پی ٹی آئی کی شرائط مذاکرات نہ کرنے والی بات ہے، وزیر دفاع

وزیردفاع خواجہ آصف نےکہا ہے کہ تحریک انصاف کی شرائط ایسی ہیں کہ مذاکرات ہی نہ کیےجائیں۔
نجی ٹی وی سےگفتگو کرتےہوئےوزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی شرائط مذاکرات نہ کرنے والی بات ہے،نہیں معلوم پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم کو بانی کی طرف سے یہ مینڈیٹ دیا گیا ہےیا پھر نہیں؟
خواجہ آصف نے کہا کہ ہمیں مذاکرات کےمعاملے پرمحتاط رہتےہوئےپر پی ٹی آئی سے امید رکھنی چاہیے،ان کیساتھ فوری بہت زیادہ امیدیں وابسطہ نہیں کرنی چاہیں۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے بہت سنجیدہ لوگ مذاکراتی ٹیم میں شامل ہیں، اسپیکر ایاز صادق ان تمام معاملات کو آگےلےجانے کی کوشش کررہے ہیں۔
خواجہ آصف نے کہاکہ پاکستان اپنے اندورنی معاملات میں کسی قسم کی بین الاقوامی مداخلت قبول نہیں کریگا اور نہ ہی کسی کی ڈکٹیشن لی جائے گی۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہماری اندرونی سیاست میں مداخلت کرے،امریکا میں کیا ہوتا ہے ہم نے کبھی بات نہیں کی، وہاں بھی سیاسی روایات کچھ اچھی نہیں ہیں۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی بے صبری دیکھیں، یہ ہمارے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ پارلیمنٹ میں تقریباً 34 سال ہوگئے ہیں اگر لیڈرشپ نے اجازت دی تو سیاست کو ضرور خیرباد کہہ دوں گا۔انہوں نے کہا کہ میں مذاکرات کے خلاف نہیں ہوں، میں بار بار پوچھ رہا ہوں کہ جو شخص ہم سے ہاتھ نہیں ملانا چاہتا تھا اس کو اب کیا ہوا ہے؟ اس شخص میں یہ تبدیلی کس طرح آئی ؟ یہ مکمل یوٹرن ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ مجھے پی ٹی آئی میں سنجیدگی کی کمی نظر آرہی ہے، میری دعا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں، میں 100 فیصد مذاکرات کے حق میں ہوں، ان کی بے صبری دیکھیں، پی ٹی آئی ہمارے ذریعے اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہے، میں نہیں کہہ رہا کہ مذاکرات نہ کریں لیکن محتاط ضرور رہنا چاہیے۔
خواجہ آصف کاکہنا تھاکہ پی ٹی آئی آج بھی لگی ہوئی ہے لوگ باہر سے پیسے نہ بھیجیں، بیرون ملک پاکستانی اپنے وطن پیسے بھیجتے ہیں، میرے لیے یا پی ٹی آئی کیلئے نہیں بھیجتے، بانی پی ٹی آئی مینڈیٹ والی بات سے بھی پیچھے ہٹے ہیں، دیکھیں گے کہ پی ٹی آئی کے دو مطالبات پر کیا ہوتاہے۔
وزیردفاع نےمزید کہا کہ بائیڈن انتظامیہ صیہونی ریاست کے زیادہ زیر اثر تھی، ہمیں اپنے دفاع کا مکمل حق ہے، ایٹمی اور میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔
