو بار سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں دائر مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اشتہاری قرار دیے گئے چھ افراد معید پیرزادہ، وجاہت سعید خان، صابر شاکر، شاہین صہبائی، میجر عادل راجہ اور حیدر مہدی کو ڈیجیٹل دہشت گردی پر اکسانے کے الزام میں سزا سنائی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ان افراد نے سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور آن لائن پروگراموں کے ذریعے افواجِ پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز مواد پھیلایا، جس کے نتیجے میں عوامی ردِعمل شدت اختیار کر گیا اور ملک کے مختلف حصوں میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ مواد عمران کی گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اور اس سے قبل مسلسل نشر اور شائع کیا گیا، جس نے مظاہرین کو فوجی تنصیبات پر حملوں، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنے پر اکسایا۔ یاد رہے کہ سزا پانے والے سبھی لوگ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا برگیڈ سے لائن لے کر چلتے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف کا بیرونِ ملک سے آپریٹ ہونے والا سوشل میڈیا بریگیڈ بے لگام ہونے کے باعث پارٹی اور عسکری قیادت کے درمیان خلیج میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ کر رہا ہے، جس سے عمران خان کی رہائی کی امیدیں بھی ماند پڑتی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی اس وقت ایسی سیاسی دلدل میں پھنس چکی ہے جہاں ایک طرف ریاستی اداروں سے کشیدگی ہے اور دوسری طرف اپنا ہی سوشل میڈیا نیٹ ورک قیادت کے لیے ناقابلِ کنٹرول بن چکا ہے۔
سہیل وڑائچ کا تحریک انصاف کے بھگوڑے یوٹیوبرز کو رگڑا
تحریکِ انصاف کے معتدل رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اگر عمران خان کو جیل سے باہر لانے کا کوئی عملی راستہ موجود ہے تو وہ فوج مخالف بیانیے کے خاتمے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ و حکومت کے ساتھ مذاکرات کے آغاز سے ہو کر گزرتا ہے۔ تاہم پارٹی کے اندر موجود سخت گیر عناصر اور سوشل میڈیا بریگیڈ کی مزاحمت کے باعث یہ مؤقف اب تک فیصلہ کن شکل اختیار نہیں کر سکا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان خود ذہنی طور پر اس بات کے لیے تیار ہیں کہ وہ اپنی سوشل میڈیا طاقت کو محدود کریں، خصوصاً جب وہ ماضی میں اسی پلیٹ فارم کو اپنی سب سے بڑی سیاسی قوت اور مخالفین کے خلاف مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق عمران خان کے سیاسی سفر میں سوشل میڈیا کو ججوں، سرکاری افسران، صحافیوں، سیاسی مخالفین اور حتیٰ کہ عسکری قیادت کے خلاف بھی بھرپور انداز میں استعمال کیا گیا اور وقتی طور پر سیاسی فائدہ بھی حاصل ہوا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ اب یہی سوشل میڈیا ان کے لیے سب سے بڑا بوجھ بن چکا ہے، جو اگر قابو میں نہ آیا تو ان کے سیاسی مستقبل کے لیے فیصلہ کن نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
