امریکہ کا وینزویلا پر حملہ کیا منشیات سمگلنگ روکنے کے لیے ہے؟

ایک جانب امریکہ نے وینزویلا پر فوجی حملہ کر کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کے بعد یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی منشیات سمگلنگ کے دھندے میں ملوث تھے، تو دوسری جانب وینزویلا کے وزیر دفاع نے امریکی کارروائی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس حملے کا بنیادی مقصد وینزویلا کے تیل کے ذخائر اور قیمتی معدنی تنصیبات پر قبضہ کرنا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی ہے، جسکے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے وینزویلا اور اس کی قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے ایک وسیع فوجی آپریشن کیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی ایلیٹ سپیشل فورس یونٹ، ڈیلٹا فورس، نے صدر مادورو کی گرفتاری کا آپریشن انجام دیا۔ اس کارروائی کے دوران وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ متعدد مقامات پر فضائی حملے کیے گئے۔ وینزویلا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ امریکی حملے کاراکاس، میرانڈا، آراگوا اور لاگویرا ریاستوں میں ہوئے۔
یاد رہے کہ امریکی انتظامیہ طویل عرصے سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وہ ایک بین الاقوامی منشیات سمگلنگ نیٹ ورک کی قیادت کر رہے ہیں اور ان گروہوں سے روابط رکھتے ہیں جنہیں امریکہ دہشت گرد تنظیمیں قرار دیتا ہے۔امریکی حکام کے مطابق صدر مادورو کے خلاف امریکہ میں پہلے ہی مجرمانہ مقدمات قائم ہیں اور انہیں وہاں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم صدر مادورو ان تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں اور انہیں سیاسی سازش قرار دیتے رہے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق مادورو کو امریکہ میں مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنا ہوگا، تاہم امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد وینزویلا میں مزید کسی بڑے فوجی اقدام کا ارادہ نہیں ہے۔ یہ فوجی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ کئی مہینوں سے امریکہ نے کیریبین خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر رکھا تھا۔ امریکہ نے وینزویلا کے ساحل کے قریب دنیا کے سب سے بڑے اور جدید ترین طیارہ بردار جنگی بحری جہاز تعینات کیے تھے، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔ امریکہ نے حالیہ ہفتوں کے دوران وینزویلا کے قریب دو تیل بردار جہاز بھی تحویل میں لیے، جبکہ انتظامیہ کے مطابق منشیات سے بھری کشتیوں پر حملوں میں 75 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے ان بندرگاہی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جہاں منشیات لدی کشتیاں روانہ کی جاتی تھیں۔
دوسری جانب وینزویلا پہلے ہی کسی ممکنہ حملے کی تیاری کر رہا تھا۔ وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو لوپیز نے نومبر کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ ملک بھر میں زمینی، بحری، فضائی، دریائی اور میزائل افواج کے ساتھ ساتھ سویلین ملیشیاؤں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کی جا رہی ہے تاکہ صدر نکولس مادورو کی حکومت کو درپیش خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے ایک پیغام میں کہا تھا کہ صدر مادورو نے تقریباً دو لاکھ فوجیوں کو آپریشنل تیاری کی حالت میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ان تمام تیاریوں کے باوجود یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ آیا وینزویلا کی افواج دنیا کی جدید ترین اور طاقتور امریکی فوج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا نہیں۔ فوجی ماہرین کے مطابق امریکی فضائی اور بحری برتری کے باعث وینزویلا کے لیے براہِ راست مزاحمت انتہائی مشکل ہو سکتی ہے۔
وینزویلا کی حکومت نے امریکی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی فوجی جارحیت قرار دیا ہے۔ وینزویلا کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا اصل مقصد منشیات کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ ملک میں موجود تیل کے ذخائر اور قیمتی معدنیات کی کانوں پر قبضہ حاصل کرنا ہے۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ وینزویلا کے وسائل پر قبضہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا اور ملک اپنی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ امریکی حملوں کے بعد وینزویلا میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔ روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ صدر مادورو صدارتی محل چھوڑ چکے ہیں۔ کولمبیا کے صدر نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ کاراکاس پر میزائل داغے جا رہے ہیں اور اس صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث بن گئی ہے، جہاں امریکہ اور وینزویلا کے درمیان اس تصادم کے خطے اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
