سزا دینی ہے تو دس بار دیں لیکن ٹرائل تو کریں،ایمان مزاری کے وکیل کے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل

اسلام آباد ہائیکورٹ میں متنازع ٹوئٹس کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے وکیل نے اہنے دلائل میں کہا ہے کہ سزا دینی ہے دس بار دیں لیکن ٹرائل تو کریں۔

تفصیلات کے مطابق  اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹوئٹس کیس میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں پر عدالت نے نوٹس جاری کر دیئے۔

عدالت نے دونوں ملزمان کی سزا معطلی کی درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے جواب طلب کر لیا۔

سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے فیصل صدیقی، زینب جنجوعہ اور دیگر وکلا پیش ہوئے۔ فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس کی منتقلی کی درخواست ابھی زیرِ غور تھی کہ ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو گواہوں کے بیانات ملزمان کی عدم موجودگی میں قلمبند کیے گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حیران کن طور پر فیصلہ جاری ہونے کے بعد ٹرائل جج نے اس میں شامل ایک پیراگراف حذف کر دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر سزا دینا مقصود ہے تو دی جائے، مگر مکمل اور منصفانہ ٹرائل ضرور کیا جائے۔

دورانِ سماعت جسٹس محمد آصف نے ریمارکس دیے کہ نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور پیپر بکس طلب کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر فیصل صدیقی نے استدعا کی کہ سزا معطلی کی درخواست پر جلد سماعت مقرر کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ کراچی سے پیشی کے لیے آتے ہیں، اس لیے تاریخ اس انداز میں دی جائے کہ ایک ہی دن میں کارروائی مکمل ہو سکے۔

جسٹس محمد آصف نے دریافت کیا کہ وہ کب دستیاب ہوں گے، جس پر فیصل صدیقی نے پیر یا منگل کی تاریخ تجویز کی۔ عدالت نے یقین دہانی کرائی کہ مناسب تاریخ مقرر کر دی جائے گی۔

Back to top button