احتجاج میں عوامی شرکت کم ہونے پر عمران خان سے بات کروں گا: سلمان اکرم راجہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ گزشتہ روز کے احتجاج میں عوامی شرکت کم ہونے پر وہ پارٹی قیادت اور چیئرمین عمران خان سے بات کریں گے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو کیس کا ٹرائل مکمل طور پر غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سائفر کیس میں بھی میڈیا، وکلا اور اہل خانہ کو عدالت میں داخلے سے روک دیا گیا، جو ہائی کورٹ کی واضح ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔ ان کے بقول، اگر متعلقہ افراد کو رسائی نہ دی جائے تو یہ اوپن ٹرائل نہیں کہلا سکتا۔
سلمان اکرم راجہ نے اعتراف کیا کہ احتجاج بہتر ہو سکتا تھا، اور عوامی شرکت کم رہی۔ انہوں نے کہا "میں سمجھتا ہوں کہ کل کا دن بڑی حد تک کامیاب رہا، لیکن احتجاج اس سے بہتر ہو سکتا تھا اور آئندہ بہتر ہوگا۔ لوگ کیوں نہیں نکلے، اس پر پارٹی میں اور عمران خان سے مشاورت کریں گے۔”
5 اگست کا احتجاج کامیاب ہوا : بیرسٹر گوہر
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ "میں اور محمود خان اچکزئی کل رات 11 بجے تک عمران خان کی بہنوں کے ساتھ چکری انٹرچینج پر موجود رہے۔ اگر عمران خان کی کال پر بھی کوئی ایم این اے شریک نہیں ہوتا، تو اسے معقول وجہ دینی پڑے گی۔”
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے احتجاج کو مکمل طور پر کامیاب قرار دیا ہے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق "ملک بھر کے 170 اضلاع، تمام تحصیلوں اور یونین کونسلز میں بھرپور احتجاج ہوا۔ عوام نے واضح کر دیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
